گم شدہ ٹکٹ
از: کوچہ نادہندگان
شہر: بد حال پورہ
محترم جنرل منیجر صاحب!
آداب!
میں نادان ادھاری مہاجر میرٹھی حال وارد سکنہ بدحال پورہ ریٹائرڈ ہیڈ کلرک درجہ دوئم پاکستان ریلوے دراصل ایک بہت اہم کام کے سلسلے میں آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں اور مجھے امید واثق ہے کہ آپ میری نگارشات پر ضرور غور فرمائیں گے۔ اصل قصہ کچھ یوں ہے کہ میں کاتب مکتوب ھذا عرصہ دو سال پہلے ایک ریل حادثے کی انکوائری کے سلسلے میں آپ کے شہر آیا تھا اور رات کو آپ کے ہوٹل میں قیام کی غرض سے ٹھہرا تھا ۔ میں نے اُس رات کھانا تو آپ کے فری مینیو سے کھالیا تھا جس کی مد میں آپ نے مجھے بد مزہ نہاری کے ساتھ باسی نان تناول کرنے کیلئے دیے تھے مگرصبح ناشتے کے بغیرچلا گیا تھا جس پر آج تک اللہ کا شکر ادا کر رہا ہوں ۔اُس دن دراصل مجھے کیونکہ ایک ضروری کام تھا اس لئے جلدی میں نکل گیا تھا مگر بعد میں گھر جاکے پتہ چلا کہ میری واپسی کا بس کا ٹکٹ کہیں گم ہو گیا ہے۔یاد رہے وہ ٹکٹ بس کا تھا کیونکہ میں حفظ ِ ماتقدم کے تحت ریل کے سفر سے حتی الوسع اجتناب برتتا ہوں کیونکہ اُس میں مالی نقصان کے علاوہ جانی نقصان کا اندیشہ بھی بہت زیادہ ہے۔ میں عرصہ دو سال سے اُس گمشدہ بس کےٹکٹ کو تلاش کر رہا ہوں تاکہ بس کمپنی کو دکھا کر اُن سے پچاس فیصد کرایہ جو کہ مبلغ اڑھائی سو رپے بنتا ہے وہ واپس لے لوں لیکن ابھی تک ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملا۔آپ یہ بات ضرور سوچیں گے کہ دو سال بعد تمہیں یاد آیا پہلے کیوں نہیں تو میں اس کی وجہ بتاتا ہوں۔دراصل میں اس دو سال کے عرصے میں بیماری کا بہانہ بنا کر سرکاری خرچے پرہر اُس جگہ گیا ہوں اور ٹکٹ کا پوچھا ہے جہاں جہاں میں نے پڑاؤ کیا چاہے زیادہ دیر کیلئے چاہے تھوڑی دیر کیلئے۔ لیکن کمبخت مجھے وہ ٹکٹ کہیں نہیں ملا۔ میں نے اس پر بھی ہمت نہیں ہاری اور ایک دن کاغذ پر اُن تمام مقامات کی فہرست بنائی جہاں میں گیا، میرا گزر ہوا یا مجھے رہنے کا اتفاق ہوا۔ میں کیونکہ کمزور حافظے کا انسان ہوں اور صبح کا کھایا ہوا دوپہر تک بھول جاتا ہوں اس لئے اپنے ایک پڑوسی کو وہ فہرست دکھائی تاکہ وہ اس کو دیکھ کر اس بات کی تصدیق کرے کہ یہ فہرست مکمل ہے۔ اُس پڑوسی نے میری فہرست کو غور سے پڑھا پھر مجھے پڑھا اور اُس کے بعد یہ تصدیق کردی کہ فہرست جامع اور مکمل ہے جس میں مزید کسی کمی بیشی کی گنجائش باقی نہیں۔ میں یہ فہرست لیکر گھر آیا ہی تھا کہ میرا سامنا اچانک میرے بھتیجے سے ہوگیا جس نے اس وقت وہ جوتے پہن رکھے تھے جو میں آپ کے ہوٹل سے ارادتا نہیں بلکہ غلطی سے بیگ میں ڈال کےلے آیا تھا اور تب فورا میرے ذہن میں آپ کے ہوٹل میں قیام کرنا اور بد مزہ نہاری کھا کر کھٹی ڈکاریں مارنایاد آگیا۔مجھے اس وقت کمرہ ، تاریخ اور دن تو یاد نہیں البتہ اتنا یاد ہے کہ اُس وقت آپ کسی بندے کو فون پر ” سانڈے کا تیل” لانے کی فرمائش کر رہے تھے کیونکہ آپ کے بقول آپ کا گھٹنا ٹھیک کام نہیں رہا تھا جو کہ بالکل جھوٹ تھا کیونکہ میں نے خود آپ کو اپنی آنکھوں سے ہوٹل کی چھت پر ٹپوسیاں لگاتے دیکھا تھا ۔ میں معذرت کرتا ہوں کہ اس کے علاوہ مجھے کچھ یاد نہیں۔ ہاں ! یادآیا کہ اُس وقت ایک نیلے رنگ کی کار جس کا نمبر چار سو چھیاسی تھا وہ مین دروازے کے باہر آکر رکی تھی جس میں سے ایک بوڑھا آدمی کلین شیو، سر کے بال براؤں، سیاہ رنگ کی پینٹ اور نیلے رنگ کی شرٹ پہنے، آنکھوں پہ رے بین کا چشمہ جس کا ایک سرا تھوڑا سا اٹھا ہوا تھا وہ لگائے ، ہاتھ میں رولیکس کی گھڑی پہ ٹائم دیکھتا ہوا ایک خاص انداز سے اندر آرہا تھا جس سے ہر کوئی پہچان سکتا تھا کہ موصوف عالمِ بالا کی سیر کر تے ہوئے تشریف لارہے ہیں۔ اس کے علاوہ تو مجھے کوئی قابلِ ذکر بات یاد نہیں، مگر یہ یاد آتا ہے آپ لوگوں نے اُس دن باسمتی چاول جو رات کو پکائے تھے اُس میں پانی زیادہ ڈالے جانے کی وجہ سے ، وہ بہت زیادہ گل گئے تھے اور کئی لوگوں نے آپ کو میس ہال میں بلا کر آپ کی عزت افزائی فرمائی تھی جس کے جواب میں آپ محض ” سوری سر، سوری میم۔ آئندہ ایسے نہیں ہوگا” وغیرہ جیسے ڈپلومیٹک الفاظ استعمال کرکے اپنی جان چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ میں یقین سے تو نہیں کہہ سکتا البتہ ہال میں اُس وقت چوبیس افراد تھے کیونکہ میں جب ہال میں جانے لگا تھا تب دربان نے مجھے باہر ہی روک لیا تھا کہ سر! ابھی دو درجن بندے اندر کھانا کھا رہے ہیں اور مزید کرسیوں کی گنجائش نہیں ہے۔
میں از حد شرمندہ ہوں کہ آپ کو دو سال بعد خط لکھ کر تکلیف دے رہا ہوں مگر مجھے پورا یقین ہے کہ آپ اپنے ہوٹل کے سیکیورٹی انچارج کو بلوا کر اس انتہائی اہم معاملے پر گفت و شنید فرما کر اُس گمشدہ ٹکٹ کے بارے میں ضرور تفتیش کا آغاز فرمائیں گے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔ میں اگرچہ بلا کا مصروف انسان ہوں اور پوتے پوتیوں سے دل بہلانےاور دوستوں کی محفل میں تاش کھیلنے جیسا مصروف دھندہ اپنانے کی وجہ سے میرے پاس بالکل بھی فالتو وقت نہیں ہوتا ورنہ میں خود بنفسِ نفیس آپ کے شہر آجاتا اور ٹکٹ کو ڈھونڈ لیتا۔ لیکن آپ کے پاس میرے ناقص خیال کے مطابق کیونکہ تیرہ گھنٹے ڈیوٹی دینے کے بعد بھی اچھا خاصا وقت بچ جاتا ہے لہذا اگر آپ صدقِ دل سے ارادہ کریں اور ہمت باندھ لیں تو میں آپ کو یہاں بیٹھے بیٹھے یقین دلاتا ہوں کہ آپ میرے اس گم شدہ ٹکٹ کے بارے میں پوچھ گچھ اور تلاشی کا کام کرسکتے ہیں۔ اگر کولمبس اتنی بڑی دنیا میں ایک چھوٹا سا ملک امریکہ ڈھونڈ سکتا ہے تو میرے خیال میں اُس ٹکٹ کا ڈھونڈنا تو کوئی مشکل کام ہے ہی نہیں ۔ بلکہ یہ تو امریکہ ڈھونڈنے سے کہیں زیادہ آسان کام ہے جس میں نہ کشتی کی ضرورت، نہ کھانے پینے کے سامان کی نہ نقدی کی ، بس تھوڑی تکلیف کیجیے اپنے کمرے سے نکلیے اور میرے اُس کمرے میں جس کا نمبر مجھے اب یاد نہیں وہاں جا کر اُس ٹکٹ کو ڈھونڈیے۔خدا جھوٹ نہ بلوائے اُس ٹکٹ کا رنگ گندمی تھا اور اُس پر نمبر نو سات آٹھ پانچ چھ دو چار پانچ سرخ روشنائی سے درج تھا اور میری قمیص کی بائیں جیب سے گرا تھا کیونکہ دائیں جانب میری جیب ہوتی ہی نہیں۔ اُس ٹکٹ کی ایک خاص نشانی یہ بھی تھی کہ اُس پر میں نے ” حسینہ چالباز” بھی لکھا تھا جو دراصل اُس لڑکی کا نام تھا جس سے میں نے لاری اڈے پر ٹکٹ لیا تھا۔ مجھے کمرہ نمبر تو یاد نہیں البتہ میرے کمرے کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ اس کے دائیں اور بائیں جانب والے کمرے بھی بالکل میرے کمرے جیسے تھے۔ اس کے علاوہ میں دو سال پہلے جب اُس کمرے کا دروازہ صبح نکلتے وقت لاک کر رہا تھا تب ایک حاجی صاحب میرے سامنے والے کمرے سے ٹوپی سیدھی کرتے ہوئے باہر نکل رہے تھے اور اُنہوں نے مجھ سے مسجد کا راستہ پوچھا تھا جو میں نے ٹھیک ٹھیک بتا دیا تھا۔ آپ چاہیں تو اُن حاجی صاحب کو فون کرکے میرے بارے میں پوچھ سکتے ہیں۔یہ وہ چند نشانیاں ہیں مجھے یاد رہ گئی ہیں سوائے کمرہ نمبر، دن اور تاریخ کے ۔لیکن مجھے یقین ہے کہ ان کی مدد سے آپ یقینا میرے کمرے کی نشاندہی کرنے میں ضرورکامیاب ہوجائیں گے جہاں میرا وہ ٹکٹ گرا تھا۔ اس نیک کام میں میری دعائیں قدم قدم پر آپ کے ساتھ ہیں۔ اگر آپ نے وہ ٹکٹ ڈھونڈ نکالا تو میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کے وہ جوتے میں ہمیشہ اپنے پاس بطورِ نشانی سنبھال کر رکھونگا اور کسی کو نہیں دونگا۔وہ ٹکٹ ملتے ہی مجھے منی آرڈر کر دیجیے گا ۔ منی آرڈر کے پیسوں کی مطلق فکر نہ کیجیے گا جتنا مانگیں اُن کو دے کر عند اللہ ماجور ہوں۔ کر بھلا ہو بھلا۔
آپ کے جواب کا منتظر
نادان ادھاری
متلاشی گمشدہ ٹکٹ

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |