امریکہ کو اسرائیل کیوں پہلے ہے؟
امسال فروری کے آخری دن شروع ہونے والی جنگ کی امریکی ترجیحات اور اسمات سے واضح ہو گیا ہے کہ خطے میں امریکہ سب سے زیادہ کس ملک کو اہمیت دیتا ہے۔ اسرائیل پہلے بھی امریکہ کے لیئے دوچند تھا۔ 2026ء میں شروع ہونے والی اس بڑی جنگ سے واشگاف ہو گیا ہے کہ اسرائیل خطے میں دوسرا امریکہ ہے۔ اب تبصرے ہو رہے ہیں کہ امریکہ کے لیئے امریکہ کی بجائے "اسرائیل پہلے” ہے۔ آخر امریکہ خود سے بھی زیادہ فوقیت و اہمیت اسرائیل کو کیوں دیتا ہے؟ اس سوال کا جواب اسلامی دنیا کی دولت، ذرائع اور اس کے وجود سے ہے۔ اس بارے میں سابق یہودی نژاد امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ اور وزیر خارجہ ہینری کسنجر کے ملفوظات اور سیاسی تصانیف کو ہی پڑھ لیں تو قاری کی آنکھیں کھل جاتی ہیں کہ امریکہ کے لیئے اسرائیل کیا چیز ہے۔
اس فیصلہ کن جنگ کے بعد اسلامی دنیا کو اب یہ نہیں سوچنا چایئے کہ امریکہ دنیا پر "شیطانی حکومت” قائم کرنا چاہتا ہے۔ دنیا کے ہر دوسرے آزاد اور خود مختار ملک کی طرح مسلم دنیا، اور خاص کر خلیجی اسلامی ممالک کو محتاط ہونے کی ضرورت ہے، اور ان کے لیئے سوچنے کا مقام ہے کہ امریکہ کی بجائے "گریٹر اسرائیل” امریکہ کے لیئے کیوں ضروری ہے؟
یہ محض ایک سوال ہے جو پوری امہ کی آنکھیں کھولنے کے لیئے کافی ہونا چایئے کہ دنیا کی سپر پاور امریکہ ایک چھوٹے سے ملک اسرائیل کی حفاظت "مائی باپ” کی طرح کرنے پر کیوں مجبور ہے۔ سب سے پہلے کی یہ اصطلاح سب سے پہلے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے متعارف کروائی تھی، جب انہوں نے "سب سے پہلے پاکستان” کا نعرہ بلند کیا تھا۔ 9/11 کے زیادہ مابعد اثرات افغانستان کو بھگتنا پڑے تھے۔ پاکستان کو بھی "تورا بورا” بنانے کی دھمکیاں تو ملی تھیں لیکن پاکستان کے پاس ان دھمکیوں کا "ڈیٹیرنٹ” موجود ہے۔ اس کی طاقت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں اپنے عہد کی دو بڑی طاقتیں روس اور امریکہ تو شکست کھا گئیں لیکن آج وہی افغانی بہادر جنگجو پاکستان کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ عرب ممالک کے لیئے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ دنیا میں سلامتی اور بقا کی اصل ضمانت سیاسی سفارت کاری اور "سٹریٹجک پاور” ہے۔ عربوں کے لیئے یہ سوچنا بنتا ہے کہ ان کے پاس دولت اور ذرائع ہیں تو وہ اسرائیل کی طرح نہیں تو کم سے کم اسرائیل جیسی اپنی طاقت و اہمیت میں اضافہ کریں۔
اس جنگ کے دوران ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابو الفضل شکارچی نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں کہا ہے کہ خلیجی ممالک کی سالمیت اور خودمختاری پر ایران کبھی ضرب نہیں لگا سکتا اور ان پر ایران نے جو حملے کیئے ہیں وہ صرف امریکی اڈوں پر کیئے ہیں۔ ہمارا مقصد اپنے میزائل بھیج کر صرف امریکی اڈوں کو للکارنا تھا۔ اس کے باوجود ایران شرمندہ ہے اور معذرت خواہ ہے۔آئندہ ایران کی طرف سے ان غیر ملکی اڈوں پر بھی کوئی حملہ نہیں ہو گا۔” حالانکہ ایرانی ترجمان کے اس بیان کے بعد بھی خلیجی مسلم ممالک پر حملے ہو رہے ہیں۔ ایرانی ترجمان کے بقول تو ایران کا ٹارگٹ پورا ہو چکا ہے لیکن جنگ کا اصل کھیل ابھی باقی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں جس قدر بے پناہ لاگت سے امریکہ نے یہ اڈے تعمیر کیئے، تباہی کے بعد امید ہے دوبارہ ان کی تعمیر کی کوشش بعید از قیاس متصور ہے۔ ایران مسلمان ملک ہے اور خلیجی ممالک بھی مسلمان ہیں یعنی ایران خلیجی مسلمان بھائیوں پر بمباری کرتا رہا ہے۔ اس کی کیا مجبوری ہے اس کا تعلق اسرائیل اور "القدس” کے مقدس وجود سے ہے۔ بیت المقدس تمام مسلم ممالک کے لیئے برابر اہمیت رکھتا ہے جو اس وقت اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ یہ خبریں بھی آئی ہیں کہ مسجد اقصی پر اب اسرائیلی اپنی عبادت گاہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ اب پوری امہ کو احساس ہو جانا چایئے کہ اسلام پوری امہ کی مشترکہ میراث ہے، اور یہ بھی سمجھ جانا چایئے کہ اپنا اپنا اور غیر غیر ہوتا ہے۔
اگر امریکہ اسرائیل کو اتنی اہمیت دیتا ہے تو پھر عرب بھائیوں کو بھی اپنے دوستوں کی چھانٹی پر غور کرنا چایئے۔ ایران نے امریکی اور اسرائیلی سازش کے غبارے سے ہوا نکالتے ہوۓ یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اس نے قبرص کے برطانوی اڈے، ترکی، آذربائجان اور سعودی عرب پر ایک بھی راکٹ نہیں داغا اور نہ کوئی ڈرون بھیجا ہے۔ یہ دراصل جارح حلیفوں کی پس پردہ کمینی جنگی حکمت عملی ہے تاکہ ان ممالک کو ایران سے الجھا کر جنگ کا دائرہ پھیلایا جاۓ۔ ایران سعودی عرب میں آئل ریفائنری پر ہونے والے حملے کی بھی تردید کی۔ اس مجوزہ حملے کے بارے یہ بھی انکشاف ہوا تھا کہ سعودی عرب پر یہ حملہ اسرائیل نے کیا تھا۔اس کا واحد مقصد عربوں کو آپس میں لڑانا اور پھر عرب و عجم کی تفریق اور نفرت کو فروغ دینا ہو سکتا ہے۔ جنگ کے آغاز سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم نے مسلمان ملکوں میں مسلکی اور فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد برطانیہ نے بھی تصدیق کی کہ واقعی ہمیں اس ضمن میں ایرانی مداخلت کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ سعودی عرب نے بھی اس توجیہہ کو تسلیم کیا ہے اور اپنے ہاں سے گرفتار موساد کے بعض ایجنٹوں کی تادیب کی اور اس دوران حقائق تک رسائی حاصل کر لی۔ ترکی اور آذربائیجان کا سٹانس بھی کچھ اسی قسم کا تھا۔ پہلے برطانوی سامراج "ڈیوائڈ اینڈ رول” (تقسیم کرو، لڑاو اور حکومت کرو) پر کاربند رہا۔ اب یہی حربہ اسرائیل کے ساتھ مل کر امریکہ استعمال کر رہا ہے۔ شمالی عراق کے نیم خودمختار کردستان ریجن میں بھی امریکہ یہی چال چلنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں کی قیادت نے امریکہ و اسرائیل کی طرف سے شہہ دلانے پر دو ٹوک جواب دیا کہ ہم اس سے قبل بہت سی غلطیاں کر کے منہ کی کھا چکے ہیں اور آئندہ ہمیں مزید کوئی شوق نہیں ہے۔ امریکہ نے کبھی وفا نہیں کی۔ ہم ایران کے خلاف کسی قسم کی مدبھیڑ کے سخت خلاف ہیں۔ ہم بیٹھے بٹھائے خوامخواہ اڑتا تیر نہیں پکڑنا چاہتے ہیں، بلکہ ہم کردستانی علاقے سے کسی بھی غیر ملکی مداخلت کے خلاف شدید مزاحمت کریں گے۔
خلیجی ممالک نے حالیہ تلخ تجربے کے بعد امریکہ سے اپنے دفاعی اور کاروباری معاہدوں کی منسوخی کے بارے غور کرنا شروع کر دیا ہو گا بلکہ متحدہ امارات کے وزیر دفاع تو باقاعدہ اٹلی کے دورے پر گئے تاکہ ان سے ایئر ڈیفنس سسٹم کی خریداری کی جا سکے۔ عین ممکن ہے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اختلافات بھی ختم ہونے کا امکان پیدا ہو جائے یا امارات بھی سعودی عرب کی طرح پاکستان کے ساتھ کوئی دفاعی معاہدہ کر لے۔ روس یوکرائن کی جنگ میں یورپی دفاعی نظام بری طرح ناکام رہا۔ پاکستان متحدہ عرب امارات کے لیئے بہتر ترجیح ثابت ہو سکتا ہے۔ امارات کے لیئے اٹلی کی بجائے چائنہ بھی ایک بہتر آپشن ہے، کیونکہ چینی جدید اسلحہ اور دفاعی نظام امریکی ٹکر کا ہے۔ اس کا واضح ثبوت پاک بھارت جنگ کے دوران دنیا بخوبی دیکھ چکی ہے۔ فرانسیسی رافیل کمپنی تو اب اپنے گاہکوں کو بھی یہی مشورہ دیتی نظر آ رہی ہے کہ جاو’ اور چین یاترا کرو۔
آبناۓ ہرمز کی بندش کے بارے مستند خبر یہ ہے کہ صرف امریکی یا حلیف قوتوں کے لہے پابندی ہے باقی کسی بھی خیرخواہ ملک کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ البتہ وہاں دونوں اطراف بحری ٹریفک جیم ہونے کے باعث راستہ نہیں نکل رہا ہے۔ کچھ دن لگیں گے معاملہ سلجھ جاۓ گا، لیکن اس ساری جنگ کے مابعد اثرات اور نتائج کا تعلق جنگ کے بعد عرب ممالک کی دفاعی ترجیحات پر ہے۔ جس طرح اپنے سامراجی و سیاسی مفادات کی خاطر اسرائیل کی اہمیت امریکہ کو عزیز ہے، اتنی اہمیت عرب ممالک کو اپنی سلامتی اور بقا کو بھی دینا ہو گی۔ گریٹر اسرائیل کا دوسرا مقصد اس منصوبے کے سوا کچھ نہیں ہے کہ امریکہ ایران کے پٹرول اور زرائع پر خود یا اسرائیل امریکہ نواز حکومت کو بٹھانا چاہتا ہے۔ یہ جنگ جیتنے اور ایران میں رجیم چینج کے لیئے امریکہ کچھ بھی کر سکتا ہے، چاہے اسے مذہب اور صلیب کا سہارا ہی کیوں نہ لینا پڑے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |