علم و استقامت کی مورت: ڈاکٹر صائمہ خان
اردو ادب کی علمی روایت میں بعض شخصیات محض تعارف، عہدوں اور اسناد کی فہرست سے عبارت نہیں ہوتیں۔ ان کی شناخت خاموش ریاضت اور اخلاقی وقار سے تشکیل پاتی ہے۔ ایسی ہی شخصیات میں ڈاکٹر صائمہ خان کا نام نہایت احترام اور وقار کے ساتھ لیا جا سکتا ہے۔ ان کا علمی و تحقیقی سفر اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ علم اگر خلوصِ نیت اور صبرِ مسلسل کے ساتھ حاصل کیا جائے تو وہ محض ذاتی کامیابی کا وسیلہ نہیں بنتا بلکہ ایک پورے عہد کی فکری تشکیل میں حصہ دار ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر صائمہ خان نے اردو زبان و ادب کے میدان میں جس استقلال اور سنجیدگی کے ساتھ قدم رکھا وہ آج کی تیز رفتار، شہرت پسند اور سطحی علمی فضا میں ایک خوش گوار استثنا کی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے نہ تو علم کو محض ملازمت کی سیڑھی بنایا، نہ تحقیق کو محض ڈگری کے حصول کا ذریعہ سمجھا۔وہ ہر مرحلے پر اسے ایک فکری امانت اور اخلاقی ذمے داری تصور کرتی ہیں۔
ڈاکٹر صائمہ خان کا تعلق آزاد جموں و کشمیر کے علمی و تہذیبی مرکز مظفرآباد سے ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم مظفرآباد کے پلیٹ ہائی اسکول سے مکمل ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ان کی طبیعت میں مطالعے کا شوق اور زبان و بیان سے فطری انس نمایاں ہونے لگا تھا۔ بعد ازاں انھوں نے ایف۔اے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج، مظفرآباد سے مکمل کیاجہاں ان کی فکری سَمت واضح طور پر اردو زبان و ادب کی جانب متعین ہو گئی۔
اعلا تعلیم کے مرحلے میں انھوں نے بی۔اے اور ایم۔اے اردو آزاد جموں و کشمیر یونی ورسٹی سے مکمل کیا۔ ایم۔اے کے دوران میں ان کی علمی صلاحیت اور تحقیقی رجحان نہ صرف اساتذہ کی توجہ کا مرکز بنا بلکہ ہم عصروں میں بھی ان کی شناخت ایک سنجیدہ طالبہ کی حیثیت سے قائم ہوئی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ان کے اندر محقق کی تشکیل کا عمل شروع ہوا۔
طویل انتظار کے بعد ایم فل اردو کے لیے ڈاکٹر صائمہ خان نے ہزارہ یونی ورسٹی،مانسہرہ کا انتخاب کیا۔ یہاں انھوں نے تحقیقی اصولوں اور تنقیدی توازن کے عملی تقاضوں کو قریب سے سمجھا۔ ان کا تحقیقی موضوع
“افتخار مغل بحیثیت شاعر”
انتخاب کے اعتبار سے نہایت معنی خیز اور فکری سطح پر خاصا پیچیدہ تھا۔
افتخار مغل کی شاعری جدید اردو شاعری میں فکری تہ داری، علامتی نظام اور عصری شعور کی نمائندہ ہے۔ اس شاعری کا تحقیقی مطالعہ محض اشعار کی توضیح یا موضوعاتی فہرست سازی کا تقاضا نہیں کرتا بلکہ اس کے لیے شعری جمالیات اور فکری پس منظر کا ادراک ناگزیر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صائمہ خان نے اس تحقیقی ذمے داری کو نہایت سنجیدگی اور احتیاط کے ساتھ نبھایا۔
2015ء میں وہ اپنے ایم فل کے تحقیقی مرحلے میں تھیں اور موضوع کی نزاکت کے پیشِ نظر علمی معاونت کی تلاش میں اہلِ علم سے رابطہ کرتی رہیں۔ مسلسل مطالعے، مواد کے انتخاب، تجزیے اور تنقیدی استدلال کے بعد یہ مقالہ پایۂ تکمیل کو پہنچا اور 2017ء میں انھوں نے ہزارہ یونی ورسٹی سے ایم فل اردو کی ڈگری کامیابی سے حاصل کی۔ یہ مقالہ اس وقت اشاعت کے مراحل میں ہے اور بلاشبہ شائع ہونے کے بعد افتخار مغل کی شاعری کے مطالعے میں ایک مستند حوالہ بنے گا۔
تحقیق کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صائمہ خان کا تدریسی سفر بھی نہایت منظم اور بامقصد رہا ہے۔ وہ 2010ء سے آزاد کشمیر کے شعبۂ ہائر ایجوکیشن میں بہ طور لیکچرر اردو خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس طویل عرصے میں انھوں نے باغ اور چکار کے کالجز میں تدریسی فرائض سرانجام دیے اور ہر جگہ اپنی شناخت ایک محنتی، ذمے دار اور طلبہ نواز استاذ کے طور پر قائم کی۔
2019ء میں انھوں نے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سے اسسٹنٹ پروفیسر اردو کے لیے کامیابی حاصل کی اور یوں وہ اس اہم منصب پر فائز ہوئیں۔ اس وقت وہ گورنمنٹ گرلز سائنس ڈگری کالج گھنڈی پیراں میں بہ طور اسسٹنٹ پروفیسر اردو خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کی تدریس محض نصابی متن کی ترسیل تک محدود نہیں بلکہ وہ طلبہ میں فکری سوال اٹھانے، تنقیدی سوچ اپنانے اور زبان کی تہذیب سیکھنے کا شعور بےدار کرتی ہیں۔
ایم فل کے بعد پی ایچ ڈی کا مرحلہ کسی بھی محقق کے لیے سب سے زیادہ صبر آزما اور کٹھن ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صائمہ خان نے اس مرحلے کا آغاز بھی ہزارہ یونی ورسٹی سے کیا۔ ان کا تحقیقی موضوع
“اعجاز رحمانی کی شاعری میں اسلامی انقلابی شاعری” تھا۔
یہ موضوع فکری اعتبار سے نہایت حساس اور علمی سطح پر گہری بصیرت کا تقاضا کرتا تھا۔ اسلامی انقلابی شاعری محض جذباتی نعروں یا وقتی سیاسی ردِعمل کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل فکری نظام، تہذیبی شعور اور اخلاقی نصب العین کی حامل روایت ہے۔ اعجاز رحمانی کی شاعری میں اس رجحان کا تحقیقی مطالعہ ایک ہمہ گیر تنقیدی نگاہ کے ساتھ ساتھ مذہبی علم اور ادبی توازن کا متقاضی تھا۔
ڈاکٹر صائمہ خان نے اس مقالے میں اسلامی فکر، انقلابی شعور، شعری جمالیات اور فکری تسلسل کو نہایت سلیقے اور تحقیق کے ساتھ مربوط کیا۔ یہ تحقیقی کام ڈاکٹر مطاہر شاہ کی زیرِ نگرانی مکمل ہواجن کی علمی رہنمائی اور فکری سرپرستی نے اس مقالے کو مزید استحکام اور وقار عطا کیا۔
15 جنوری 2026ء کو ہزارہ یونی ورسٹی کے ایک ہال میں انھوں نے اپنے مقالے کا نہایت اعتماد اور علمی استدلال کے ساتھ کامیاب دفاع کیا اور یوں وہ “ڈاکٹر صائمہ خان” کے معزز خطاب سے سرفراز ہوئیں۔ یہ لمحہ نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی کا مظہر تھا بلکہ اردو تحقیق کی روایت میں بھی ایک خوش گوار اضافہ ثابت ہوا۔مقالے کی ممتحن ڈاکٹر فرحت جبین ورک نے ان کے اندازِ تکلم اور اس پر شین قاف کے بہتر ہونے کو خوب سراہا۔
ڈاکٹر صائمہ خان کی علمی شخصیت محض تدریس اور تحقیق تک محدود نہیں بلکہ وہ ادبی و علمی سرگرمیوں میں بھی فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ کالج سے شائع ہونے والا ادبی رسالہ “سبدِ گل” ان ہی کی ادارت میں شائع ہوا جو ان کی ادبی بصیرت اور تنظیمی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔
اس کے علاوہ مختلف ادبی رسائل اور اخبارات میں ان کے تحقیقی اور تنقیدی مضامین باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے ہیں۔ ان تحریروں میں تحقیقی اصولوں کی پاس داری اور اسلوب کی سنجیدگی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ وہ آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ میں اردو ریویو کمیٹی کا حصہ بھی رہی ہیں جو ان کی علمی اہلیت اور فکری اعتماد کا عملی اعتراف ہے۔
ڈاکٹر صائمہ خان کی علمی شناخت کا ایک روشن پہلو ان کی تحقیقی دیانت اور فکری انکساری ہے۔ انھوں نے تحقیق کو کبھی ذاتی مفاد یا رسمی تکمیل کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ ہر مقالے اور ہر مضمون کو ایک اخلاقی ذمے داری سمجھ کر تحریر کیا۔ ان کے نزدیک تحقیق، متن اور محقق کے درمیان ایک مقدس رشتہ ہے جس کی پاس داری لازم ہے۔
ڈاکٹر صائمہ خان کی پی ایچ ڈی کی ڈگری ایک جذباتی اور روحانی حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ انھوں نے اس علمی کامیابی کو اپنی والدہ کے نام منسوب کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ جدوجہد ان کی والدہ کی خواہش، دعا اور قربانیوں کا ثمر ہے۔ ناسازیِ صحت، گھریلو ذمے داریاں، اولاد کی پرورش اور ملازمت کے ساتھ اس قدر وقیع تحقیقی کام انجام دینا آسان نہ تھا مگر ماں کی دعا نے اس سفر کو ممکن بنایا۔
ڈاکٹر صائمہ خان کا علمی و تحقیقی سفر اس امر کی زندہ مثال ہے کہ اگر علم کو اخلاص اور دیانت کے ساتھ اختیار کیا جائے تو وہ فرد کی ذات سے آگے بڑھ کر اجتماعی فکری ورثے کا حصہ بن جاتا ہے۔ ان کی کاوشیں اردو تحقیق کے افق پر ایک ایسی روشنی ہیں جو دیر تک اہلِ علم کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔ بلاشبہ ڈاکٹر صائمہ خان آزاد کشمیر کی اردو دنیا میں ایک معتبر اور قابلِ احترام نام کی حیثیت رکھتی ہیں۔

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |