عاصم بخاری کی شاعری میں شعری صنعتوں کا برتاؤ
تجزیہ کار
راحت امیر نیازی
شعر کی تزئین و آرائش اور ندرت کے لیےادبی اور لسانی صنعتیں شاعری میں حسن اور تاثیر پیدا کرتی ہیں۔نغمگی اور معنوی گہرائی کا سبب بنتی ہیں۔شاعر کا صنائع بدائع کا استعمال اس کی فن ِ شعر پر قدرت کی دلیل ہے۔
عاصم بخاری ایک وسیع المطالعہ اور عمیق المشاہدہ شخصیت ہیں ۔جن کی شاعری علم ِ بیان و بدیع سے مزین ہے۔ان کے اشعار ہر حوالے سے جان دار و توانا ہںں۔تشبیہ استعارا مجاز مرسل کے ساتھ ساتھ زیادہ شعری صنعتیں بھی ان کے ہاں اشعار میں بڑی خوب صورتی سے برتی گئی ہیں جوکہ ان کا شعری وصف و امتیاز ہے
صنعت ِ حیرت و تحیر کو کس کمال چابکدستی سے شاعری میں برتا گیا ہے۔
ثلاثی ملاحظہ ہو
ویسے حیرت ہےاِس زمانے میں
کرتا ہے وہ مدد غریبوں کی
اور تشہیر بھی نہیں کرتا
۔۔۔۔
صنعت ِ حیرت کا ایک اور خوب صورت شعر ایک اور زاویے سے دیکھیے۔
شعر تیرے بھی مختصر عاصم
نسل ِ نو کے لباس ، کے جیسے
۔۔۔
صنعت ِ تضاد
اس صنعت میں شاعر اپنے شعر میں دو متضاد کیفیتوں یا حالتوں کو بیان کرتا ہے ۔جس سے شعر کی چاشنی بڑھ جاتی ہے۔
تو نے دیکھا ہے صرف ہنستے ہی
اُس کو روتے ہوئے نہیں دیکھا
۔۔۔
صنعت ِ تضاد کی مثال عاصم بخاری کے شعر سے
تو نے دیکھا ہے دن بخاری جی
رات بھی اس کے ساتھ ہوتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صنعت ِ تکرار
صنعت ِ تکرار میں لفظی تکر کے ذریعے صوتی آہنگ پیدا کیا جاتا ہے جس سے شعر کا صوتی لطف بڑھ جاتا ہے۔لفظوں کا تکرار شعر کے حسن اور قاری کی دلچسپی اور لطف اندوزی کا سبب بنتا ہے۔
قطعہ ملاحظہ ہو۔
کہ ثانی اس کا حسن میں
نہیں نہیں نہیں نہیں
یہ دل نہیں ہے مانتا
وہی ہے بس حسیں حسیں
۔۔۔۔۔۔۔۔
صنعت ِ ایہام یا ۔۔۔توریہ
اس صنعت کے استعمال میں شاعری قاری سے ذہن مشق کراتا ہے قریب کے معنی دے کر بعید کی بات کرتا ہے ۔ذومعنویت اس کا حسن ہے۔
کار واوں کی تو قسمت میں سعادت یہ نہ تھی
کام آیا باپ کے بے کار بیٹا ہی فقط
صنعت ِ مبالغہ
یہ غلو سے بات کوبڑھا چڑھا کر بیان کرنا جیسے حسن عشق جذبات کیفیات۔۔۔ اس سے بعض اوقات شعر کا حسن دوبالا ہوجاتا ہے اگر شاعر فن ِ شعر پر کمال قدرت رکھتا ہو۔
بخاری کا شعر اس ضمن میں پیش ِ خدمت ہے۔
شعر تیرے بھی مختصر عاصم
نسل ِ نو کے لباس کے جیسے
۔۔۔۔۔
صنعت ِ سیاق الاعداد
اس صنعت میں اعداد کا برتاؤ ہوتا ہے۔اور شعرائے کرام اسے مہارت سے استعمال کرتے ہیں۔
عاصم بخاری کے اشعار میں صنعت سیاق الاعداد کااستعمال دیکھیں۔
چار دن ہی سہی بخاری جی
گھر کی رونق تو ، بیٹیوں سے ہے
۔۔۔۔۔
ایک اور شعر
ایک تو ہی نہیں بخاری جی
چاہنے والے ہیں ہزار اس کے
۔۔۔۔
صنعت ِ ذوالقافیتین
اس صنعت میں شاعر استادانہ رنگ میں بیک وقت ایک نہیں دو قافیے شعر نظم یاغزل میں استعمال کرتا ہے۔عاصم بخاری کے ہاں بھی اس صنعت کے کمال ہیئتی تجربے ملتے ہیں۔
سچ تو عاصم روا یہاں جتنا
جبر عورت پہ ہے کہاں اتنا
۔۔۔۔
صنعت ِ تلمیح
اس صنعت میں کسی تاریخی اور قرآنی و دینی واقعہ کی طرف مختصرا”اشارا کر کے ایک بڑے واقعہ کے تناظر میں بات کی جاتی ہے۔
شعر دیکھیں۔
رات کے بعد دن بھی ہوتا ہے
عُسرا یُسرا” نہیں پڑھا تم نے
تلمیح کی مثال کے طور پر عاصم بخاری کے مزید چند اشعار پیش ِ خدمت ہیں۔
نکلنا ہے اگر ، "مشکل "سے عاصم
پڑھو تم بھی ، دعا "یونس” نبی کی
۔۔۔۔۔۔۔۔
مقام آئے، جہاں بھی” صبر "کا میں
دعا ” ایوب ” ، کی پڑھتا ہوں اکثر
۔۔۔۔۔۔
مقابل جب بھی ہوں "فرعون” میرے
دعا” موسیٰ ” ، کی پڑھتا ہوں بکثرت
۔۔۔۔۔۔۔
"خطا” ہو جائے،جب سنگین کوئی
دعا ” آدم ” ، نبی کی بھولنا مت
۔۔۔۔۔
صنعت ِ تعلی
اس صنعت میں شاعر اپنے فن پر فخر کرتا اور اِتراتا دکھائی دیتا ہے۔ایسا اکثر شعرا کےہاں ملتا ہے۔اسی ضمن میں عاصم بخاری کا شعر قارئین کی نذر کرتا ہوں۔
اتنا آسان تو نہیں عاصم
شعر کہتے ہو مختصر کیسے
۔۔۔
صنعت ِ تاریخ
یہ ایک بہت اہم صنعت ہے جس میں شاعر اپنے شعر میں کسی اہم تاریخ مہینے اور سال کا تذکرہ کرتا ہے اور اس اختصاری جھلک سے بہت سی وضاحت ہو جاتی ہے۔
اس حوالے سے عاصم بخاری کی شاعری سے نمونہ پیش ِ خدمت ہے۔
” سولہ تاریخ ” مَہ ، دسمبر کی
تلخ یادیں ہیں تجھ سے وابستہ
۔۔۔۔۔
یاد پینسٹھ نہیں رہا شاید
میرے دشمن کو ایسے لگتا ہے
۔۔۔۔۔
سہل ِ ممتنع
اس صنعت سے مراد یہ ہے کہ نظم و نثر اور خصوصا” شعر میں اس سے سلیس پیرائے میں بات ممکن نہیں۔عاصم بخاری کے ہاں یہ خوبی اور صنعت بہت زیادہ اشعار میں پائی جاتی ہے۔
شعر
پیدل چلنے والوں کو بھی
عاصم شوگر ہو سکتی ہے
۔۔۔۔
کیا ہی پہچان ہے تمہاری یہ
تم رویوں پہ شعر کہتے ہو
صنعت ِ تضمین
اس صنعت میں شاعر کسی دوسرے بڑے یا استاد شاعر کا مصرع اپنے شعر میں استعمال کر کے اپنے فن ِ شعر سے خوب صورتی پیدا کرتا ہے۔عاصم بخاری کی شاعری میں یہ خوب صورتی بہ کثرت ملتی ہے۔
شعر
فیصلہ عاصم ہے یہ تقدیر کا
"گندم از گندم بروید جَو ،ز جَو”
۔۔۔۔
صنعت ِ جامع اللسانین
۔۔۔۔۔۔۔
اس صنعت میں شعر میں ایک سے زیادہ یعنی دو زنانیں استعمال کی جاتی ہیں۔اس نوعیت کے منفرد تجربے بھی بخاری کی شاعری میں جابجا اور شان دار انداز میں ملتے ہیں
ویسے تعلیم یافتہ کو تو
زیب ” مِس کال” یہ نہیں دیتی
۔۔۔۔۔
عاصم بخاری کی شاعری میں فارسی زبان کے الفاظ کاخوب صورت استعمال
عاصم بخاری چار ہی تو دن کی زندگی
بابر بہ عیش کوش کے قائل ہیں ہم بھی تو
۔۔۔۔۔
تیری اتنی مجھے ضرورت ہے
آکسیجن کی جتنی انساں کو
۔۔۔۔
صنعت ِ ملمع
اردو شاعری میں نعت ِ ملمع سے مراد وہ ادبی صنعت ہے جس میں ایک ہی شعر یا بند میں دو یا دو سے زیادہ زبانوں کے الفاظ باہم اس طرح استعمال کیے جائیں کہ معنی روانی اور حسن برقرار رہے۔اردو شاعری میں عموم” عربی فارسی اور ہندی زبان کا استعمال ملتا ہے۔ عاصم بخاری کی شاعری میں بھی صنعتوں کے برتاؤ کے ایسے تجربات موثر انداز میں ملتے ہیں۔
شعر
صنعت ِ تلمیع
اس طرح تو ہوتا ہے جان ِ جگر
"از مکافاتِ عمل ، غافل مَشو”
۔۔۔۔۔
انگریزی زبان کے الفاظ کا مانوس اور رواں انداز میں لاجواب استعمال
کام چلتا ڈرن سے اب کے
ڈی جی ٹل "دور ، یہ بخاری جی
۔۔۔۔
صنعت ِ ترافق
علم ِ بدیع کی ایسی اصطلاح ہے جس میں شاعر ایسے الفاظ کو یک جا لاتا ہے جو معنی اور تصور کے لحاظ سے ایک دوسے کے ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔عاصم بخاری کے ہاں بھی صنعت ِ ترافق کے اشعار پائے جاتے ہیں۔اس سے اشعار کے مصرعوں کی تربیب کے بدلنے سے مفہوم میں فرق نہیں پڑتا۔عاصم بخاری کے اشعار میں صنعت کا برتاؤ دیکھیں۔
اُس قدر دور بے مروت ہے
جس قدر تم کہ با مروت ہو
اسی صنعت کا نمائندہ ایک اور شعر
مہماں گر کوئی وقت پر آئے
ہوتی حیرت ہے میز بانوں کو
***

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |