اماراتی صدر کا دورہ بھارت اور پاکستان کی خارجہ پالیسی
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے دورہ بھارت پر پاکستان اور امارات کے درمیان کچھ سوشل میڈیا صحافی اور ملک دشمن عناصر منفی اور تعصبانہ تاثر پھیلا رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ جب انہوں نے پاکستان کا دورہ کیا تھا تو اس وقت بھی اس پاکستانی طبقہ کا یہی رویہ دیکھنے کو ملا تھا اور اب انہوں نے بھارت کا دورہ کیا ہے تو ان عناصر نے پاکستان اور امارات کے درمیان دوری پیدا کرنے لیئے دوبارہ زہر اگلا ہے حالانکہ امارات کے صدر نے بھارت جانے سے پہلے پاکستان کا دورہ کرنے کو ترجیح دی تھی۔ اماراتی صدر کا دورہ بھارت رسمی اور علامتی قسم کا کاروباری دورہ تھا جس میں زیادہ تر سرمایہ کاری کے معاہدے کیئے گئے۔ بھارت نے امارات میں خصوصی طور پر دبئی کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سب سے زیادہ انوسمنٹ کر رکھی ہے جبکہ بھارت کے بعد پاکستان کا دوسرا نمبر یے۔ اس کے باوجود یہ دورہ پاکستان کے لئے ایک اشارہ ہے کہ متحدہ عرب امارات، اسرائیل کے قریب ہونے کے بعد اب بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط کر رہا ہے جس سے خطے میں سٹریٹجک صورتحال بھی بدلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
آج کی عالمی سیاست میں زیادہ تر فیصلے دفاعی اور سٹریٹجک نقطہ نظر سے کئے جا رہے ہیں، اور اسی پس منظر میں پاکستان کو اپنے تعلقات کا از سرِ نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ابراہام اکارڈ کے بعد اماراتی قیادت کا اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعلقات میں اضافہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ازسرنو مرتب کرنے کے لیئے ایک الرٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں متحدہ عرب امارات ہمیشہ ایک خاص اہمیت کا حامل رہا ہے۔ لیکن یہاں یہ نہیں بھولنا چایئے کہ بین الاقوامی تعلقات میں دنیا کا کوئی ملک مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا۔ اس کی تازہ مثالیں امریکہ اور یورپ کی جاری سرد جنگ اور کنیڈا اور امریکہ کے کشیدہ تعلقات ہیں۔ امریکہ اور کنیڈا کے دوستانہ اور کاروباری تعلقات ہمیشہ مثالی رہے ہیں مگر جب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کنیڈا کے کچھ حصوں پر امریکی ملکیت جتلائی ہے کنیڈا پر امریکی حملے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات اب اسرائیلی دفاعی ایکو سسٹم کا حصہ بھی بنتا جا رہا ہے تو پاکستان کو امارات کے بارے میں ان مخاصمانہ عزائم رکھنے والے عناصر سے متاثر ہوئے بغیر ماضی کی طرح امارات کے ساتھ تعلقات کو نئے سرے سے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر سعودیہ اور امارات کے تعلقات بگڑنے کے بعد اب پاکستان کے لیئے امارات کے متوازن تعلقات رکھنا ایک کڑا امتحان ہے کیونکہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے ساتھ منسلک ہے اور امارات کے اس معاہدے میں شامل ہونے کے امکانات وقتی طور پر مسدود ہو گئے ہیں۔ خطے میں سعودی عرب، پاکستان، ترکی اور ایران کا اچھا "سٹریٹجک ٹرائی اینگل” بنا تھا اور نیٹو کی طرز پر پاکستان کی زیر نگرانی اسلامی فوج بنانے کی خبریں بھی آ رہی تھیں لیکن امارات اور بھارت کے بڑھتے ہوئے ان سٹریٹجک تعلقات نے اس امکان کو کافی حد تک نقصان پہنچایا ہے کیونکہ امارات ایک برادر اسلامی ملک ہے دوسرا بھارت اور امارات کے ساتھ اسرائیل کے کافی مضبوط دفاعی اور تجارتی تعلقات ہیں اور یہ دونوں ملک نہیں چاہیں گے کہ امارات اس اسلامی فوج کا حصہ بنے۔
اس دورے کے بعد پاکستان امارات کے ساتھ اپنے دفاعی اور تجارتی تعلقات کو الگ رکھنے کی پالیسی پر گامزن نظر آتا ہے۔ تجارت کے شعبے میں پاکستان اور امارات کے تعلقات مضبوط اور مستحکم ہیں۔ اس سال بھی دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ امارات ہماری بندرگاہیں اور ائرپورٹس کا انتظام بھی چلا رہا ہے، پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر، بنکنگ، اور انڈسٹری میں امارات کی بھاری سرمایہ کاری ہے. یہاں تک کہ پاکستان نے لیبیا میں اماراتی پراکسی کو اسلحہ فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ مزید برآں، امارات میں پاکستانی کمیونٹی نہایت نمایاں ہے اور بھارتی کمیونٹی کے بعد پاکستانی وہاں کی دوسری بڑی آبادی شمار ہوتے ہیں، جس سے تعلقات میں سماجی اور اقتصادی گہرائی بھی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے باوجود، دونوں ممالک کے مفادات مختلف نوعیت کے ہیں۔ پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسٹریٹجک فاصلہ برقرار رکھے، کیونکہ ابراہام اکارڈ کے اثرات نے خطے کی سیاست کو نئے محاذوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ آج خطے میں دو واضح گروپس بنتے دکھائی دے رہے ہیں ایک طرف اسرائیل، عرب امارات اور بھارت، جبکہ دوسری طرف پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور ایران ہیں جس میں آذربائیجان بھی شامل ہونے کے لئے پر تول رہا ہے، اور اس خطے کے مستقبل میں پاکستان کے گروپ کو عالم اسلام کا واحد نمائندہ گروپ بننے کی امید ہے۔ پاکستان کے لئے اس نازک مرحلے پر اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے دفاعی، تجارتی اور سفارتی تعلقات کو متوازن رکھے، تاکہ علاقائی سیاست میں وہ اپنی خودمختاری اور اثر و رسوخ برقرار رکھ سکے۔ امارات کے ساتھ تعلقات کو مضبوط رکھنے کے باوجود دفاعی اور سٹریٹجک معاملات میں فاصلہ اختیار کرنا پاکستان کی قومی سلامتی کے لئے نہایت ضروری ہے۔
اس بناء پر گو کہ دونوں ملکوں کی انٹرسٹ اپنی اپنی ہے، لیکن بھائی چارے اور باہمی تعلقات مضبوطی سے برقرار رہیں گے اور اس کے علاوہ جہاں سے دونوں ملکوں کو فائدہ ملتا ہے وہاں سے لیں گے۔ پاکستان کے لئے سٹریٹجک فاصلہ اختیار کرنے سے بھی زیادہ اہم اس کی خارجہ پالیسی ہے جس کے ذریعے وہ امارات کو دوبارہ سعودی عرب کیمپ میں لا سکتا ہے۔ اگر اسلامی فوج کی بیل منڈھے چڑھتی ہے تو پھر امارات کا واپس سعودی عرب، ترکی، پاکستان اور ایران کے کیمپ میں آنا ہے ہی امارات کے لیئے ایک فطری فیصلہ ہو گا ورنہ خطے میں اس کے تنہائی کا شکار ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ امارات کے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات پر پاکستان کے کسی طبقے کو اعتراض نہیں ہونا چایئے، بلکہ حکومت ان کے خلاف آئیندہ ایسی بدنیتی پر مبنی ہرزہ سرائی کے خلاف سخت ایکشن لینا ہو گا۔ خارجہ پالیسی ایک سفارت کا ایک سنجیدہ معاملہ ہوتا ہے اس پر ہر ایرے غیرے کو رائے دینے یا اس کا تمسخر اڑانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ ہر ملک اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اسی مثبت سوچ کے ساتھ پاکستان کو امارات کے ساتھ تعلقات کو استوار کرنا ہو گا۔ پاکستان کی انڈیا، افغانستان اور ایران تجارت بند ہے لیکن بھارت اس معاملے میں پاکستان سے بہت آگے ہے۔ اماراتی صدر کے دورے کے دوران ابھی 200 ارب ڈالر کے معاہدے کیئے گئے لیکن یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ان معاہدوں کو کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے، ابھی ان معاہدوں پر عمل درآمد ہوا ہے اور نہ ہی کسی قسم کے بھارتی اسلحہ خریدنے کی کوئی ڈیل ہوئی ہے۔ انڈیا والے شادیانے بجا رہے تھے کہ جے ایف17 تھنڈر کے مقابلے میں ان کے آکاش میزائیل لئے جائیں گے، لیکن اس دورے کے دوران ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔ دراصل اماراتی صدر کا یہ دورہ یمن میں سعودی عرب کے حملے کے ردعمل کے طور پر بھی کیا گیا، اور اس دورے سے پہلے امارات کے صدر نے پاکستان کا دورہ کیا۔ امارات سے دونوں طرح سے گفت و شنید کے امکانات موجود ہیں۔ پاکستان کے لیئے موقع ہے کہ وہ سعودی عرب اور امارات کو ایک میز پر لانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ٹریڈ بڑھانے والی باتیں ہیں جو چلتی رہتی ہیں، سٹریٹجک خریداری امارات نے بھارت سے کی یا خفیہ طریقے سے پاکستان سے، وہ بغیر باتوں کے بھی ہو جانی ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |