نقوش ِ عنبرؔ بہرائچی

  یہ کووڈ کی عالمی وبا پورےملک اور دنیا اور خاص کر   دنیائےعلم و ادب کے لئے  دوسال سے بہت تکلیف دہ ثابت ہو رہی ہے ۔لگاتارعلم و ادب کے نایاب ہیرے  اس وبا کا شکار ہو کر اس فانی دنیا سے  رخصت ہو رہے۔کچھ دنوں میں لگاتار عبرتؔ بہرائچی ،رئیس ؔالشاکری ،شمیم حنفی اور ان کے بعد عنبرؔ بہرائچی کی وفات بھی انہی میں سے ہیں۔یہ وہ نام ہیں جو نصف صدی سے ملک و بیرون ملک میں ادب کے ممتاز  ناموں میں شمار تھے۔ اللہ رب العزت اس عالمی وبا سے ہم سب کو محفوظ رکھے۔ آمین

            ہمارے بہرائچ کو یہ شرف حاصل ہے کہ ہمارے وطن عزیز ہندوستان کے سب سے اعلیٰ ادبی انعام ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ضلع بہرائچ کے جس عظیم شاعر کو ملاان کو دنیا ئے ادب کا نام محمد ادریس عنبر ؔ بہرائچی کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے۔جو مشہور استاد شاعرحضرت مولانا  جمال الدین احمد  بابا جمالؔ بہرائچی کے ادبی اسکول  جو ہر شام کو شہر کے گھنٹہ گھر کے میدان میں اشوک کے درخت کے سایہ میں لگتا تھا کے ایک گہر نایاب تھے جہاں سے    عبد الوحید مکری رزمیؔ بہرائچی،نعمت ؔ بہرائچی،پارس ناتھ بھرمرؔ بہرائچی، سید نظر الحسنین شاعرؔ جمالی وغیرہ  جیسے شاعرو معروف شاعر نکلے ۔  یہ مضمون میری کتاب زیر ترتیب کتاب ’’ بہرائچ ایک تاریخی شہر ‘‘ کے حصہ دوم ’’ بہرائچ اردو میں ‘‘ کے  اقتباسات  پر مشتمل ہے۔

            عنبر صاحب کی ولادت۵؍جولائی۱۹۴۹ءکو ضلع بہرائچ کے ترقیاتی حلقہ مہسی کے سکندر پور علاقہ میںہوئی تھی۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے جغرافیہ میں ایم۔اے کیا اور صحافت کا ڈپلوما بھی حاصل کیا۔پو۔پی کے سول سروس کے مقابلہ جاتی امتحان میں بیٹھے اور کامیاب ہوئے مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔

عنبر ؔبہرائچی اپنے بارے میں  لکھتے ہیں:۔

”جب میں پانچ برس کا تھا ،یہ میری زندگی سے متعلق جیٹھ مہنیے کی تپتی ہوئی دوپہرتھیں۔میری خوش بختی اور اللہ رب العزت کااحسان کہ میرے والد مرحوم جمیل احمد (جمیلؔ مہاراج گنجوی) صاحب اور میرے تیسرے چچا محمد افتخار صاحب نے گاؤں میں ہر جمعرات کو برپا ہونے والی میلاد کی محفلوں میں نعت خوانی کی تہذیب سکھائی۔چونکہ خوش آواز تھااس لئے قرب و جوار کی ان محفلوں میں نعت خوانی کرتا رہتا تھا۔اکبر ؔوارثی میرٹھی مرحوم اور فاضلِ بریلوی مولانا احمد رضا خاں صاحب کی نعتیں اور سلام نے سرشار کر رکھا تھا۔اس پاکیزہ مشغلے نے مجھے ثابت قدم رکھا اور عملی زندگی کے تاریک پہلوؤں کا سایہ نہیں پڑنے دیاورنہ میرے جیسا بہت کمزور شخص خود کسی لائق نہیں تھا۔مسیں بھیگنے لگیں تو اپنے گہوارے کی زبان اودھی میں نعتیہ گیت لکھنے لگا اور اپنے گاؤں کے اطراف برپا ہونے والی نعتیہ محفلوں میں پڑھتا رہا۔لوگ خوش ہوکر دعائیں دیتے رہے۔ایم۔اے کرنے کے بعد تقریباً  چھ ہفتے لکھنؤ میں گزارے۔اسی دوران استاد بابا جمالؔ بہرائچی مرحوم نے میرا تخلص عنبرؔ تجویز فرمایا۔اللہ انھیں غریق رحمت کرے۔بعد میں سال ۱۹۷۳ءمیں الہ آباد پہنچا۔دائرہ شاہ محمدی،کہولن ٹولہ اور دائرہ شاہ اجمل کی محفلوں نے اس مشغلے کو مہمیز کیا۔۱۹۷۲ءمیں ہی عربی یونیورسٹی مبارک پور کےافتتاحی جلسے میں ہزاروں علما ء کی موجودگی میں حافظ ملت حضرت مولانا عبد العزیز صاحب کی دعائیں حاصل ہوئی اسی جلسے کئی اور یہیں حضرت مولانا ارشدالقادری اور دوسرے اہم علما ئے کرام نے بھی میری حوصلہ افزائی کی۔مولانا قمرالزماں صاحب ،مولانا بدر القادری صاحب اور مولانا شمیم گوہر صاحب سے بھی نیاز حاصل ہوا ۔“(  روپ انوپ ، عنبر ؔ بہرائچی۲۰۱۰ءص ۹-۱۲)

۱۹۷۹ءمیں عنبر ؔ بہرائچی صاحب کا انتخاب سول سروس میں ہو گیا اور اتر پردیش کے مختلف اضلاع میں اہم عہدوں پر فائز رہے ۔آپ کو ۲۰۰۰ءمیں شعری مجموعہ ’’سوکھی ٹہنی پر ہریل ‘‘ کے لئے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے سرفراز کیاگیا۔آپ نے اردو،ہندی اور اودھی زبان میں کئی کتابیں تصنیف کئی ہیں۔آپ سنسکرت شعریات کے ماہرہے۔آپ کی سنسکرت شعریات پر کئی کتابیں شائع ہو کر منظر عام پر آ کر داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں جن کے نام اس طرح ہیں:

مہا بھنشکرمن،سنسکرت بوطیقا،سنسکرت شعریات ،آنند وردھن اور انکی شخصیت ،روپ انوپ،لم یات نظیرک فی نظر،سوکھی ٹہنی پرہریل،خالی سیپوں کا اضطراب ،ڈوب،گمنام جزیروں کی تمکنت ،اقبال ایک ادھین وغیرہ۔

پروفیسر وہاب اشرفی لکھتے ہیں :۔

”عنبر ؔبہرائچی نے اس وقت سے لکھنا شروع کیا جب وہ ہائی اسکول کے طالب علم تھے۔اردو کے علاوہ ہندی اور انگریزی میں بھی لکھتے ہیں۔’’اقبال:ایک ادھین‘‘۱۹۸۵ءمیں ہندی میں شائع ہوئی تھی۔۱۹۸۷ء                                            میں آپ نے ایک رزمیہ قلمبند کیا جس کا نام تھا’’مہابھشکرمن ‘‘ یہ مہاتما بدھ کی تعلیمات پر مبنی ہے۔پھر نظموں اور غزلوں کا مجموعہ ’’ڈوب ‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔’’سوکھی ٹہنی پر ہریل ‘‘۱۹۹۵ءمیں شائع ہوئی۔اس کتاب پر ۲۰۰۰ءمیں آپ کو ساہتیہ اکادمی انعام بھی حاصل ہوا۔اس کے بعد۱۹۹۶ءمیں ایک اور ایپک ’’لم یات نظیرک فی نظر ‘‘ جس میں حضرت محمدؐکی سیرت اور تعلیمات کو منظوم اندازمیں پیش کیا ہے شائع ہوئی۔ آپ کی ایک اہم کتاب ’’سنسکرت شعریات ‘‘ہے یہ کتاب۱۹۹۹ءمیں شائع ہوئی۔آپ کی غزلوں کا ایک مجموعہ ’’خالی سیپیوں کا اضطراب ‘‘۲۰۰۰ءمیں شائع ہوئی۔ عنبر ؔ بہرائچی کی حیثیت منفرد ہے۔ان کی شاعری کا ایک سرسری مطالعہ بھی بتا دے گا کہ شمالی ہندوستانی بولیوں پر ان کی کتنی گہری نظر ہے۔اودھی ،برج،بھوجپوری سے ان کی واقفیت کا ہر قدم پر احساس ہوتاہے۔لیکنیہی نہیں بلکہ اس تعلق سے متعلقہ تہذیبی اور ثقافتی زندگی سے بھی ان کی آشنائی قابل لحاظ ہے۔ان کی شاعری کا پس منظر عام طور سے ہندوستان کی دیہی زندگی اور معاشرت پر مبنی ہے۔آپ نے جو ادبی رزمیہ قلمبند کیا ہے اس کی ہیئت کچھ قدیم  سنسکرت کے متن پر ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ قصیدہ اور غزل کی جو محترم روایات رہی ہیں ان پر بھی گہری نظر ہے۔‘‘(تاریخ اردو ادب جلد سوم،وہاب اشرفی۲۰۰۷ء ص ۱۷۹۸)

نعمت ؔ بہرائچی لکھتے ہیں:۔

”عنبر کے کلام میں جہا ں ایک طرف برق ونشیمن ،گل و بلبل،بہارو خزاںکے ساتھ ساتھ رخسار و کاکل کی بھی جھلک ہے ،وہیں دوسری طرف نئے معاشرے کے مسائل نئے انداز میں اور جدید لب و لہجہ میں کہتے ہیں۔آپ جدید شاعروں کے اس طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں جو صرف صحت مند جدید شاعری کے قائل ہے۔“(تذکرۂ  شعرائے ضلع بہرائچ ،نعمتؔ بہرائچی۱۹۹۴ءص ۷۶)

فضیل جعفری لکھتے ہیں:۔

’’۱۹۶۰ء والی شاعری صنعتی تہذیب اور سیاسی نیز ثقافتی جبرکے اثرات سے پیدا ہونے والی مؤثر اور معتبر شاعری تھی۔اس کے بر خلاف عنبرؔ بہرائچی نے دیہات اور اس سے وابسطہ روزمرہ زندگی کے مختلف پہلووں کو اپنی شاعری کا غالب موضوع بنایا۔مقامی بولیوں مثلاً اودھی اور برج بھاشا سے لیے جانے والے استفادے نے ان کی شاعری لفظیات کو بھی انفرادیت عطا کی۔اگرچہ یہ خصوصیت تمام نظموں میںیکساں طور پر نہیں پائی جاتی۔ان کی بہت سی نظموں کی زبان وہی ہے جو دوسرے ہم عصر شعرا کی زبان ہے ۔عنبر بہرائچی کی شاعری میں فطرت کا حسن ہے،مشرقییوپی کی دھرتی کے بوباس ہے۔پیڑوں ،پودوں،دریاؤں،جنگلوں،کچےمکانوں ،تالابوں،معصوم شریں امنگوںاور تلخ حقائق کی دھوپ چھاؤں ہے۔عنبر ؔ ہمارے پہلے جدید دیہی شاعر(Rural Poet) ہیں اور یہی ان کا مضبوط قلعہ ہے۔“(ملنگ ملہار  ،عنبرؔ بہرائچی۲۰۱۳ءص ۸-۹)

ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد آپ نے لکھنؤ میں سکونیت اختیار کی اور وہیں رہتےتھے۔

۷؍مئی۲۰۲۱ء مطابق ۲۴؍رمضانالمبارک۱۴۴۲ھ کوبہرائچ کا نام اردو ادب میں سنہرےلفظوں میں لکھوانے والے اس عظیم شاعر نے صوبہ اتر پردیش کے دارالحکومت میں لکھنؤ میں وفات ہوئی۔آپ کی اہلیہ محترمہ شائشتہ عنبر ہیں۔آپ نے وہاں ایک مسجد عنبر مسجد کے نام سے تعمیر کرائی جو ایس جی پی جی آئی کے نزدیک واقع ہے۔آپ کی اہلیہ حقوق نسواں کے لئے کام کرتی ہے،اور آل انڈیا ویمنس مسلم پرنسل لابورڈ کی بانی صدر ہیں۔

Juned

جنید احمد نور

بہرائچ

جنید احمد نور

Next Post

سنجوالی گاؤں میں پنجابی مشاعرہ

جمعہ مئی 14 , 2021
سنجوالی گاوں میں دریائے ہرو کی پرامن لہروں کے سنگ کاروان قلم اٹک کے زیرِ اہتمام پنجابی زبان میں 11 اپریل 2021 کو ایک محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا
poets sitting in sanjwali village

مزید دلچسپ تحریریں