عاصم بخاری کی شاعری کا معاشرتی رویوں کے تناظر میں جائزہ
۔۔۔۔۔۔
تجزیہ کار
(راحت امیر نیازی میانوالی)
شاعر تقریبا” زیادہ تر موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔جن میں زندگی اور انسانوں کے سماجی معاشی معاشرتی اخلاقی نفسیاتی اور عمرانی پہلووں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ عاصم کی شاعری کا اگر تجزیاتی مطالعہ کیا جائے تو ان کے موضوعات دیگر شعرا کے مقابل میں زیادہ مختلف اور متنوع ہوتے ہیں۔یہ سماج کا عمیق مشاہدہ رکھتے ہیں۔یہ عوام میں رہتے اور ان کے رویوں کا بہ غور مطالعہ کرتے ہیں اور پھر ان محسوسات کو نظم و نثر ہر دو اصناف ِ ادب میں بڑی مہارت سے انتہائی موثر انداز قرطاس کی زینت بناتے ہیں۔ان کے ہاں مثبت و منفی دونوں صورتوں کو احاطہ بڑی خوب صورتی سے تقابلی انداز میں ملتا ہے۔جس سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ہمارے رویوں میں تناسب و اعتدال کی ضرورت ہے۔
ہمارے معاشرے میں بہت سی خوبیاں ہیں مشرقی اور اسلامی روایات کے اثرات ہمارے لوگوں پر واضح اور نمایاں دکھائی دیتے ہیں جس کی ایک مثال روزمرہ میں دکھائی دیتی ہے۔
شعر
لا الہ والا مُلک ، ہے عاصم
احترام اس میں ہے بزرگوں کا
بالکل اسی بات کے تسلسل میں میں عاصم بخاری ایک اور سماجی و معاشرتی مثبت رویے کو اپنے شعر کا موضوع بناتے ہیں کہ مغرب کے مقابلے میں ہمارے مشرقی سماج میں عورت کا مقام اور احترام واضح اور نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ جسے وہ شعری روپ میں یوں نبھاتے ہیں۔
لا الہ والا مُلک ، ہے عاصم
احترام اس میں عورتوں کا ہے
۔۔۔۔۔
عاصم بخاری ہمیں اپنی شاعری مں اپنی سابقہ رویات تاریخ اور تہذیب کے ساتھ جوڑتے ہوئے آج کے معاشرہ سے موازنہ کرتے ہوئے بہت سے سوالات کے جوابات قارئین پر چھوڑ جاتے ہیں کہ آج ہمارے ہاں چادر اور چار دیواری کے تقدس و احترام کا معاملہ بالکل برعکس ہے جو کہ انتہائی افسوس ناک ہے۔
چار دیواری کا بخاری جی
کس قدر احترام ہوتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔
اگر چہ زمانہ بڑی تیزی کے ساتھ کروٹ بدل رہا ہے مگر”ابھی کچھ لوگ ایسے ہیں جہاں میں” جو خاندانی وقار اور پاس ابھی معاشرے میں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اور اپنی خاندانی شرافت نجابت اور روایت کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔
نیچی رکھتا ہے نگہ اپنی وہ اس لیے
عاصم وہ اک شریف گھرانے کا فرد ہے
۔۔۔۔۔
تعلیم بڑی چیز ہے معاشرے میں مثبت تبدیلی لاتی ہے۔مرد عورت میں اپنی ذات خودی اور حیا پیدا کرتی ہے۔
شعر
اُس کی تعلیم کا اثر ہے یہ
نیچی رکھتی ہے وہ نگہ اپنی
۔۔۔۔۔
عاصم بخاری صرف تعلیم پر ہی اکتفا نہیں کرتے بل کہ مثبت رویوں کے رواج میں تربیت کا بھی اتنا ہی اہم مقام گردانتے ہیں ۔یہ شرم و حیا اور پاکیزگی ان دونوں چیزوں کے حسین امتزاج سے ہی ممکن ہے۔
تربیت کا ہےیہ اثر سارا
نیچی رکھتی ہے وہ نگہ اپنی
۔۔۔۔
ہمارے معاشرے میں نمود نمائش کا بہت زیادہ عمل دخل آ چکا ہے۔ تصنع نمائش دکھاوا ہمارے اوپر غالب آ چکاہے شاید یہ سوشل میڈیا کااحسان ہے کہ ناوسائلی کے باوجود معاشرے کا ہرفرد دکھاے کی خاطر کار کوٹھی ناگزیر سمجھتا ہے ۔حتیٰ کہ اس کے لیے اسے اجداد کا سارا ترکہ ہی کیوں نہ ضائع کرنا پڑے۔ کیوں کہ آسائش بغیر جینا انہیں حیرتوں میں مبتلا کرتا ہے عاصم بخاری اس سوچ پر ششدر ہیں۔
ویسے حیرت ہے آپ زندہ ہیں
کار کوٹھی بغیر بھی کیسے
۔۔۔۔۔
اسی رویہ کو ایک اور شعر کے قالب میں کچھ ایسے ڈھالا ہے۔
بابا جانی کا بیچ کُل ترکہ
کوٹھی ہر حال میں بنانی ہے
۔۔۔
ہمارے سماج کے اندر خلوص کی جگہ خود غرضانہ رویوں نے لے لی ہے۔آج کی یاریاں ضرورتوں کے تبادلے بن چکی ہیں۔اسی رویے کی عکاسی عاصم بخاری نے شعر میں یوں کی ہے۔
اُس کو ہوتا ہے کام جب کوئی
شب بخیری وہ کرتا میسج تب
۔۔۔۔۔۔۔
ہمارا معاشرہ گلوبل ولیج بننے کے بعد حقیقت میں مزید تنہائیوں کاشکار ہو گیا ہے اب دو آدمی ایک ساتھ بیٹھے ہوئے بھی اپنی اپنی دنیا میں گم ہیں ایک دوجے سے بے خبر۔لوگ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوجے سے بے خبر اور لاعلم۔کیا خوب شعری عکاسی ہے
فیس بُک پر ہی روز ملتے ہیں
ماسوا اس کے رابطہ کیسا
۔۔۔۔
بخاری صاحب کو نئی نسل کے اس بے خودی و مدہوشی کے رویے پر تشویش ہے کہ انھوں نے ابھی بہت کچھ کرنا تھا مگر موبائل فون میں چوبیس گھنٹے غرق دکھائی دیتے ہیں۔
نسل ِ نو کے لیے بخاری جی
آکسیجن کے جیسے موبائل
۔۔۔۔۔
پہلے وقتوں میں شرافت بڑی چیز ہوتی تھی۔ جسکا بڑا احترام اور مقام تھا مگر مادیت پرستی نے اس روش کو یک سر بدل کے رکھ دیا۔اب ہر ایک پیسے کیسے کے چکر میں ہے۔ہر ایک کا رویہ پیسے کی غلامی ہے۔اور اب شرافت اپنا اثر اور تاثیر کھو چکی ہے۔اب صرف اور صرف دولت ہی کی چلتی ہے۔
دور دولت کا اور صورت کا
آپ سیرت کی بات کرتے ہیں
۔۔۔۔۔
نمود نمائش کا دور ہے بڑی گاڑی بڑا سٹیٹس اس دور کی اشد ضرورت بن چکا ہے۔
دور صورت کا یہ بخاری جی
کون سیرت کو پوچھتا اس میں
۔۔۔۔۔
ہمارے سماج کا المیہ یہ ہے کہ دکھاوے کا رویہ رواج پاچکا ہے۔ کیمرہ سوشل میڈیاخلوص کو نگل چکا ہے۔اخلاص نام کی چیز نہیں۔ حرام حلال کا تصور پیچھے رہ گیا ہےکالےدھن کو سفید کیا جارہا ہے۔راہ ِ خدا میں دینے کےلیے مال کاحلال ہونا شرط ِ اول یے۔لیکن معاشرے میں اسی رویے کا خوب چلن ہے۔
یہ الگ بات اُس کی ناجائز
خوب راہ ِ خدا میں دیتا ہے
۔۔۔
ہمارے معاشرے میں اچھی اور مثبت تبدیلیاں رواج پا رہی ہیں مگر جز وقتی۔ مکمل طور پر ہم سے اسلامی رویے نہیں اپنائے جاتے ۔صرف نکاح کی حد تک تو سادگی نظر آتی ہے مگر بعد ازاں اس کا دامن سماج کے کمزور ہاتھوں سے چھوٹ جاتا ہے۔۔
شعر دیکھیے
صرف کافی نکح نہ مسجد میں
بعد اس کے بھی سادگی لازم
۔۔۔۔۔
آج کل زمانہ بدل رہا ہے قدروں میں تغیر ہے رویوں کے پیمانے بدل چکے ہیں۔” تھا جو نا خوب بتدریج وُہی خوب ہوا”۔
پرانے وقتوں دوستی کیا دشمنی کے بھی معیار اور پیمانے ہوا کرتے تھے۔ عورت کا بڑا لحاظ تھا یہاں تک کہ اگر عورت ساتھ ہوتی تو دشمن مرد پر بھی حملہ نہ کیا جاتا۔اب جب کہ طور کچھ اور ہے۔
شعر
اپنے وقتوں میں دشمنوں کی بھی
عورتوں کا لحاظ ہوتا تھا
۔۔۔۔۔
ماضی میں روایات کی پاس داری اور کچھ اصول تھے جن کا پاس رکھا جاتا مگر اب رویوں میں دن رات کا فرق ہے۔
شعر
پہلے وقتوں میں دشمنی کے بھی
کچھ بخاری اصول ہوتے تھے
۔۔۔۔۔۔
معاشرہ کو متکبرانہ رویوں نے مسلسل اذیتوں میں مبتلا کررکھا ہے۔
اُس نے مخلوق کو رویے سے
ایک مدت رکھا اذیت میں
۔۔۔۔۔۔
وہ زمانہ گیا جب حق اور حق دار والی بات تھی۔ اب سفارش اور منہ ملاحظہ بھی نہیں چلتا۔اگر بات بنتی ہے تو صرف اور صرف رشوت اور وہ بھی بھاری رشوت سے ہی ورنہ سب بے سود
شعر
رشوتی دور ہے بخاری یہ
تم سفارش تلاشتے پھرتے
۔۔۔۔۔
سوشل میڈیا کے روشن پہلو کے ساتھ تاریک پہلوؤں میں سے ایک پہلو عمل کے خلوص کا ختم ہو جانا اور ریا کاری دکھاوے کا در آنا ہے۔قبرستان ہمیں موت اور فنا کا درس دیتا ہے مگربہت افسوسناک اور شرم ناک رویہ ہے کہ ہم وہاں بھی صرف ایکٹنگ کرتے ہیں
شعر
فاتحہ قبر پر نہیں پڑھتے
صرف تصویر ہی بناتے ہیں
۔۔۔۔
عاصم بخاری کوسوشل میڈیا کے اسی منفی اثر اور پہلو مایوس کیا ہےاور اعمال میں اخلاص نامی چیز کو نہیں چھوڑا
شعر
آگیا ہے اب کے سوشل میڈیا
اب کہاں اخلاص وہ اعمال میں
۔۔۔۔
بعض امور اور اعمال خالصتا” اخلاص کے متقاضی تھے مگر افسوس ہمارے نمودی و نمائشی رویوں سے وہ بھی اپنا دامن نہ بچا سکے۔اگر چہ فاتحہ خوانی قربتہ” الی اللہ عمل تھا مگر افسوس۔۔۔
شعر
لازمی عاصم بخاری ہو گئی
فاتحہ خوانی کی بھی تصویر اب
۔۔۔
ہماری خدمت ِ انسانیت کا نعرہ بھی منافقانہ اور کھوکھلا نکلا۔اس عبادت کے پیشے میں بھی خود غرضی اور لالچ کا غالب رویہ سامنے ہے۔
شعر
ڈاکو اک روز مارے جاتے ہیں
ڈاکٹر ہی ، بنایا بیٹے کو
۔۔۔۔۔
ثقافتی یلغار کی لپیٹ سے ہماری موجودہ نسل اپنا دامن نہ بچا پائی۔ اورجوان نسل فیشن اور جدت کے نام پر کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔بل کہ یہ رویہ اپنی حدیں پار کرگیا۔
نیم عریانی قصہء ماضی
بے لباسی کا دور دورہ ہے
۔۔۔۔۔
اس سماجی انقلاب، تغیر اور تبدل نے صرف مرد کو نہیں عورت کے رویوں میں بھی عجیب و غریب تبدیلی لائی ہے۔جو کہ ایک مشرقی اور اسلامی خاتون کے لیے شرمناک چلن بھی ہے اور افسوس ناک رویہ بھی۔
شعر
کوشش کے باوجود بھی عورت کے جسم پر
ملبوس کو لباس کے معنی نہ مل سکے
۔۔۔۔۔۔۔
بخاری صاحب اس نسائی رویے اور صورت ِ حال پر عدم تحفط کا اظہار طنزیہ انداز سے کچھ ایسے کرتے ہیں
پہنے ملبوس ڈِھیلا وہ کیوں کر
جسم اس میں نظر ، نہیں آتا

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |