ایران امریکہ کشیدگی کا منطقی نتیجہ
اطلاعات کے مطابق امریکی جنگی بیڑا "یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ” بھی خلیج فارس پہنچ چکا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ہے۔ اس کا یہاں لانے کا مقصد ایران سے جنگ کرنا نہیں، بلکہ اس سے اپنی شرائط کے مطابق ڈیل کرنا ہے۔ چند ہفتے قبل اسرائیلی وزیراعظم کی واشنگٹن میں امریکی صدر سے ملاقات ہوئی۔ اس میں نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران پر حملے کے لیئے کافی دباؤ ڈالا مگر وہ ٹرمپ کو فوری حملے کے لیئے راضی نہ کر سکے۔ اسرائیل اپنی بقا کے لیئے ہر قیمت پر ایران میں رجیم چینج چاہتا ہے جو صرف ایران پر کامیاب حملے ہی سے ممکن ہے۔ لیکن امریکی حملے کے بعد بھی سو فیصد گارنٹی فراہم نہیں کی جا سکتی کہ ایران میں اسرائیل نواز حکومت قائم ہو سکے گی۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملہ ایک مکمل جنگ کو جنم دے گا جس سے پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ ایران بار بار اس بات کا عندیہ دے چکا ہے ایران پر امریکی حملے کی صورت میں وہ جہاں اسرائیل پر بھرپور حملہ کرے گا وہاں وہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنائے گا۔ امریکی معیشت ڈانواں ڈول ہے مگر ایران پر حملے کا جتنا فائدہ اسرائیل کو ہو گا اس سے کئی گنا زیادہ نقصان امریکہ کو ہو گا کیونکہ جنگ کی صورت میں خلیج فارس میں موجود امریکہ کے دس بحری بیڑے، دس ہزار امریکی فوجی اور تمام خلیجی ممالک میں امریکی اڈے ایران کے ایٹمی میزائلوں کی زد میں آ جائیں گے۔
مشرق وسطی کے تمام ممالک امریکہ کو آگاہ کر چکے ہیں کہ ایران پر حملے میں وہ امریکہ سے تعاون نہیں کریں گے۔ ایران پر حملے کے امکان کو مدنظر رکھ کر سعودی عرب اور ایران ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ایران اور روسی مشترکہ جنگی مشقیں بھی خلیج فارس میں جاری ہیں اور دوسری طرف چین اور اس کے اتحادی بھی ایران کو جنگی تعاون کی مکمل یقین دہانی کروا چکے ہیں۔ اس دفعہ ایران پر امریکی حملہ یقینا تیسری عالمی جنگ کو دعوت دینے کے مترادف ہو گا یا جنگ نہ بھی ہوئی تو اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلے گا کہ امریکہ خطے میں مستقل طور پر بیٹھ جائے گا۔ اس تمام صورتحال کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی بھانپ چکے ہیں۔ اسی تناظر میں غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جہاں انہوں نے ایران کو اپنی شرائط پر دھمکاتے ہوئے مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی، وہاں انہوں نے کانفرنس کے خاتمے پر ایران کے بارے نرم گوشہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس دس مارچ تک مذاکرات پر آمادہ ہونے کا وقت ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکی صدر نے ایرانی بچوں کے لیئے دودھ کے ڈبے بھجوانے کا اعلان کیا۔
دراصل حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ کی معیشت کمزور ہو چکی ہے۔ اہل مغرب ایران سے جنگ کو جہاں اپنی معیشت کو بچانے کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں وہاں وہ مشرق وسطی کے ذرائع اور دولت پر مکمل کنٹرول حاصل کر کے اور اسرائیل کو استعمال کیئے بغیر خلیج فارس میں اپنی مستقل موجودگی کا بہانہ بھی ڈھونڈ رہے ہیں۔ بہت سے تجزیہ کار خلیج فارس میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی جنگی طاقت کو "گریٹر اسرائیل” کے منصوبے سے جوڑ رہے ہیں مگر امریکہ کی خلیج میں اتنی طاقت بڑھانے کا واحد مقصد ایران سے جنگ کرنا نہیں، بلکہ یہاں اپنا آزادانہ امریکی بحری اور بری اڈا قائم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیئے امریکہ کو کویت پر عراقی قبضے کی طرح اگر کسی چھوٹے خلیجی ملک پر قبضہ بھی کرنا پڑا تو اس سے گریز نہیں کرے گا۔
اگر امریکہ ایران پر حملہ کر کے اور روس، چین، شمالی کوریا اور ایران سے گرم جنگ میں جیت گیا تو وہ "نیو ورلڈ آرڈر” رائج کرنے کے لیئے دنیا کے سارے رولز بدل دے گا۔ تجارت کے رول، کرنسی کے رول، اقوام متحدہ کے قوانین اور انٹرنیشنل لاز کو اپنی مرضی سے ازسرنو مرتب کرے گا۔ یہاں تک کہ اقوام متحدہ کا زندہ رہنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ امریکہ کا غزہ امن بورڈ کو قائم کرنا اور اس کا تن تنہا چیئرمین بننا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ جنگ بظاہر امریکی سپر پاور کی بقا کی جنگ ہے جس میں امریکہ خود کو ہیرو اور باقی متحارب دنیا کو ولن ثابت کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ دوبارہ دنیا کا بلاشرکت غیرے حکمران بن کر بیٹھ جائے۔ یہی امریکہ کا خلیج فارس میں اپنی جنگی قوت کو بڑھانے کا مقصد ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بہت ہوشیار ہیں جن کی اولین جنگی حکمت عملی یہ نظر آتی ہے کہ وہ یہ مقصد ایران سے جنگ کیئے بغیر حاصل کر لیں، یہی وجہ ہے کہ وہ ایران پر حملہ کرنے میں بار بار توسیع کر رہے ہیں۔
تاحال امریکہ کی خارجہ پالیسی کا دوسرا محور پاکستان ہے کہ اسے بیک فٹ پر رکھ کر ایران سے کشیدگی کی صورت میں وہ پاکستان کو اپنے سٹریٹجک مقاصد کے لیئے استعمال کر سکے۔ امریکہ اگر پاکستان کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال نہ کر سکا تو اس کی اصل اور حتمی ترجیح ایران پر حملہ ہی ہو گا۔ اگر اسے ایران کے خلاف جنگ میں کامیابی ہوتی ہے اور ایران میں رجیم بھی چینج ہو جاتا ہے تو پھر اسرائیل ایران میں بیٹھ کر بلوچستان میں حالات خراب کرنے کی کوشش کرے گا۔ ادھر بھارت بھی یہی چاہتا ہے کہ اسرائیل کے گٹھ جوڑ سے بلوچستان میں علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دیا جائے۔ یہ ایسی ممکنہ صورتحال ہے جس کے خلاف پاکستان کو بھی اپنی سٹریٹجک ترجیحات کو ازسرنو مرتب کرنے کی فوری ضرورت پیش آئے گی۔ اسرائیل نے غزہ امن بورڈ کے تحت فلسطین میں عالمی امن فورس میں پاکستان اور ترکی کی شمولیت کی اسی بناء پر مخالفت کی تھی تاکہ اس مد میں گیم چینجر کی حتمی طاقت اسرائیل اور امریکہ ہی کے ہاتھ میں رہے۔ یہ ایسی پیچیدہ صورتحال ہے جو امریکہ کو "پیچھے ہٹ جاو” یا "جنگ کرو اور مرو” کی طرف دھکیل رہی ہے۔ امریکہ کے ایران کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوں یاناکام ہوں، یہ ایک امکان ہے۔ جنگ ہو بھی سکتی ہے اور ٹل بھی سکتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ امریکہ خلیج فارس میں مسلسل جنگی طاقت میں اضافہ کر کے اب بند گلی میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔ پاکستان پہلے ہی حالت جنگ میں ہے۔ افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کو برسوں سے فنڈنگ ہو رہی ہے۔ امریکہ کا افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ اسی مقصد کے لیے تھا۔ اب شام سے نکلنے والے لوگ بھی اسی طرف بھیجے جا رہے ہیں۔ مقصد یہاں عدم استحکام پیدا کرنا اور ایران اور پاکستان کے گرد آگ لگانا ہے۔ یہ جنگ ہم پر مسلط کی جا رہی ہے۔ ہم چاہیں یا نہ چاہیں، ہمیں مقابلہ کرنا پڑے گا۔ اس لیے پاکستان کو ڈرنے کے بجائے تیار رہنا ہو گا۔ پاکستان کی فوج میں ہمارے اپنے بچے ہیں۔ وہ ہم ہی میں سے ہیں۔ ان کی حفاظت تب ہو گی جب ہم متحد رہیں گے۔ ہمیں چایئے کہ ہم فرقہ پرستی اور دہشت گردی کی مخالفت کریں۔ ہم اندر سے کمزور ہوئے تو باہر والے ہمیں آسانی سے توڑ دیں گے۔ پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہوا تو یقینا پاکستانی قوم اور فوج کسی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |