طاہر اسیر سے گفتگو
طاہر اسیر
انٹرویو کنندہ: سید حبدار قائم
طاہر اسیر، شگفتہ حرف و صوت کا پیکر ہیں جمالیات کے شاعر ہیں اس لیے اٹک کی شان ہیں ۔ جیسے ان کی صورت معصوم ویسے ہی طبیعت معصوم ہے ہنستا مسکراتا دوستوں میں محبتیں بانٹتا خوب صورت انسان طاہر اسیر ادب کا تاباں ستارا ہیں میری ان سے ملاقات 2016 میں ہوئی جوں جوں ملاقاتیں ہوئیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا لیکن جتنا طاہر جانتے ہیں اتنا سیکھ نہیں پایا جس کا مجھے افسوس بھی رہے گا
طاہر اسیر اٹک میں چار اپریل 1977 کو پیدا ہوۓ اٹک اور اٹک سے باہر تعلیم حاصل کی شاعری اور نثر دونوں میں نام پیدا کیا میں نے ان کا مذاج انتہائی شگفتہ پایا دوستوں میں بیٹھ کر قہقہے لگانا محبتیں بانٹنا چاۓ کتاب اور گپ شپ کرنا ان کا وصف ہے ان کی ادبی خدمات بہت زیادہ ہیں تحقیقی کام جیسے کیمبلپور جل رہا تھا، کیمبل پوری لہجے کی پنجابی لغت، اکھانڑ وغیرہ اکھٹے کرنا ہمیشہ یاد رکھا جاۓ گا
ادبی مجلے ”جمالیات“ اور پنجابی مجلے ”پنجواں پتن“ کے مدیر ہیں اچھی تحریر کی تلاش میں رہتے ہیں نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں
آئیے قارئین! ان سے مصاحبہ کرتے ہیں:۔
س۔ بچپن کے احوال سنائیں (جس میں ولادت کھیل اور تعلیم وغیرہ کا ذکر ہو)
ج…میری پیدائش اٹک شہر میں ہوئی چار اپریل انیس سو ستتر ( 1977) کو دنیا رنگ وبو میں پہلا سانس لیا
میرا بچپن رنگوں، خوشبووں اور خوابوں سے بھرا پڑا ہے پتنگیں اڑانا ، کنچے کھیلنا ، تتلیاں پکڑنا اور کبوتر پالنا، بس یہی شوق تھے پرائمری کے بعد پائیلٹ سکینڈری سکول کا زمانہ پھر کامرس کالج اور ڈگری کالج حضرو کا دور بھی رنگین رہا، پرائیویٹ امیدوار کے طور پہ بی اے کیا اور پھر حوذہ علمیہ المنتظر لاہور اور دیگر درس گاہوں میں سیوطی اور لمعہ تک فلسفہ ، تاریخ اور منطق کا علم حاصل کیا جو ایم اے علوم اسلامیہ کے برابر ہے
س۔ شعر کب سیکھا؟
ج….. شعر سیکھا نہیں جاتا یہ پراسرار کونپل کہیں اندر بہت گہرائی میں موجود ہوتی ہے جو خود بہ خود کھل اٹھتی ہے، زور زبردستی نہیں جیسے لاکھ جتن کریں بے تال اور بے سُر انسان کبھی سریلا نہیں ہو سکتا سریلا پن اللہ کی عطا ہے شعر کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے بعض لوگ ردیف قافیہ اوزان شعوری طور پہ درست کر لیتے ہیں تکنیکی اعتبار سے بھی سب کچھ بنت وغیرہ ٹھیک لگتی ہے لیکن پھر بھی وہ شعر نہیں ہوتا شعر کیا ہے یہ سمجھنے کے لیے ایک لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے
س۔ آپ کو کب علم ہوا کہ آپ کے اندر ایک تخلیق کار بیدار ہو چکا ہے اوراُسے منظرعام پر لانا چاہے؟
فطری جھکاو کہانیاں پڑھنے میں تھا غالباً ساتویں کلاس میں تھا جب نثر پڑھتے پڑھتے اچانک احساس ہوا کہ میں کچھ لکھ سکتا ہوں اور لکھا تو وہ ٹیڑھا میڑھا شعر ہی تھا
س۔ پہلی تخلیق کب اور کہاں شائع ہوئی؟
غالباً نوائے وقت میں شائع ہوئی ایک مضمون تھا غالب علا کُل غالب جو بعد میں وقار آس مرحوم کے قندیل میں بھی شائع ہوا سن یاد نہیں
س۔اولین کتاب، نظم اورمضمون پر پذیرائی کو آج کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
جب سفر کی شروعات ہوں تو انسان بہت جنونی کیفیت میں ہوتا ہے وہ زمانہ سوشل میڈیا یا دیگر ایسے اسباب کا نہیں تھا سو بہت انتظار کے بعد کہیں کسی کاغذ کے پرزے پر تخلیق شائع ہوتی تو ہم کچے کچے لکھاری وہ اخبار یا رسالہ اٹھائے دوڑ دوڑ کر ایک دوسرے کو اطلاع کرتے بس وہ جنوں ہی سچ تھا آج کل تو جھوٹ ہی جھوٹ ہے ادھر ڈوبے اُدھر نکلے اور یہ جا وہ جا،
س۔بطور ادیب مطالعے،مشاہدے اورتجربات کو کس قدر اہم سمجھتے ہیں؟
مطالعہ صرف رٹے کا نام نہیں ہم تو ایک ایک شعر پر دو دو دن لگاتے اسی کے حصار میں اسی لطف میں دن گزارتے تھے بہرحال مطالعہ، مشاہدہ انتہائی ضروری ہے تخلیقی تجربات کی باریکی بہت ریاضت کے بعد ہاتھ لگتی ہے
س۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ادیبوں کے لیے حوصلہ افزائی آکسیجن کا درجہ رکھتی ہے؟
ج…… فنکار بہت حساس ہوتا ہے ذرا سی بات پر کھل جانا یا مرجھانا اس کی زندگی کی سچائی ہے ہم نے بے شمار ایسے تخلیق کار دیکھے جن کی مناسب حوصلہ افزائی نہیں کی گئی اور وہ اس میدان سے یوں بھاگے کہ پھر ان کا نام و نشاں تک نہ ملا
س۔ اپنے شہر اٹک میں آپ کو کچھ کم ظرف لوگ اپنی گھٹیا سوچ کی وجہ سے فیس بک پر منفی جھوٹی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں لیکن آپ مسلسل صبر کرتے ہیں۔کیوں؟
ندی نالے شور کرتے ہیں، سمندر خاموش رہتا ہے ، دونوں کا اپنا اپنا ظرف ہے دونوں مجبور ہیں
س۔ کیا اس کام میں یعنی گھٹیا پوسٹںوں میں آپ کا کوئی دوست بھی ملوث ہے؟
دوست، فارسی میں دوستیدن سے ہے اہل علم دوستیدن کے معنی خوب جانتے ہیں ایسی کارروائیوں میں جو بھی ملوث ہیں وہ دوست نہیں ہو سکتے البتہ ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہوں گے زیادہ سے زیادہ واقف کار کہہ سکتے ہیں
س۔ آپ ادبی مجلے جمالیات اور پنجواں پتن کے مدیر ہیں بطور مدیر کیسا تجربہ رہا؟
کوئی بھی تجربہ برا نہیں ہوتا اس کے نتائج اچھے یا برے ہوتے ہیں اور جمالیات یا پنجواں پتن میں ادارت کے جو نتائج نکلے وہ بہت اچھے رہے
س۔ ادبی مجلہ جمالیات پبلش کرنا کیوں ترک دیا؟
ج….. میرے خیال میں اردو کی بد قسمتی ہے کہ اس زبان کے ساتھ کسی بھی تخلیق کار کی اب وہ جذباتی جڑت نہیں رہی جو ہونی چاہیے تھی، جمالیات معطل ہے ترک نہیں کیا دیکھیں گے کیا پتا کچھ اچھے مضامین نظم و نثر ہاتھ لگے تو شائع کریں گے
س۔ہمارے ہاں علاقائی سطح پر ادیبوں کو جو پذیرائی دی جا رہی ہے کیا اُس سے مطمئن ہیں؟
ج…… جی بالکل نہیں، ادیب بے چارہ خود ہی اپنی پذیرائی کر رہا ہے یہ معاملہ پورے ملک میں ہے
س۔آپ نعت عشق و وجدان میں بہت ڈوب کر لکھتے ہیں جب نعت لکھ رہے ہوتے ہیں تو روحانی طور پر خود کو کیسا محسوس کر رہے ہوتے ہیں؟
ایسی کوئی بات نہیں، میں نعت لکھوں مرثیہ کہوں یا غزل، ایک سی کیفیت رہتی ہے روحانی طور پر ایک جیسی کیفیات میں گم رہتا ہوں
س۔آپ بیک وقت اردو اور پنجابی زبان میں لکھ رہے ہیں، ذہنی طور پر کس زبان میں لکھتے ہوئے زیادہ جذباتی ہوتے ہیں؟
ج….. پنجابی
س۔ اب تلک کتنی کتابیں شائع ہو چکی ہیں؟
ج……. پانچ چھے کتابیں ہیں بس
س۔ میرے نزدیک آپ کی کتاب” کیمبل پوری لغت“ صدارتی ایوارڈ کی حقدار تھی لیکن ایسا نہ ہوا کیا وجہ ہے؟
ج… میں کتاب کو ہی ایوارڈ سمجھتا ہوں، کسی بھی اچھی کتاب کو صدارتی یا غیر صدارتی ایوارڈ کی ضرورت نہیں یہ ایوارڈ بیساکھی ہے جلد ٹوٹ جاتی ہے
س… کیا ایسے ایوارڈز کے لیے سفارش چلتی ہے ؟
ج… مجھے علم نہیں، میں نے اس طرف کبھی توجہ نہیں دی نہ کوشش کی نہ ضرورت سمجھی
س۔دورحاضرکے ادب اطفال سے کس قدر مطمئن ہیں؟
بد قسمتی سے اس طرف بہت کم توجہ دی جا رہی ہے ایک زمانہ تھا جب بچوں کے لیے ایسے میگزین شائع کیے جاتے تھے یا چھوٹی چھوٹی کہانیاں سامنے آتی تھیں اب کہیں دکھائی نہیں دیتی ہیں شائد تعلیم و تربیت نام کا پرچہ اب بھی ہے یا پنجابی کا پکھیرو نامی مجلہ ہے ،لگ بھگ پچیس سال پہلے میں نے اور شاکر القادری صاحب نے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک پرچہ القلم شروع کیا تھا کوئی سات شمارے ہوں گے اس کے بعد بند ہوگیا تھا اس زمانے میں ، میں سارا سارا دن مختلف سکولوں میں جا کر بچوں سے ان کی لکھی ہوئی کہانیاں یا نظمیں لیتا تھا اور شاکر القادری صاحب دفتر میں بیٹھ کر کمپوزنگ کیا کرتے تھے ، اس کے علاوہ ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد، آپ (سید حبدار قائم) اور سعادت حسن آس نے اس طرف تھوڑی بہت توجہ دی ہے
س۔بطور ادیب کیا سمجھتے ہیں کہ ایسے کون سے عوامل ہیں جنھوں نے بچوں کو رسائل اور کتاب سے دور کیا ہے؟
سوشل میڈیا ، سکولز و کالجز کے اساتذہ اور والدین کے علاوہ عام آدمی کا معاشی بحران ، بس یہی عوامل ہیں
س۔کتاب میلے کی اہمیت آپ کی نظر میں کیا ہے؟
ج…. کتاب میلے انتہائی ناگزیر ہو چکے ہیں بس یہی ایک رستہ بچا ہے
س۔ کتاب میلے میں اشرافیہ کو بہت پروٹو کول کیوں دیتے ہیں کیا یہاں ادیب اساتذہ کو پروٹوکول نہیں دینا چاہیے؟
ج…. پروٹوکول سے مراد اگر سٹیج یا تصاویر ہیں تو یہ الگ بات ہے ادیبوں کے سٹال اور ان پر ان کی سجی ہوئی کتب سب سے بڑا پروٹوکول ہیں ایسے ایونٹ میں سٹیج پر ہر کوئی جا کر تصویر بنوا سکتا ہے
س۔ کیا آپ اکادمی ادبیات کیمبل پور کی کارکردگی سے مطمئن ہیں؟
ج….. میں چونکہ جنرل سیکرٹری ہوں مجھے بہ خوبی اندازہ ہے کہ جو اجلاس ہوے وہ اپنی اہمیت کے سبب یادگار تھے، بالکل مطمئن ہوں
س۔ سر آپ نے اعلان کیا تھا کہ اکادمی ادبیات کیمبل پور مستحق ادیبوں کی کتابیں شائع کرے گی لیکن عملاً اس پر کوئی کام نہیں ہوا؟
ج…. کوئی مستحق ادیب اس سلسلہ میں ہمارے پاس نہیں آیا ہم اس اعلان پر آج بھی قائم ہیں
س۔ اکادمی ادبیات کیمبل پور کے پروگرام کامیاب نہیں ہوئے یوں لگتا ہے کہ یہ ون مین شو لگتے ہیں کیا اس حالت کی زمہ دار اکادمی کی قیادت ہے؟
ج…….. ماں بولی 2025 ، کتاب میلہ 2025 ، اوپن ائیر مشاعرہ 2025 اور دیگر پروگرام بہت بھرپور تھے یہ سب جانتے ہیں ، قیادت کا مسئلہ نہیں ہے مرکزی عہدیداران ( اکادمی کے لیے ) بے حد مخلص ہیں
س۔ اکادمی ادبیات کیمبل پور کی قیادت پر شہر میں بہت تنقید ہوئی ہے کیا مستقبل میں اس کو بدلیں گے؟
ج…. قانون اور ضابطہ بھی کوئی چیز ہے ایک مکمل پراسس ہے میں چاہتا ہوں کہ تنقید مت کریں ہمارے سامنے بیٹھیں اور مکالمہ کریں 2026 میں جنرل سیکرٹری کا الیکشن ہے میں چاہتا ہوں کہ یہ ذمہ داری کوئی سنبھالے میں اس کے ساتھ تعاون کروں گا ممبران چاہیں تو ساری باڈی نئی منتخب کر لیں اکادمی کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہے باہر بیٹھ کر تنقید کرنے سے بہتر ہے اکادمی میں آ کر تجاویز دیں مشاورت کریں ووٹنگ کروائیں
س۔ اگر اکادمی ادبیات کیمبل پور کی ووٹنگ ہوئی تو کیا اس کے ممبر ہی ووٹنگ کریں گے یا شہر کے ادیب کیونکہ اکادمی میں تو ایک ہی محلہ شاہ صاحب نے بھرا ہوا ہے؟
ج….. ووٹ تو وہی دے گا جو ممبر ہوگا اور جہاں تک محلہ بھرنے کی بات ہے، اکادمی کا ریکارڈ موجود ہے فارم موجود ہیں کوئی بھی آ کر دیکھ سکتا ہے آپ آئیں تو سارا ریکارڈ آپ کے بھی سامنے رکھیں گے یقیناً آپ کی یہ ( محلہ بھرنے والی ) بات غلط ثابت ہو جائے گی جب افواہوں کا بازار گرم ہو تو کوئی کیا کرے
س۔اپنے والدین کی کن خوبیوں کے معترف ہیں؟
ج…. مجھ پر انھوں نے ہمیشہ اعتبار کیا مجھے ہر ہر قدم پر بتایا کہ تم کس خاندان کے ہو یہی وجہ ہے کہ میں نے ہمیشہ اپنی عزت کو مقدم رکھا ہر بات جانتے ہوئے ہر دھوکے کو سمجھتے ہوئے ہر بری سے بری تنقید کے پس پردہ حسد کو دیکھتے ہوئے تحمل سے کام لیا
س۔آپ کے مجموعے پرتحقیقی کام بھی کیا گیا ہے،آپ کے خیال میں تخلیقات پر تحقیقی کام ہونا کیا ادیبوں کو تاریخ میں امر کرتا ہے؟
ج……. اس طرح کی حرکت ادیبوں کو امر نہیں بلکہ خراب کرتی ہے، تخلیق کو اس کا خالق ہی بہتر جانتا ہے
س۔زندگی کا کوئی ایسا دل چسپ واقعہ ہے جس نے سوچ کا دھارا بدلا ہو؟
ج…… سوچ وہی ہے جو بچپن سے تربیت کی گئی تھی اور میری ساری زندگی آسان ، خوشگوار اور دلچسپ گزری ہے ، میرا ایمان ہے اور بے حد بارہا آزمائی ہوئی بات بتا رہا ہوں آپ لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں آپ کی ہر مشکل آسانی میں بدل جائے گی
اور زندگی دلچسپ لگے
س۔معاشرے میں ادیبوں کا مقام کس طرح سے بلند کیا جا سکتا ہے؟
ج….. ادیب نے خود ہی اپنے مرتبے سے اپنے آپ کو گرایا ہے ادیب کو لوگ ولی اللہ سمجھتے تھے سوشل میڈیا نے یہ بھانڈا بھی بیچ چوراہے پھوڑ دیا ہے
س۔قارئین کے لیے اپنی ماں بولی پنجابی زبان اور اردو کے اشعار پیش کیجیے:
ج………. پنجابی میں نظمیں ہیں جو مکمل یاد نہیں ہیں البتہ اردو مرثیے کے دو شعر یاد آ رہے ہیں
وہاں سناوں بھلا کیسے ماجرا تیرا نام
جہاں چراغ بھی لکھتے ہوں مرثیہ تیرا
یہ آس پاس کی خوشبو مجھے بتاتی ہے
یہیں کہیں سے گزرتا ہے قافلہ تیرا
آخر میں دعا ہے کہ خدا وند عالم طاہر اسیر کے علم عمر اور اولاد میں برکت اور مزید اضافہ فرماۓ۔آمین
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |