اٹھائے گا کون ہاتھ اب دعا کیلئے

iattock

آج ماؤں کے عالمی دن پر اپنی والدہ کو ایک خراج تحسین عمران اسد کے قلم سے
ابھی دنیا میں آئے ہوئے چند ہی روز ہوئے تھے کہ والد صاحب روڈ حادثے میں چل بسے اور یوں محض 27 دن کی عمر میں یتیمی کا داغ سجائے زندگی کے سفر کی شروعات ہوئی لیکن یہ سفر مشکل اور کٹھن ہونے کے باوجود آسان رہا کہ والدہ کی دعائیں نیک تمنائیں ہمیشہ ساتھ رہیں بلکہ وقت کے گزرنے کا پتہ بھی نہ چلا انھوں نے کبھی والد کی کمی محسوس ہی نہ ہونے دی ایسی جرات اور بہادری سے نہ صرف خود مقابلہ کیا بلکہ اپنے بچوں کو بھی سکھایا کہ جیسے بھی حالات ہوں ہمیشہ اپنی عزت اور وقار کو اہمیت دی جائے
میں سمجھتا ہوں ماں کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے نہ کوئی مسلک وہ رنگت قبیلے زبان وغیرہ کے چکروں سے مبرا ایک ایسی مخلوق جس کے خمیر میں اللہ پاک نے اپنی محبت کا پرتو ڈالا ہے اسی لیے تو اس نے جب اپنی رحمت کی مثال دینی پڑی تو تو پوری کائنات میں ماں ہی کی مثال دی شاید یہی وجہ ہے کہ آپ کو تمام دنیا کی مائیں ایک جیسی ہی لگتی ہیں
ماں کی ایک اور عادت بھی خدا سے بہت ملتی ہے قصور چاہیے جتنا بڑا ہو دونوں ہی معاف کر دیتے ہیں بعض اوقات ہم بھائی جب کسی چیز پر بہت تنگ کرتے تو پہلے تو ہلکی سی پٹائی کرتی جب معاملات ہاتھ سے نکلتے دکھائی دیتے تو اپنی مشہور زمانہ دھمکی کہ اپنے ابا کے گھر چلی جاؤں گی کبھی کبھی بات زیادہ بڑھ جاتی تو اپنے دو جوڑے کپڑے لپیٹ کر ایک بیگ میں ڈال ہی رہی ہوتی کہ خوف سے ہم لپٹ کر کہتے آپ مت جاؤ ہمیں چھوڑ کر پھر ہمارے ساتھ خود بھی رونا شروع کر دیتی اور کہتی میں نے تم بچوں کو چھوڑ کر کہاں جانا ہے۔
والد صاحب کی وفات بھی اوائل عمری یعنی صرف 32 سال کی عمر میں ہوئی تھی جبکہ والدہ کی عمر اس وقت 21 سال تھی کمسنی کی بیوگی اور بغیر کسی ظاہری سہارے کے چار بچوں کی کفالت لیکن اس کے باوجود انہوں نے یہ معجزہ کر دکھایا حالت یہ تھی کہ دکھ تکلیف کس کو کہتے ہیں انہوں نے کبھی اس کا احساس ہی نہیں ہونے دیا بڑے بہن بھائی چونکہ عمر کے اس حصے میں تھے کہ انہیں اس حادثے کی شدت کا بھرپور احساس تھا لیکن ہم چھوٹے دو بھائیوں خصوصاً مجھے سب سے چھوٹا ہونے کے وجہ سے کبھی والد کی کمی کا احساس ہی نہیں ہونے دیا بچوں کی پرورش یوں کی جیسے کسی سلطنت کے شہزادے جن کے پاس نہ پہننے کے لئے زرق برق لباس، نہ کھلونوں کے انبار، منہ سے نکلی ہر بات پوری نہ سہی لیکن عزت اور خودداری کے ساتھ محبتوں کا بے پایاں سمندر تھا جس کی آغوش میں زمانے کے سرد و گرم سے دور رکھا گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں کچی روٹی اور پکی روٹی کے قصے اور سردیوں کی طویل راتوں میں سیف الملوک اور جمال پری کی دیو مالائی داستان سناتی۔  شاید وہ دور بھی ایسا تھا کہ سارے محلے کے طرزِ زندگی میں انیس بیس کا فرق ہوتا تھا اور سرکاری سکول میں بھی سب بچے ایک جیسے ہوتے تھے اگرچہ والد کی وفات کے بعد مالی مشکلات بہت تھیں پریشانیاں بھی لیکن کبھی قسمت کا شکوہ نہ کیا ۔ راضی بہ رضا رہی اور ہمہ وقت زبان شکرِ خداوندی سے لبریز دیکھی۔ دوسروں کی مدد کا جذبہ ہمیشہ موجزن دیکھا۔ تنگدستی کے باوجود خاندان اور محلے کے متعدد خواتین کی مسلسل مالی مدد اور ان کی رہنمائی کرتی اسی لیے سب اپنے پرائے چھوٹے بڑے ان کو آپا جی کے نام سے پکارتے بلکہ ہمارے گھر کے صحن میں ہر وقت خواتین کا ہجوم رہتا اور وہ اپنے دکھڑے والدہ کو سناتی پھر وہ کسی کو کوئی آیت کریمہ کا ورد کرنے کو کہتی اور کسی کو امور خانہ داری کا کوئی نسخہ سمجھاتی زمانے اور حالات نے ان کو وقت سے پہلے ہی بہت ساری چیزیں سمجھا دی تھیں بلکہ ہمارے دوستوں سے بھی ان کی محبت قابل دیدنی ہوتی تھی۔ حالات چاہیے جیسے بھی تھے لیکن تعلیم سے ان کی محبت قابل ستائش تھی چار بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنا کچھ اتنا سہل نہیں تھا مگر یہ ان کی علم دوستی کی انتہا تھی کہ انھوں نے ہم تمام بہن بھائیوں کی تعلیم کو دیگر أمور پر ترجیح دی اور ہمارے علم کے حصول کا سفر جاری رہا۔ اس سفر کے دوران کئی مواقع ایسے بھی آئے کہ والدہ کے پاس سکول کی فیس ادا کرنے کے لئے پیسے بھی نہیں تھے لیکن انہوں نے پھر بھی ہمیں پڑھایا بلکہ کئی دفعہ کچھ لوگوں نے حالات کی تنگی کے پیشِ نظر بڑے بھائی کو کوئی چھوٹی موٹی سی نوکری پر لگانے کا کہا تو یہ کہہ کر انکار کر دیا نہیں میں انہیں پڑھاؤں گی
پچھلے سال 2020 کے شروع میں جب میں چھٹیاں گزارنے پاکستان گیا ہوا تھا تو صبح میں اپنا ناشتہ لے کر ان کے کمرے میں گیا تو اشراق کی نماز پڑھ رہی تھیں جو کہ خلاف توقع کافی طویل ہو گئی پھر جب میری موجودگی کا احساس ہوا تو کہنے لگی میں اپنے والدین اور دیگر فوت شدگان رشتہ داروں کی مغفرت کے لیے ہر روز نفل پڑھتی ہوں پھر ایک دم گویا ہوئی میں بھی جب مر جاؤں گی تو تم بھی میرے لیے پڑھنا پہلے تو مجھے سمجھ ہی نہ آئی کہ کیا بولوں پھر خود ہی کہنے لگی اچھا چلو ہر روز نہ سہی جب کبھی تمہیں فرصت ملے پڑھ لیا کرنا تاکہ میں یاد رہوں میں نے بے ساختہ کہا بے جی اور ان کی گود میں سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا
ماں تھی اپنی اولاد کی کوتاہیوں اور خامیوں سے بخوبی واقف تھیں اس لیے ہر نماز کے بعد درود و سلام کے بعد اپنی انگلیوں پر پھونک مار کر اپنے پورے بدن پر پھیرتی اور کہتی اے میرے مولا مجھے کسی کا محتاج نہ کرنا جس رب نے انہیں کبھی تنہا نہ چھوڑا ہو وہ بھلا ان کی یہ دعا کیسے رد کرتا لہذا 19 اپریل 2021 بمطابق 6 رمضان المبارک عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد لیٹ گئی بھائی نے پوچھا امی آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے کہنے لگی ہاں ہاں بالکل ٹھیک ہے بس تھوڑا تھک گئی ہوں ان کی بگڑتی حالت کے پیش نظر بھائی ان کو لیکر ہسپتال کی طرف روانہ ہوا جب وہاں پہنچے تو پتہ چلا کہ اپنے دائمی سفر پر روانہ ہوگئی ہیں اگلے دن ان کو اپنے آبائی گاؤں پنڈیگھیب میں تقریباً پچاس سال بعد اپنے مجازی خدا کی برسی سے ایک دن پہلے (یاد رہے کہ میرے والد صاحب 8 رمضان کو فوت ہوئے تھے) ان کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا
ماں اگرچہ جسمانی طور پر آپ ہمیں چھوڑ کر اپنے ازلی گھر چلی گئی ہو لیکن آپ کی دعائیں نیک تمنائیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی بلکہ اب بھی جب کبھی گردشِ زمانہ سے تھک کر میں ہاپنے لگتا ہوں تو مجھ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ میرے ماتھے پر اپنا مخصوص بوسہ دے رہی ہو، آپ اپنے پلو کو بھگو کر میرے ماتھے پر رکھ رہی ہو اور ساتھ ساتھ قرآن پاک کی تلاوت اور پھر روحانیت سے بھرپور پھونک جو ساری مشکلیں آسان کر دیتی مجھے اب بھی یقین ہے کہ نہ جانے کتنے ان دیکھے طوفان آپ نے اپنی دعاؤں سے ٹالے ہوں گے کیونکہ مائیں کب مرتی ہیں بس ان کی ڈیوٹی بدل جاتی ہے ورنہ وہ اپنی دعاؤں خوشبوؤں اپنے طریقے اپنے بچوں کی تربیت اور اپنی باتوں سے ہمیشہ ہمارے آس پاس رہتی ہیں میں اب بھی خود کو آپ کی دعاؤں کے حصار میں محصور سمجھتا ہوں اور سورۃ الرعد کی اس آیت میں بھی آپ کی دعاؤں کے سبب آپ سے ملنے کی امید ہے کہ جَنَّاتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَـهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَـآئِـهِـمْ وَاَزْوَاجِهِـمْ وَذُرِّيَّاتِـهِـمْ ۖ وَالْمَلَآئِكَـةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْـهِـمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ (23)
ہمیشہ رہنے کے باغ جن میں وہ خود بھی رہیں گے اور ان کے باپ دادا اور بیویوں اور اولاد میں سے بھی جو نیکو کار ہیں، اور ان کے پاس فرشتے ہر دروازے سے آئیں گے
حتیٰ کہ پاکستان سے واپس آنے کے بعد جب میں کرونا کے موذی مرض میں مبتلا ہو گیا تو ہوٹل کے کمرے میں اکیلا جب کوئی پانی پلانے والا بھی نہیں تھا یہ آپ کی محبت ہی تھی جو مجھے تسلی دیتی اور میری ڈھارس بندھاتی اور پھر سدا ساتھ رہنے والی آپ کی دعاؤں کے طفیل اللہ پاک نے اس امتحان سے بھی سرخرو کیا
بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور
آپ کتنی خوش قسمت ہو کہ اپنے سارے کام بروقت کر کے اپنے سچے رب جس کی رحمت کا آپ کو ہمیشہ یقین رہتا تھا کے پاس چلی گئی اور آپ کے اس محتاج بیٹے کے پاس سوائے آنسوؤں کے کچھ بھی نہیں
لفظ پھر لفظ ہیں جذبوں کو سمجھیں کیونکر
کیسے  کر  پاؤں  اظہار  عقیدت  تجھ  سے


iattock

عمران اسدؔ

پنڈیگھیب

حال مقیم مسقط، سلطنت آف عمان

عمران اسؔد

Next Post

نقوش ِ عنبرؔ بہرائچی

بدھ مئی 12 , 2021
یہ مضمون میری کتاب زیر ترتیب کتاب ’’ بہرائچ ایک تاریخی شہر ‘‘ کے حصہ دوم ’’ بہرائچ اردو میں ‘‘ کے اقتباسات پر مشتمل ہے۔
shallow focus photography of lavenders