مقبول ذکی مقبول کے نثری محاسن
مقبول ذکی مقبول سے تعارف کچھ سال قبل ہوا ۔ جب انھوں نے قلم کاروں سے انٹرویو کرنے کا ایک سلسلہ شروع کیا ۔ میری خوش نصیبی کہ انھوں نے مجھ سے بھی اس حوالے سے انٹرویو کیا ۔ جو بعد ازاں ان کی کتاب ٫٫ سنہرے لوگ ،، میں شائع بھی ہوا ۔ یہاں سے مقبول ذکی مقبول نے ادبی حلقوں میں اپنی پہچان شاعری کے ساتھ ساتھ نثر نگاری میں بھی بنائی ۔ وہ ادبی دُنیا میں مضمون نگار ، نثر نگار اور شاعر کے طور پر معتبر ہیں ۔
ان کی کئی کتب منظر عام پر آ چکی ہیں ۔ مقبول ذکی مقبول دوستوں کے دوست ہیں وہ دوسروں کو سراہنے کا ہنر خوب جانتے ہیں ۔ ان کی زیرِ نظر کتاب ٫٫ حُسنِ بیان ،، بھی ایسے ہی مضامین پر مشتمل ہے جس میں ادبی شخصیات کو موضوع بنایا گیا ۔
مقبول ذکی مقبول کی ادبی نثر میں گوناگوں خوبیاں پائی جاتی ہیں ۔ ان کی ادبی تخلیقات میں ایک ایسی طاقت پوشیدہ ہے جو محض کلمات کا امتزاج نہیں بل کہ معنی و جمال کا رنگ بکھیرتی ہے ۔ ان کی ہر سطر میں تحقیقی سوچ نے لفظ کا خلعت پہنا ہے اور ہر جملہ ایک مضمون کی طرح تنقیدی غور و فکر کی قید و بند سے آزاد ہوتا ہے ۔ ان کے نثر پاروں میں الفاظ کا وزن ایسا ہے کہ ہر ترکیب ایک فلسفہ اور تنقید کا اثاثہ بن جاتی ہے اور مطالعہ ایک محققانہ سراغ رسانی میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔
ان کی تحریر میں ادبیت و روشنی ایسی ہم آہنگ ہے کہ تحقیق و تنقید کے دونوں رخ بہ خوبی منور ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ محض احساس و تصور نہیں بل کہ استدلال و استناد کی قوت بھی کلمات کا حصّہ ہوتی ہے اور یہی موازناتی بصیرت ان کی نثر نگاری کی خاص پہچان ہے ۔ الفاظ اپنی تمام کشش و طاقت کے ساتھ محقق کے تذکرہ و تفحص کا آلہ بنتے ہیں اور حقائقِ مرئی و غیر مرئی کے درمیان رابطے کا سکوں بخش ذریعہ فراہم کرتے ہیں ۔
قارئین جانتے ہیں کہ مقبول ذکی مقبول کا نثری اسلوب وہ زریں مسند ہے جہاں تحقیقی شعاعیں الفاظ کے عمائم میں سرفراز ہوتی ہیں اور قاری کو تصدیق و تجزیے کے سنجیدہ سفر پر گام زن کرتی ہیں ۔ ایک ایسی نثر جوبہ ذاتِ خود تحقیقی مضمون بن کر پیش ہوتی ہے ۔
مقبول ذکی مقبول کی نثر کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ پڑھنے والے کو جملے کا بہاؤ کبھی نہیں رکنے دیتا ۔ جملوں کی ساخت سادہ مگر بامحاورہ ہوتی ہے اس لیے عام قاری بھی لطف لیتا ہے اور سنجیدہ قاری بھی گہرائی محسوس کرتا ہے ۔وہ غیر ضروری طوالت سے گریز کرتے ہیں ۔ کم الفاظ میں زیادہ بات کہنے کا ہنر اُن کی نثر کا خاصہ ہے لیکن اس اختصار میں معانی کا خلا پیدا نہیں ہوتا ۔
ان کے جملوں میں الفاظ ایسے برتے جاتے ہیں کہ قاری کے ذہن میں منظر واضح ہو جائے چاہے وہ کسی شہر کی گلی ہو ، کسی انسان کی حالت یا کسی سماجی المیے کا پس منظر لفظ تصویریں بناتے ہیں ۔
اگرچہ وہ سنجیدہ موضوعات پر لکھتے ہیں مگر جہاں موقع ہو وہاں ہلکا سا طنز یا لطیف مزاح شامل کر کے نثر کو بوجھل ہونے سے بچا لیتے ہیں ۔ یہ مزاح کا تاثر کبھی پھکّا نہیں ہوتا بلکہ ادبی وقار برقرار رکھتا ہے ۔ان کی تحریر میں روزمرہ اور محاورے نہایت برجستگی سے استعمال ہوتے ہیں جس سے نثر میں جان آجاتی ہے ۔ بعض جگہ وہ کلاسیکی الفاظ کا بھی ایسا برمحل استعمال کرتے ہیں کہ نثر میں قدامت اور جدت دونوں کا توازن قائم رہتا ہے ۔
ان کے مضامین میں محض بیان نہیں بل کہ ایک فکری زاویہ بھی ہوتا ہے ۔ قاری کو تحریر ختم کرنے کے بعد سوچنے پر مجبور کر دینا اُن کے فن کی اہم کام یابی ہے ۔
مقبول ذکی مقبول موقع و محل کے مطابق سنجیدہ ، شگفتہ ، علامتی یا بیانیہ اسلوب اختیار کر سکتے ہیں ۔ یہی ان کے اسلوب کو تازگی اور تنوع عطا کرتا ہے ۔

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |