عاصم بخاری کی شاعری کا ایک اہم موضوع:پاکستانیت
تجزیہ کار
(راحت امیر نیازی)
عاصم بخاری کثیر الجہات شخصیت اور شاعر ہیں ۔اگر ان کی شاعری کا موضوعاتی حوالے سے جائزہ لیا جائے تو ان کی شاعری میں موضوعاتی و اسلوبیاتی تنوع پیا جاتا ہے۔ان کے ہاں مقامیت بھی ہے ۔ آفاقیت بھی جھلکتی ہے۔ مشرقیت بھی ہے۔ان کا مرغوب میدان اور اہم موضوع پاکستانیت ہے۔اس عنوان سے ان کے متعدد اشعار ملتے ہیں جو ان کی حُب الوطنی پر بھی دال ہیں۔اور شاعرانہ قدرت کی مثال و دلیل بھی۔
عاصم بخاری کے ہاں قوت ِ مشاہدہ اپنے کمال پر ہے۔ خالقِ لوح و قلم نے انہیں دیکھنے والی آنکھ عطا کی ہے۔اور واقعی۔۔۔ تیرگی میں دیکھنے کو چشم ِ بینا کے مصداق ان کا شعر دیکھیں۔جس میں وہ پاکستانیوں کو دعوت ِ عمل دے رہ ہیں۔
ہیں خزانے بخاری جی ان میں
کب نکالو گے تم پہاڑوں سے
اسی شعر کا ایک اور انداز دیکھیں۔
ہیں خزانے کئی پہاڑوں میں
کب تلاشو گے تم بخاری جی
۔۔۔۔
پاکستان پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہے۔کلمہء طیبہ کے نام پر وجود میں آنے والے ملک کو خالق نے کس کس نعمت سے نہیں نوازا۔ یہ بنیادی اور فطری و قدرت طور پر ایک زرعی ملک ہے۔لیکن بخاری صاحب اپنے ہم وطنوں سے نالاں ہیں کہ” حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا” کے مترادف ہمیں زراعت کے حوالے سے جس قدر دل چسپی لینے کی ضرورت ہے۔برا نہ لگے تو اس قدر محنت نہیں کی جا رہی بہت سی اراضی کاشت کاری کی منتظر ہے۔
ملک زرعی ہے یہ بخاری جی
آپ فصلیں نہیں اگاتے کیوں
۔۔۔۔۔
وطن ِ عزیز کے ہر نوجوان کے دل میں امنگیں ہیں ارمان ہیں خواہشات ہیں۔جن کی تکمیل کے خواب تعبیر چاہتے ہیں بخاری صاحب بھی اسی خواب کی تعبیر خوش حالی کے خواہاں ہیں۔
خواب پورے ہوں نوجوانوں کے
مجھکو خوش حال ہر نظر آئے
۔۔۔۔۔
ہماری مٹی انتہائی زرخیز ہے اور ہر قسم کی فصل اور پھل پیدا کرنے کی فضا سازگار ہے تبھی تو بہت حد تک استفادہ کیا جاتا ہے مگر بخاری صاحب مزید محنت و کوشش کےخواہاں ہیں۔
ملک زرعی ہے یہ بخاری جی
فصلیں ساری اگائی جاتی ہیں
۔۔۔۔۔
پاکستان نام کی تاثیر ہے کہ عاصم بخاری کو اپنی دھیرتی پر خیر کی بالادستی نظر آتی ہے۔حقیقت پسند ہیں ۔ظاہر ہے ہر معاشرے میں خیر ساتھ ساتھ شر سے بھی ان کوانکار نہیں مگر ان کی نظر میں خیر کا پڑا بھاری ہے۔جوکہ خوش آیند بات ہے اور آنےوالے کل سے بھی یہی بہتری کی امید رکھتے ہیں۔
جذبہ زندہ ہے خیر کا اب بھی
کام آتے ہیں لوگ لوگوں کے
۔۔۔۔۔
عاصم بخاری کی سوچ اور اپروچ جدید اور سائیٹفک ہے۔وہ دور کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ ہنر مندی پر زور دیتے ہیں کہ کا دور ہر نوجوان سے ہنر مندی کا متقاضی ہے۔
بے ہنر ہو نہ کوئی بھی عاصم
ٹیکنیکل جوان سارے ہوں
۔۔۔۔
پاکستانیت کی خوبیوں میں سے خاندانی نظام اور مرکزیت بہت بڑی خوبی ہے ۔دنیا کا نظام فرد کےگرد گھوم رہا ہے جب کہ پاکستان کا خاندانی نظام تا حال قائم ہے۔عاصم بخاری کی خواہش ہے یہ خوب صورت نظام دائم رہے۔جس کا اپنا حسن اور ضرورت ہے۔
خاندانی نظام ہے اس میں
مل کے آپس میں لوگ رہتے ہیں
۔۔۔۔۔۔
عاصم بخاری کو پاکستانی بھائی چارہ کی فضا متاثر کرتی ہے۔جسے مزید مضبوط کرنے کی شدت سےضرورت محسوس کرتے ہیں۔
لا الہ والا ملک ہے عاصم
بھائی چارے کا دور دورہ ہے
۔۔۔۔۔
دنیا کے اندر اولڈ ہاوس قائم ہو رہے ہیں مگر الحمد للہ پاکستان میں بزرگوں کا احترام لحاظ اور خیال ابھی روایتی انداز میں قائم ہے۔جس پر عاصم بخاری نازاں دکھائی دیتے ہیں۔
لا الہ والا ملک ہے عاصم
احترام اس میں ہے بزرگوں کا
۔۔۔۔
وطن ِ عزیز میں دنیا کی طرح ہزار تبدیلیاں آ جانے کے باوجود ملک کےہر کونے میں عورت کا احترام بدستور موجود ہے۔
لا الہ والا ملک ہے عاصم
احترام اس میں عورتوں کا ہے
۔۔۔۔۔۔۔
اسلامی اور جمہوری ملکوں کی یہ شان اور پہچان میں ہوتا ہے کہ وہاں کے باشندوں کو یہ حق حاصل ہو۔یہاں بھی ذہنی بلوغت کے ساتھ اعتدالی انداز میں ضرور ہونا چاہیے۔
ملک جمہوری ہے بخاری یہ
اس میں آزادی رائے کی ہو گی
۔۔۔۔۔۔
اگر وطن ِ عزیز کے سبز ہلالی پرچم پر غور کیا جائے تو یہ اس بات کا مظہر ہے کہ سبز گنبد والے کے پیروکاروں کے دیس میں ہریالیاں اور خوش حالیاں لازمی ہونی چاہیں۔نظر دل اور دماغ کی طراوت و تازگی کے لیے عاصم بخاری مزید ہریالیوں کے طالب ہیں۔
یہاں ہر یالیاں ہوں گی بخاری
بلاتا ہے ہلالی سبز پرچم
۔۔۔۔۔
عاصم بخاری کو ناز اور مکمل یقین ہے کہ لاالہ کی بنیاد پر قائم ہونے والا ملک ہمیشہ لا الہ کے کے سائے میں مزید ترقی کرے گا۔
پاک تیرے وطن پہ عاصم جی
سایہ ہے لا الہ کے پرچم کا
۔۔۔۔۔۔
حب الوطنی سے سرشار ملک کے سبھی باشندوں کے جذبہء ایمانی کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملک کا بچہ بچہ اپنے دیس پر قربان ہونے کا مثالی اور دیدنی جذبہ رکھتا ہے۔
فوج ہی اک نہ سارے باشندے
پاک دھرتی کے سب سپاہی ہیں
۔۔۔۔۔۔
ہم وطنوں کی شجاعت کا اعتراف کچھ اس انداز میں کرتے ہیں۔
بارہا جس نے کر دیا ثابت
سر زمیں ہے بہادروں کی یہ
۔۔۔۔
وطن کے جوانوں سے بخاری کو محبت ہے۔جن کے بارے نیک جذبات و خواہشات کچھ یوں رکھتے ہیں۔
نظر ِ بد سے بچے رہیں شالا
کیا سجیلے جوان ہیں میرے
۔۔۔۔۔۔۔۔
بخاری صاحب اگرچہ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ "ہر مُلک مِلک مااست” لیکن وہ چاہتے ہیں کہ روزگار کےحوالے سے ہم خود کفیل ہوتے۔دوسرے ممالک کے لوگ یہاں روزگار کے لیے آتے۔جب کہ ہمارے جوانوں کو پرائے دیسوں میں جانا پڑتا ہے۔
جانا پردیس کس لیے پڑتا
دیس میں روز گار ہوتا تو
۔۔۔۔۔
وطن ِ عزیز کے وسائل اور مسائل کےتناسب میں بگاڑ دکھائی دیتا ۔آبادی زیادہ ہو چکی ہے۔روزگار کے مواقع کم پڑتے جا رہے ہیں۔جنہیں مزید بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ضرورت ہے۔
دُکھ تو ہوتا بہت بخاری جی
دیکھ بے کار نو جوانوں کو
۔۔۔۔۔۔
بخاری صاحب کے ہاں دھیمے انداز میں دھرتی ماں سے اپنے رویے میں نرمی اور ممتا جیسی شفقت کی استدعا بھی ملتی ہے۔
ماں کے جیسے بخاری دھرتی بھی
سنتے تھے ہم یہ پیار دیتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔
بخاری صاحب دھرتی ماں سے اپنے رویے پر مشفقانہ اور ہمدردانہ غور کی اپیل بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
دھرتی ماں سے گلہ ہے تو اتنا
ماں کے جیسے خیال بھی رکھتی
۔۔۔۔۔
تعلیم اب عام ہوچکی ہے جو کہ خوشی کی بات ہے۔مگر وہ چاہتے ہیں کہ یہ نوجوان خوش حال اور باروزگار بھی ہوتے۔ان کا معیار ِ زندگی بلند ہوتا۔
جتنے عاصم پڑھے لکھے پھرتے
اس قدر روز گار بھی ہوتا
۔۔۔۔۔
اپنے دیس میں ماں باپ کی آنکھوں اور سائے میں جوان پلتے پھولتے اور پھلتے۔
جانا باہر کسی کو نہ پڑتا
کارو بار ہوتا دیس میں اتنا
۔۔۔۔۔۔
جوانوں کو روزگار کے سلسلہ میں پرائے دیس جاتے دیکھ کر بخاری کا دل کُڑھتا ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے وطن کی خدمت کرتے۔
ہے دُکھ کی بات عاصم اس شجر سے
پرندے کوچ کرتے جا رہے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب مسلمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ کوحاضروناظر ماننےوالے ہیں۔ ان کے دیس میں تو کیمروں کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے مگر طنزا” افسوس۔۔۔
لا الہ والا ملک ہے اس میں
کیمرے تو کہیں نہیں ہوں گے
۔۔۔۔۔۔
لوگ مل کے رہیں محبت سے
خواب تعبیر میرا یہ پائے
۔۔۔۔۔
عاصم بخاری اس ملک پر مزید اللہ تعالیٰ کے خاص کرم اور عنایت کے خواہاں ہیں۔
لا الہ والا ملک ہے اس پر
آپ ہی خاص رحم فرمائے
۔۔۔۔۔۔
ایک اسلامی ملک میں مساوات اخوت بھائی چارے کا مزید فعوغ عاصم بخاری کی دلی خواہش ہے۔
لا الہ والاملک ہے لیکن
ایک ہی صف میں سب نہیں دِکھتے
۔۔۔۔
عاصم بخاری کو وطن ِ عزیز کے جوہری ملک ہونے پر خوشی ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ اس جوہری طاقت کو مثبت کاموں میں استعمال کرکے مزید روش پاکستان بنایا جائے۔
جوہری ملک تو بخاری جی
کام لیتے ہیں کتنے طاقت سے
۔۔۔۔۔۔
عدالتی نظام کی سست روی پرحیراں دکھائی دیتے ہیں کہ ایک اسلامی جمہوری اور نظریاتی ملک میں تو انصاف کی فراہمی میں اس قدر تاخیر دعوت فکر دیتی ہے اور ای لمحہء فکریہ ہے۔
وہ بھی کیا دور تھا بخاری جب
ملتا انصاف تھا عدالت میں
۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کو آئےروز ہر سال سیلابوں کے عذابوں کا سامنا رہتا ہے۔جس پر انہیں تشویش ہے۔ آج کے دور میں ایسے ناقابل ِ تلافی نقصان بار بار اور ہرسال اٹھانا حیرت سےخالی نہیں۔
ایک مدت ہوئی بخاری جی
پالا سیلابوں سے ہمارا ہے

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |