قومی تشخص کا بقاء- ایک مزاحیہ تحریر
( مصنف واجد علی)
اخبار بینی کا شوق دورِ حاضر میں بہت حد تک کم ہوچکا ہے اور اب آپ کو خال خال ہی وہ لوگ نظر آئیں گے جو کسی ہوٹل ، دفتر ، گھر یا اپنی دکان پر بیٹھے منہ کو اخبار کے پیچھے چھپائے مصروفِ مطالعہ دکھائی دیں۔ہماری اس نئی نسل کو شاید علم نہ ہو لیکن کسی زمانے میں اخبار پڑھنا مہذب اور شریف لوگوں کا شعار سمجھا جاتا تھا اور معاشرہ اُن لوگوں کو صاحبِ علم، اصحابِ بصیرت اور ذی عقل طبقے میں شمار کرتا تھا جو بلاناغہ اخبار پڑھتے تھے ۔اب مگر زمانہ بدلا سوچ تبدیل ہوئی اور اخبار کوسست رفتار زندگی کی علامت سمجھتے ہوئے کارِ بےکاراں میں شمار کیاجانے لگا ہے اور اُس کی جگہ انٹرنیٹ کی تیز ترین دنیا نے لے لی ہے جہاں ہر منٹ بعد منظر نامہ بدلتا دکھائی دیتا ہے۔لیکن ان حقائق کے برعکس نواب حضرت جام محل آج بھی اُسی دنیا میں محوِ سفر ہیں جہاں اطلاعات کا مستند ذریعہ آج بھی اخبار ہے۔ آپ کے اپنے بقول آپ غیر منقسم ہندوستان کی کسی ریاست کے پشتینی نواب ہیں مگر والد ماجد کی طوائفوں میں حد سے زیادہ دلچسپی نے وہ دن دکھلائے کہ ریاست سمیت حویلی میں طوائف الملوکی کا دورہ دورہ ہوگیا۔ اسی طوائف الملوکی کی غارت گری کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہ گئے اور اب بس ہر روز اپنےگھر کی ڈیوڑھی میں چارپائی پر بیٹھے محلے کےایک نوجوان سے دھیمی آواز میں اخبار سنتے ہیں اور موقع محل کی مناسبت سے تبصرے فرما کر دن بتاتے ہیں۔ آج صبح مگر وہ نوجوان باامرِ مجبوری نہیں آسکا تو ایسے میں اپنے پوتے کو آواز دے کر پاس بلایا اور اُسے یہ حکمِ شاہی دیا کہ ” ہمیں اخبار سنایا جائے”۔یہ فرمانِ شاہی سُن کر پوتا پہلے تو بہت چیں بہ جبیں ہوا ، نظر کی کمی کا بہانہ بنایا، اردو میں دسترس نہ ہونے کا عذر پیش کیا ، سکول کا کام کرنے کا افسانہ گھڑا لیکن سب بے سود اور دادا جی کی ضد کے آگے ہار مان کر چارو ناچار بیٹھ گیا۔ دادا جان نے پوتے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پوتے نے اخبار پر نظریں پھیرتے ہوئے ایک صفحہ سامنے رکھا اور پہلی خبر سے دن کے خبرنامے کا آغاز یوں فرمایا،” لالی ووڈ میں پتلی کمر والی ہیروئنز کی کمی کی وجہ سے فلمساز مکھیاں مارنے پر مجبور”۔ دادا جان نے جب یہ خبر سُنی تو نہایت تاسف سے فرمایا،” ہائے! کیا زمانہ آگیا ہے۔ ایک وہ وقت بھی یاد ہے اپنا جب اُس محلے میں جاتے تھے ۔۔”، مگر پھر فورا یاد آگیا کہ پاس پوتا ہے بچپن کا کوئی دوست نہیں۔ اس پر فورا ” لاحول ولا قوۃ ” پڑھا جس پر پوتے نے خبر بدلتے ہوئے پڑھا،” سیاسی استحکام کیلئے معاشی پالیسی کا طویل المدتی ہونا اشد ضروری ہے اور۔۔۔” پوتے نے سانس لینے کیلئے پڑاؤ کیا تو بولے،” ارے بیٹا! وہی خبر پڑھو نا پہلے والی۔ دیکھو تو کس قدر غمگین کرنے والی خبر ہے۔ یہ معیشت کی درستگی ورستگی تو ہوتی رہے گی۔ اصل توجہ طلب مسئلہ وہ ہے جس کے بارے میں تم پہلے پڑھ رہے تھے”۔پوتے نے یہ سُن کر دادا جی کی طرف معنی خیز انداز میں دیکھا پھر گلا صاف کرکے گویا ہوا،” اس سلسلے میں لالی ووڈ فلم انڈسٹری کے صدر نے پریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس تباہی کی ذمہ داری ہیروئنز کی ماؤں پر عائد ہوتی ہے جو اپنی بیٹیوں کو کھلا کھلا کر موٹا کردیتی ہیں اور یوں وہ پہلی فلم میں آنے تک اتنی فربہ ہوجاتی ہے کہ کیمرے کے فریم میں مکمل نہیں سما سکتی۔ ایسے میں اگر بارش والا سین فلمانا ہو ( دادا جی نے سینے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ایک ٹھنڈی آہ بھری) تو سین کی ڈیمانڈ کے باوجود بھی نہیں بنا پاتے اور یوں فنونِ لطیفہ کے قدر دان مطلوبہ مسالہ نہ ملنے پر فلمساز کو گالیاں دیتے ہوئے فلم ادھوری چھوڑ کر سنیما سے نکل جاتے ہیں”۔اس دوران ایک دوسرے بزرگ اور نواب صاحب کے یارِ خاص میاں تفسیر صاحب بھی آن وارد ہوئے اور خاموشی سے ایک طرف بیٹھ کر خبر کا بقیہ حصہ سننے لگے۔” لہذا میں اُن تمام ماؤں سے جو اپنی بچیوں کو ہیروئنز کے روپ میں دیکھنا چاہتی ہیں اُن کے آگے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں کہ ہمارے حال پر رحم فرمائیں اور اپنی بچیوں کو کم کھلائیں تاکہ ہم اپنے بچوں کو کچھ کھلا سکیں۔ ورنہ یہی حالت رہی تو ہم اتنے بڑے بڑے فلمساز آپ کو لاری اڈے گاڑیوں میں سواریاں بٹھاتے نظر آئیں گے”۔دادا جان نے خبر سُنی اور میاں تفسیر کی طرف دیکھا جو نگاہ جھکائے کسی گہری سوچ میں غلطاں و پیچاں تھے۔نواب صاحب نے بات چیت سے پہلے پوتے کو ” تخلیہ” کا حکم دیا اور پوتا اپنی جان چھڑا کر یوں بھاگا جیسے قربانی کا بیل چھری کے نیچےسے رسی چھڑا کے بھاگتا ہے۔
” کچھ سُنا تم نے میاں تفسیر!”، نواب صاحب نے دوست کو سوچ کی وادی سے بلاتے ہوئے کہا تو میاں صاحب پاس اُن کے پاس چارپائی پہ بیٹھے اور فرمایا،” بھائی نواب سچ پوچھو اخبار سننے کا مزہ تو آج آیا۔ بھئی بہت خوب۔ تمہارے پوتے کی اردو بھی بہت اچھی ہے اور خبر بھی کیا غضب کی تھی”۔
” ارےبھائی! یقین مانو مجھے تو علم ہی نہیں تھا کہ اخبار میں ایسی خبریں بھی ہوتی ہیں۔ ورنہ وہ لمڈا تو روز آکے یہی سنا کے چلا جاتا، دس قتل ہوگئے، فلاں نے فلاں پر پھر حملہ کردیا، چین کا بحران ٹل گیا مگر چینی کا شروع ہوگیا۔پاکستان میں خشک سالی کا موسم طویل ہونے کا خدشہ وغیرہ وغیرہ۔ کیسی خشک اور غیر اہم خبریں پڑھتا تھا وہ لمڈا ۔گویا سارے مسائل کے تانے بانے میری حویلی سے ملتے ہیں "۔ نواب صاحب نے خاصے ناگوار انداز میں فرمایا۔
” اوپر سے کمبخت ایسی خبریں پڑھ کر اللہ خیر کرے، اللہ ایسی بھیانک موت سے بچائے، والعیاذ باللہ جیسے جملے بول بول کر ہمیں موت سے پہلے ہی موت سے ڈراتا تھا نامعقول کہیں کا”میاں تفسیر صاحب بھی خاصے برہم ہوئے اُن پر۔” اب دیکھو نا اصل اور اہم خبر تو یہ تھی جو آج تمہارے پوتے نے سنائی۔ ملک کی فلم انڈسٹری بند ہونے کے قریب ہے اور ہمیں علم تک نہیں۔ اتنا بڑا قومی سانحہ ہونے کو ہے اور ہم لمبی تان کر سو رہے ہیں”۔
” اجی پھر ہم پر دوسری قومیں حکومت نہ کریں تو کیا ہو۔ جس ملک میں فنونِ لطیفہ کے دلدادوں کو بارش کے سین والے گانے دیکھنے کیلئے پڑوسی ملک کی فلمیں دیکھنا پڑیں اُس سے بڑا کیا قومی سانحہ ہو سکتا ہے؟ یہ تو ہمارے دو قومی نظریے کی جڑیں کاٹنے اور قومی تشخص کو مٹانےکے مترادف ہے بھائی۔ہم کب تک آخر یہود و ہنود پر انحصار کرتے رہیں گے اور اپنے ملک کے فلمسازوں کو فاقوں سے مرتا ہوا دیکھتے رہیں گے۔ وقت آگیا ہے کہ اب ہم بوڑھوں کو آگے بڑھ کر اس زوال کے آگے بند باندھنا ہوگا ورنہ بارش والے گانے دیکھنے کیلئے ہم بوڑھوں کو بھی پڑوسی ملک کی فلمیں دیکھنا پڑیں گی”۔ نواب صاحب نے ایک مقرر کی سی جوشیلی تقریر ہی کر ڈالی۔
” بھائی! اب دیکھو نا تم لوگ ہندوستان سے ہجرت کرکے کس لئے آئے تھے یہاں۔ اُن ہندوؤں سے نجات حاصل کرنے۔ لیکن اگر عمر کے اس حصے میں پھر اُن ہندوؤں کی ہیروئنز کے بارش والے گانے دیکھنا پڑگئے تو اپنے بزرگو کو آگے جا کر کیا جواب دو گے؟”۔ یہ بات کہہ کر میاں تفسیر صاحب تو چلے گئے جبکہ نواب صاحب ڈیوڑھی میں ٹھوڑی کھجاتے اس اہم قومی تشخص کی بقاء کے حوالے سے سوچ میں جُت گئے۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |