ذمہ داران کو سیکھنے کی ضرورت
بعض دفعہ کسی کا ایک فقرہ معترضہ، نصیحت یا تنقید کے چند الفاظ سیکھنے والے پر ایسا اثر کرتے ہیں کہ اس کے سوچنے کی صلاحیت میں گونا گوں بہتری آ جاتی ہے۔ کل ایک اخبار کے ایڈیٹر نے مجھ سے کہا کہ، "بس کر دیں ایک ریٹائرڈ قابض شخص کی اتنی تعریفوں کے قلابے نہ ملائیں ڈیئر۔” جنرل عاصم منیر پر لکھنا پیچیدہ موضوع ہے ان کے چاہنے والوں ، تنقید کرنے اور ان کے مخالفوں کی کمی نہیں ہے۔ خیر میں نے جنرل صاحب پر تعریف و توصیف کے یکطرفہ کالم کبھی نہیں لکھے ہیں۔ اس کے باوجود ایڈیٹر صاحبان اور قارئین اختلاف کا کوئی پہلو نکال ہی لیتے ہیں۔ ایک لکھنے والے کا یہ صحافتی فرض بھی بنتا ہے کہ وہ ان کی شخصیت اور کارکردگی کے اچھے اور برے دونوں پہلوؤں کا جائزہ لے۔
یہ کوئی بڑی تنبیہ یا وارننگ نہیں تھی لیکن اس ایک فقرے نے مجھ پر انگریزی کے ایک وسیع المفہوم محاورے جتنا اثر کیا۔ انگلش کا یہ مقولہ نما لفظ "اینلائیٹنمنٹ” ہے جس کا مطلب انسان کے اندر تبدیلی کی روشنی پیدا ہو جانا ہے۔ میں ایک عام فہم اور معمولی سا لکھاری ہوں اور خود کو یکدم بدلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہوں۔ میرا سیکھنے کا عمل بھی بہت سلو ہے۔
میں عموما ایک خاص ذہنی کیفیت میں جا کر لکھتا ہوں۔ اس کو آپ آورد بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ کیفیت کالم لکھنے میں مجھے آسانی اور روانی فراہم کرتی ہے لیکن اس کا ایک نقصان یہ ہے کہ میں کسی موضوع پر لکھتا ہوں تو بعض دفعہ مجھ سے سہوا مخالف پہلو چھوٹ جاتے ہیں۔
بسا اوقات میری یہ کمزوری زندگی کے دوسرے معاملات میں بھی مجھے قدرے مالی یا دنیاوی نقصان پہچانتی ہے جب میں کاموں کو نفع اور نقصان کے بارے سوچے سمجھے بغیر انجام دیتا ہوں لیکن اس کا مثبت پہلو یہ ہوتا ہے کہ میں ایسا انسانی ہمدردی اور اقدار کی بابت کرتا ہوں۔
میرے کالموں کی سرخیاں بھی کبھی کبھار ایڈیٹرز کو تبدیل کرنی پڑتی ہیں۔ میں اچھا اور متاثرکن کالم اسی صورت میں لکھ پاتا ہوں جب میرا ذہن تنقیدی طور پر باخبر اور ہوشیار ہوتا ہے۔ میرے سمیت ہر لکھنے والے کے لیئے ضروری ہے کہ وہ موضوعات کو وسیح تناظر میں دیکھنے کے بعد لکھنے کی کوشش کرے۔ میں لکھنے سے پہلے اپنا تنقیدی جائزہ بہت کم لیتا ہوں۔ ویسے تو روزانہ کی بنیاد پر خود کو وقت دینا چایئے مگر ہماری روزمرہ کی زندگی اتنی تیز ہے کہ دنوں مہینوں تک ہم خود سے مل نہیں پاتے ہیں۔ لکھنے والے کو وقت اور حالات کا نبض شناس ہونا چایئے اگر وہ خود بھی جانب دار بن کر سوچے گا یا اس کا ذہن تمام پہلوؤں پر غور نہیں کرے گا تو اس کے لیئے ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے موضوع سے انصاف کر سکے۔
انسان ازل سے سیکھتا چلا آ رہا ہے اور ابد تک سیکھتا رہے گا لیکن دوسروں کی تنقید بھری یا سچی اور پراثر بات سے سیکھتا وہی انسان ہے جو اپنی غلطی یا کج روی کو تسلیم کرنے کی جرات کرتا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک انسان کچھ نہ کچھ برخود غلط ہوتا ہے۔ غلطی کرنا انسان ہونے کی علامت ہے. اول ہم اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے دوم اسے درست بھی نہیں کرتے۔ اس سے جہاں ہم غلطی کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں وہاں ہم بہ حیثیت انسان اپنی اور دوسروں کی نظروں سے بھی گر جاتے ہیں۔
جہاں تک ایک لکھنے والے کا دوسروں کی نصیحت اور تنقید سے سیکھنے کا تعلق ہے تو اس کے لیئے اور بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی اصلاح کے لیئے ایڈیٹر کی کسیلی کڑوی باتوں کو بھی نہ صرف برداشت کرے بلکہ ان سے سیکھنے کی بھی کوشش کرے کیونکہ ایک صحافی کو ایڈیٹر کی نصیحت کرنا ایک اعزاز بھی ہے۔
چیف مارشل، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفینس فورسز بہت بڑے اعزازات ہیں لیکن ان تمام عہدوں کا حامل سید عاصم منیر بھی آخر ہم جیسا انسان ہے بلکہ بڑے عہدوں اور زیادہ بڑی زمہ داریوں کی وجہ سے انہیں زیادہ غلطیاں کرنے کے امکان کا سامنا ہو سکتا ہے اور انہیں برداشت اور صبر و تحمل کے ساتھ ہم صحافیوں کی طرح سیکھنے کی بھی زیادہ ضرورت ہے۔
Title Image by Michael Kauer from Pixabay

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |