اپنی پنی باری

                کسی محلے کے ایک حصے میں تین کتے رہتے تھے۔ جس میں سے پہلا پلے سے کچھ بڑے قدکا، دوسرا منجھلے قد کا اور تیسرا فل سائز کاتھا۔

                ایک بارسب سے چھوٹے قدکے کتے کوکہیں سے سے ایک ہڈی پڑی ہوئی مل گئی۔ وہ اس سے کھیلتے کھیلتے ہوئے گھومنے لگا، تبھی منجھلے قد کے کتنے کی نظر اس پرپڑی۔بس پھرکیاتھا، وہ اس پر چڑھائی کربیٹھا۔ چھوٹے کتے کوبھی شاید اپنی اوقات معلوم تھی، تبھی تووہ دم دبا کر خودحوالگی کی ادامیں اس منجھلے کا منھ چاٹنے لگا، مانووہ کہہ رہاہو، حضور!اسے تومیں آپ کے لیے ہی لارہاتھا۔ اس کی اس حالت پرمنجھلے نے فلسفی کے سے اندازمیں اپنے کان کھڑے کرلئے، مانوسوچ رہاہو، ماردیاجائےیاچھوڑدیاجائے۔

                ……خیر جوبھی ہو، ہڈی اب منجھلے کے قبضے میں تھی۔ اتنے میں تیسرافل سائز کاکتا گھومتاہوا ادھر آنکلا۔

aalok-kumar-

آلوک کمار ساتپوتے

افسانہ نگار

چھتیس گڑھ صوبہ کے سرکاری رسالہ کے مدیرکے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

ہندوستان کے تمام پروگیسیو اخبارات و رسائل میں افسانے شائع ہوچکے ہیں۔

آلوک کمار ساتپوتے

تعلیم : ماسٹرآف کامرس پیشہ : سرکاری ملازم حکومت چھتیس گڑھ منصب : چھتیس گڑھ صوبہ کے سرکاری رسالہ کے مدیرکے فرائض انجام دے رہیں ہے۔ ٭ ہندوستان کے تمام پروگیسیو اخبارجیسے:دینک بھاسکر، راجستھان پتریکا، امراجالا، راشٹریہ سہارا، نوبھارت، ہری بھومی، دیش بندھو وغیرہ میں منی افسانوں کی اشاعت عمل میں آچکی ہے۔ ٭ ہندوستان کی تقریباً سبھی پروگیسیو رسائل جیسے:ہنس، کتھادیش، واگرتھ، عام آدمی، کتھاکرم، ورتمان ساہتیہ،قدم بینی، پاکھی، پنرنوہ وغیرہ میں بھی منی افسانوں کی اشاعت عمل میں آچکی ہے۔ ٭ ریڈیو رائے پور سے افسانے نشرہوچکے ہیں

Next Post

میرا گاؤں غریب وال - 4

پیر مئی 31 , 2021
سادات گھرانے سے سیّد قلندر حسین شاہ ولد سیّد امیر حسین شاہ اب بھی نجف اشرف میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں
Mial Pond Ghareebwal