انڈیا میں مسیحی برادری پر حملوں کی لہر
کرسمس کے موقع پر بھارت میں ہندوؤں نے مسیحی برادری پر حملے کر کے جو تشدد، ہلڑبازی اور توڑ پھوڑ کی اسے دنیا بھر میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ کرسمس مسیحی برادری کا مقدس تہوار ہے لیکن اس خوشی کے موقع پر بھارت کے متعدد علاقوں میں عیسائی برادری پر اس سال حملوں میں مزید اضافہ ہوا جس پر ہر طرف سے تنقید کی بوچھاڑ ہو رہی ہے حتی کہ خود بھارتی اپوزیشن مودی سرکار کے لتے لے رہی ہے۔ ہندو اکثریت انڈیا میں دن بدن اقلیتوں کا جینا مشکل کر رہی یے۔ ان کے مطابق ہندوستان ہندوؤں کا دیش ہے، اسی لیئے اسے "ہندوستان” کہا جاتا ہے، جہاں ان کی نظر میں دوسرے مزاہب کے ماننے والوں کے رہنے کے لیئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی بھی "ہندو توا” کے اسی بنیادی فلسفہ پر یقین رکھتے ہیں۔ جب وہ گجرات کے وزیراعلٰی تھے تو مسلم کش فسادات کو ہوا دینے میں بھی ان کا بنیادی کردار تھا۔ اب وہ وزیراعظم ہیں تو ان کی کوشش ہے کہ ہندوازم کی بنیاد پرستانہ سوچ کو پورے ہندوستان پر نافذ کر دیا جائے۔
اس وقت دنیا بین المذاہب اور امن و آشتی کے آفاقی معاشرے کی طرف بڑھ رہی ہے لیکن بھارت میں موجود ہندو اکثریت بدستور تعصب اور عدم برداشت کے فلسفے پر کاربند نظر آتی ہے جس کی سرپرستی ہندوستان کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کر رہے ہیں۔ ہر سال مسیحی برادری دنیا بھر میں 25 دسمبر کو حضرت عیسی علیہ السلام کے یوم پیدائش کے طور پر مناتے ہیں جسے "کرسمس” کہا جاتا یے۔ جشن ولادت مسیح کو عید ولادت مسیح بھی کہتے ہیں جو ایسٹر کے بعد مسیحیت کا سب سے اہم مزہبی تہوار سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس تہوار کے موقع پر یسوع مسیح کی ولادت ہوئی تھی۔کرسمس کے موقع پر مذہبی مجلسیں منعقد ہوتی ہیں، خصوصی عبادتیں انجام دی جاتی ہیں، نیز خاندانی اور سماجی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں شجرہ کرسمس کی رسم، تحائف کا لین دین، سانتا کلاز کی آمد اور عشائے کرسمس قابل ذکر ہیں۔ اس مزہبی تہوار کی اہمیت کے پیش نظر غیر مسیحی معاشروں میں بھی اس تہوار کو خصوصی طور پر منایا جاتا ہے اور 25 دسمبر کو دنیا کے بیشتر ممالک میں سرکاری تعطیل ہوتی ہے۔ پاکستان میں پچیس دسمبر کی اہمیت دو چند ہے کیونکہ اسے "یوم قائد” کے طور پر بھی منایا جاتا ہے جب اس دن بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی بھی پیدائش ہوئی تھی۔
امسال پاکستان میں کرسمس کی تقریبات بہت بڑے پیمانے پر منعقد ہوئیں جن میں وزیراعظم اور چیف مارشل سمیت اعلی حکام نے مسیحی برادری کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مختلف تقریبات میں شرکت کی، یسوع مسیح کی ولادت کا کیک کاٹا، مختلف چرچز کے دورے کیئے اور مسیحی برادری کو عید یسوع مسیح کی مبارکبادیں پیش کیں۔ خصوصی طور پر لاہور میں کرسمس کا تہوار بڑے جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا اور زندہ دلان لاہور نے شہر کو اس خوبصورتی کے ساتھ سجایا کہ لاہور شہر "ویٹی کن سٹی اسٹیٹ” لگ رہا تھا لیکن ہندوستان میں ہندوؤں نے اس موقع پر مسیحی اقلیت سے نفرت کا اظہار کیا اور ہندوستان کی مختلف ریاستوں اور شہروں میں اس تہوار کے خلاف ہنگامے کر کے توڑ پھوڑ کی جس پر خود کانگریس پارٹی نے بھی بی جے پی پر تہواروں کے دوران "نفرت کا تحفہ” دینے کا الزام لگایا ہے۔ دارالحکومت دہلی سمیت بھارت کی متعدد ریاستوں میں کھلے عام کرسمس منانے والوں کو ہندو تنظیموں کے سخت گیر افراد نے دھمکیاں دیں اور تشدد کا نشانہ بنایا جس سے ہندوستان کی مسیحی کمیونٹی خوفزدہ دکھائی دے رہی ہے۔ اس دوران بھارت میں پادریوں کی ایک اہم تنظیم نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے اپیل کی کہ وہ عیسائیوں کے تحفظ کے لئے قانون کو سختی سے نافذ کریں۔
حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا، "یہ عیسائیت کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی کی شدید نفرت کا اصل چہرہ ہے۔ ان کے رہنما بھارت میں اقلیتوں کی توہین کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جائیں گے، چاہے اس کا مطلب کسی نابینا خاتون پر حملہ کرنا ہی کیوں نہ ہو۔”
کانگریسی رہنما نے ان حملوں کے لئے ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی قیادت والی دہلی، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور اڈیشہ جیسی ریاستی حکومتوں کو مورد الزام ٹھہرایا اور کہا کہ ان کی پشت پناہی میں یہ واقعات رونما ہوئے ہیں۔ وینوگوپال نے مزید کہا کہ، "آر ایس ایس کے کارکنوں نے کیرالہ کے پلکاڈ میں بچوں کے کیرول کوئر پر بھی حملہ کر دیا، جہاں بی جے پی آئے دن یہ ثابت کر رہی ہے کہ وہ بھیڑوں کے لباس میں بھیڑیا کے سوا کچھ نہیں ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ، "وزیر اعظم مودی برسوں سے مسیحیوں کے لئے نئی محبت کے اظہار کا ڈرامہ کر کے اپنے آپ کو بڑا عظیم پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان کی پارٹی اور سنگھ پریوار ہر بار ان کے اصلی کردار کو بے نقاب کر دیتے ہیں۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ، ” زہر اور نفرت کرسمس کے دوران بی جے پی کا تحفہ ہے۔ یہ تمام اقلیتوں کے لئے ایک انتباہ ہے کہ بی جے پی کا متعصبانہ، نفرت سے بھرا ایجنڈا بھارت کی تکثیریت کو برداشت نہیں کر سکتا اور ہر اس شخص پر حملہ کرتا رہے گا جو ان کے نفرت سے بھرے عالمی نظریے میں فٹ نہیں بیٹھتا۔”
نام نہاد ہندوستان میں عیسائی برادری پر حملوں کا یہ سلسلہ چند روز پہلے جنوبی ریاست کیرالہ میں اس وقت شروع ہوا، جب آر ایس ایس کے ورکرز نے بچوں پر مشتمل ان کی ایک مذہبی تقریب پر حملہ کیا تھا۔ ریاستی پولیس نے آر ایس ایس کے ایک کارکن کو ان بچوں پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار بھی کیا۔ کیرالہ میں تقریبا 19 فیصد مسیحی برادری کی آبادی ہے، جہاں اس حملے کے خلاف بطور احتجاج پلکاڈ میں بہت سے احتجاجی جلسوں کا اہتمام کیا گیا۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ پینرائی ویجیئن نے کیرولرز کے خلاف اہانت آمیز تبصرہ کرنے پر بی جے پی قائدین پر تنقید کی۔ریاست مدھیہ پردیش کے جبل پور میں ہندوتوا گروپوں نے گرجا گھروں اور دیگر اداروں پر اس وقت چھاپے مارے جب کرسمس کے حوالے سے بعض خیراتی کام اور عبادت جاری تھی۔ اس تقریب میں ایک نابینا خاتون موجود تھیں اور کرسمس کے کھانے میں شرکت کے لئے ان کے چہرے کو بی جے پی کی ایک مقامی رہنما انجو بھارگوا نے دبوچ لیا جس کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو چکا ہے۔ ریاست چھتیس گڑھ کے کانکیر ضلع میں بھی غیر مسیحی مقامی لوگوں نے کئی دیہاتوں میں عیسائی پادریوں کے داخلے پر پابندی لگا دی۔ اس سے قبل یہاں ایک عیسائی شخص نے اپنے والد کو اپنے عقیدے کی رسومات کے مطابق دفن کیا تھا، جس کے خلاف بطور احتجاج مقامی لوگوں نے ایک چرچ پر حملہ کیا اور آگ لگا دی۔
یہ ہے کھوکھلے سیکولر ہندوستان کا اصل چہرہ جو کسی غیر مذہب کو ہندوستان میں جینے کا حق دینے پر خوش ہیں اور نہ ہی انہیں کسی قسم کی مذہبی آزادی دینے کو تیار ہیں۔ اسی وجہ سے بی جے پی سے وابستہ سخت گیر ہندو تنظیموں کے کارکنان مسیحی برادری پر مذہب تبدیل کرانے کا الزام لگاتے ہیں اور ان پر حملے کرتے ہیں۔
یہ وزیراعظم نریندر مودی کے ہندوستان کی اصلی حقیقت ہے جس پر یہ محاورہ صادق آتا ہے کہ، "بغل میں چھری اور منہ میں رام رام” اس پر دہلی میں "عام آدمی پارٹی” کے صدر سوربھ بھردواج نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ، "میں ایسے ہزاروں مامووں کو جانتا ہوں جو مذہب کے نام پر بھارت میں نفرت پھیلا رہے ہیں، یہاں کرسمس اور سانٹا کلاز کو گالی دے رہے ہیں۔ لیکن ان کے بچے امریکہ، آسٹریلیا اور یورپ میں کرسمس کا جشن منا رہے ہیں اور ان زہر سے بھرے والدین کو ڈالر بھی بھیج رہے ہیں۔” ریاست اتر پردیش کے غازی آباد میں بھی ایک پادری کے ساتھ بدتمیزی کرنے کا واقعہ پیش آیا۔
ترنمول کانگریس نے کلکتہ میں ہونے والی شاندار کرسمس تقریبات کے ساتھ حملے کے ان واقعات کا ایک ویڈیو شیئر کیا اور ایکس پر لکھا: "بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں کرسمس کا جشن منانا جرم بن چکا ہے۔ صرف سانٹا کیپ پہننے پر خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور تذلیل کی جاتی ہے۔ ایسے گروہ آزاد گھوم رہے ہیں۔ اس پر اقتدار میں رہنے والوں کی خاموشی گونگا اور بہرا کر دینے والی ہے۔”
کیتھولک بشپس کانفرنس آف انڈیا نے بھی حکومت کی سرپرستی میں مسیحی برادری کے خلاف نفرت اور تشدد کی اس لہر کی سختی سے مذمت کی اور ایک بیان میں کہا کہ،, "نشانہ بنانے والے ایسے واقعات، خاص طور پر پُرامن کیرول گلوکاروں اور گرجا گھروں میں عبادت کرنے والے اجتماعات کے خلاف ایسے حملے، مذہبی آزادی، بلا خوف زندگی گزارنے اور عبادت کرنے کے حق کی بھارت کی آئینی ضمانتوں کو بری طرح مجروح کرتے ہیں۔” اس طرح کے گھناؤنے اور غیرانسانی طرز عمل کی مذمت کرنا ہر انسان دوست معاشرے کا فرض ہے۔ سیکولرازم کا پروپیگنڈہ کرنے والے مودی کو زیب نہیں دیتا کہ آئیندہ وہ اس کا نعرہ لگائے۔ ان واقعات سے نریندر مودی اور اس پارٹی کی قلعی کھل گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کسی بھی وقت ہندوستان میں حکومت مخالف تحریک کا آغاز ہو گا جس سے اقلیتی ریاستوں کو آزادی کی تحریک چلانے کا بھی جواز میسر آئے گا۔ آخر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؟ اس پس منظر میں، سی بی سی آئی بھارتیہ جنتا پارٹی سے انجو بھارگاوا کو فوری طور پر برخاست کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ چھتیس گڑھ میں بھی نفرت سے بھرے پوسٹروں کی گردش اسی طرح کا پریشان کن منظر نامہ پیش کر رہی ہے جو ہندوستان کی حقارت اور نفرت بھری اصل حقیقت ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |