خلیجی جنگ میں امریکی گومگو کی حالت
امریکہ دلدل میں پھنس گیا ہے۔ یہ وہ آواز ہے جو ہمارے میڈیا پر ہر طرف گونج رہی ہے۔ اس جنگ میں امریکہ فوری نتیجہ چاہتا تھا۔ امریکہ نے خلیج فارس کے پانیوں میں پڑاؤ ڈالنے کے بعد حملہ کرنے میں دیر کی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکہ بھرپور حملے کے لیئے موقع کی تلاش میں تھا۔ 28 فروری کو حملہ کے پہلے روز ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کی صورت میں اسے یہ موقعہ مل بھی گیا۔ اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام سے اپیل کی کہ اب وہ اپنی قیادت کا خود انتخاب کریں۔ لیکن جنگ کی طوالت کے ساتھ جہاں "رجیم چینج” ایک خواب بنتا جا رہا ہے وہاں امریکہ کو یہ جنگ کافی مہنگی پڑ رہی ہے۔ امریکہ خلیج سے پیچھے ہٹ پا رہا ہے اور نہ ہی اسے اپنے بنیادی مقصد میں کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔
امریکہ کا اس جنگ میں بنیادی مقصد ایرانی ایٹمی اثاثوں کو تباہ کرنا نہیں تھا بلکہ یہ محض ایک بہانہ تھا، دراصل امریکہ ایران میں رجیم چینج کرنا چاہتا تھا جس میں امریکہ کو ابھی تک کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی ہے، جبکہ موجودہ جنگ میں امریکہ کو ماضی کی جنگوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ اخراجات بھی برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔ ایران ہوم میڈ سستے میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کر رہا ہے، جبکہ امریکہ ایرانی حملوں کو فضا ہی میں ناکارہ بنانے کے لیئے جو ریسیپٹرز میزائل یوز کر رہا ہے وہ مقابلتا انتہائی مہنگے ہیں۔ ایران کے ایک میزائل کو روکنے کے لیئے امریکہ یا اسرائیل کو کم و بیش سو انٹرسیپٹو میزائل فائر کرنا پڑتے ہیں جس میں سے ہر ایک میزائل کی قیمت کم و بیش دس ملین ڈالر کی ہے۔
پھر سو فیصد یہ بھی گارنٹی نہیں ہے کہ اتنے سارے مہنگے امریکی اور اسرائیلی ریسیپٹر میزائل ہر ایرانی میزائل کو روک سکیں۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ کو روزانہ اس جنگ میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ اخراجات اٹھانے پڑ رہے ہیں، جبکہ امریکہ کو اس مہنگی ترین جنگ میں اسرائیل کے علاوہ کسی مغربی اتحادی کی بھی مدد نہیں مل رہی ہے۔ برطانیہ اور اسپین نے کھل کر اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ خطے میں امریکہ کا جنگی ساز و سامان بھی تیزی سے ختم ہو رہا ہے، کیونکہ اطلاعات ہیں کہ امریکہ جنوبی افریقہ کے اپنے اڈوں سے خلیج میں مزید آرسینلز لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری طرف یہ اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ خلیج میں امریکہ کے عرب اتحادی بھی امریکہ کو ایران کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے سے کترا رہے ہیں۔
قطر نے امریکہ کو ایران کے خلاف اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ قطر کا یہ موقف علاقائی کشیدگی کے عین اس وقت سامنے آیا ہے جب جنگ اگلے انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق قطر کا ایران پر حملے کے لیے اپنی سرزمین یا فضائی حدود استعمال نہ کرنے دینے کا فیصلہ محدود نہیں ہے، بلکہ سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ممالک نے بھی امریکہ کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنی سرزمین سے کسی بھی فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے۔ رپورٹس کے مطابق اس انکار میں ایرانی سرزمین پر حملوں کے لیے امریکی طیاروں کی ری فیولنگ (ایندھن بھرنے) اور جاسوسی طیاروں کی پروازوں سمیت تمام معاونت شامل ہے۔ قطر امریکہ کا اہم اتحادی ہے اور یہاں خطے میں امریکی فوج کا سب سے بڑا اڈہ، العدید ایئر بیس موجود ہے۔ اس کے باوجود قطر نے اپنی طویل مدتی سلامتی، شراکت داری اور ایران سے براہ راست تصادم سے بچنے کی خاطر توازن قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حالیہ امریکہ اسرائیل حملوں کے بعد، قطر نے ایک احتیاطی اقدام کے طور پر عارضی طور پر اپنی فضائی حدود پروازوں کے لیے بند کر دی تھیں، اور اپنے فضائی دفاع کو فعال کر دیا تھا۔ ایرانی میزائلوں کو روکنے کا یہ عمل قطر کی خود مختاری کے تحفظ کی کوشش ہے، نہ کہ کسی حملے میں امریکہ کی معاونت ہے۔
جنگ ایک غیر یقینی صورتحال میں لڑی جاتی ہے جس کی صداقت اور حتمی نتائج کے بارے قبل از وقت کچھ نہیں جا سکتا ہے۔ امریکہ کتنی دیر تک اس مہنگی جنگ کا بوجھ اٹھا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب خود امریکہ کے پاس بھی نہیں ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں امریکہ جاپان اور جرمنی کے خلاف روس کی معیت میں مضبوط اتحادیوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ اقوام متحدہ بھی انہی اتحادی قوتوں کے نام پر بنا تھا۔ 2003 کی خلیجی جنگ میں بھی عراق پر حملے کے وقت امریکہ کی پشت پر اسلامی دنیا اور نیٹو ممالک کھڑے تھے۔ لیکن یہ جنگ امریکہ اور اسرائیل اکیلے لڑ رہے ہیں، جبکہ ایران کو چین، روس اور شمالی کوریا کی پشت پناہی حاصل ہے۔ پاکستان نے بھی وزیر دفاع خواجہ آصف کے ذریعے امریکہ کو باور کروایا ہے کہ ایٹمی جنگ کی صورت میں وہ امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں ایران کی مدد کرے گا۔
یہ موجودہ جنگ کی ایسی تازہ ترین صورتحال ہے کہ ایٹمی جنگ کے آثار بھی نہیں ہیں اور اس کے بغیر یا ایران میں زمینی فورس اتارے بغیر امریکہ کو ایران میں رجیم چینج کا گول بھی حاصل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
جنگ جلدی ختم نہیں ہو گی۔ اگر ایک دوسرے پر حملوں کی شدت میں کمی نہیں آتی یا فوری طور پر سیز فائر کے لیئے کوئی ملک ضمانتی یا ثالثی کے طور پر سامنے نہیں آتا ہے تو جنگ ایک تو مزید خطرناک ہو سکتی ہے دوسرا اس کی حکمت عملی تبدیل ہو گی اور یہ طوالت پکڑ گئی تو فارسی محاورے کے مطابق امریکہ کے لیئے "نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن” والی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ چند محب وطن اور امن پسند امریکی سینیٹرز کا خیال ہے کہ "ٹرمپ کے پاس ایران جنگ سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے!” کیا امریکہ واقعی ایک ایسی خونی دلدل میں پھنس چکا ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہے؟ واشنگٹن میں ہونے والی ایک انتہائی خفیہ بریفنگ کے بعد ان امریکی سینیٹرز نے جو کچھ بتایا، اس نے پوری دنیا میں تھرتھلی مچا دی ہے! امریکہ عراق جنگ کے تجربہ کار سینیٹر روبن گیلیگو نے دعوی کیا ہے کہ "ہمارے پاس اس جنگ سے نکلنے کا کوئی پلان ہے اور نہ ہی یہ پتہ ہے کہ ‘فتح’ کسے کہتے ہیں!”

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |