ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت اور بعد کی جنگی صورتحال
ایران اسرائیل اور امریکہ جنگ کے پہلے ہی دن کے آخری لمحات میں اسرائیلی اور امریکی صدور نے اعلان کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر سید آیت اللہ علی خامنائی حملوں میں مارے گئے ہیں۔ یہ اعلان پہلے نیتن یاہو اور اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا۔ ایران پر حملے کی پہل بھی اسرائیل نے کی تھی جس میں امریکہ بعد میں شامل ہوا۔ امریکہ بہادر صحیح معنوں میں اسرائیل کو بچانے میں اس کے "نقش قدم” پر چلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کے دفاع کی حقیقی ذمہ داری بھی امریکہ ہی اٹھا رہا ہے۔
مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس بمباری میں سپریم لیڈر اور ان کی صاحبزادی بشریٰ خامنائی سمیت ان کے داماد بھی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ ان کی شہادت کے بعد گلف میں جتنے بھی امریکی بیسز کو ایران کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے امریکہ کی جانب سے ان میں سے کسی ایک بیس کا بھی دفاع نہیں کیا گیا جبکہ اسرائیل پر ہونے والے ہر حملے کا امریکہ آگے بڑھ کر دفاع کر رہا ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ایران نے سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد جوابی کاروائی کرتے ہوئے جتنے بھی بیلسٹک میزائل امریکی اتحادی عرب ممالک پر برسائے ہیں وہ زیادہ تر شہری اور کاروباری مراکز پر داغے گئے تھے جن کو روکنے میں امریکہ نے کوئی خاص دلچسپی نہیں لی، جبکہ جو ایرانی میزائیل اسرائیل کی طرف جا رہے ہیں، ان سب کو امریکہ ڈیٹیکٹ کرنے میں مستعدی دکھا رہا ہے۔ اس کا ایک سٹریٹجک پلان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان ممالک کو بوجوہ نقصان پہنچنے دیا جائے یا ایران کی شدید جنگی توجہ اسرائیل کی بجائے ان خلیجی ملکوں پر ہی مرکوز رہے۔ امریکہ کا جیسا یہ وار پلان ہے، ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ابھی تک امریکہ نفسیاتی جنگ جیت رہا ہے، حالانکہ شروع میں ایران نے بار بار علی خامنائی کے شہید ہونے کی تردید کی تھی۔
ایران کے خلاف 28 فروری 2026ء کو اسرائیل امریکہ جنگ کا آغاز ہوا اور ایک روز بعد یکم مارچ کو علی الصبح ایران کے سرکاری میڈیا نے سپریم لیڈر کی شہادت کی تصدیق کر دی۔ پہلے دن کے آخری لمحات ہی میں امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کی خبر دے کر ایرانی عوام کو کہا تھا کہ اب وہ ایرانی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں، اور ایران میں اپنی مرضی کی نئی حکومت تشکیل دیں۔ ایران امریکی صدر، ان کی سیکورٹی ٹیم اور پنٹاگون کو ایک بار تو ٹف ٹائم دے رہا ہے۔ ایران نے ماسوائے اومان کے بیک وقت 7 خلیجی ممالک پر میزائل داغے اور انہیں جنگ میں بلاخوف گھسیٹ لیا۔ اس سے امریکی انٹیلیجنس کی صلاحیتوں پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ پہلی بمباری کے بعد دنیا بھر کے میڈیا پر بس ایران اور اس کے میزائل چھائے ہوئے تھے، کیونکہ ایران ایک ہی وقت میں سات خلیجی ممالک کو انگیج کیئے ہوئے تھا جس میں بحرین، قطر، کویت سعودی عرب اور امارات وغیرہ شامل ہیں۔ یہاں تک کہ ایران نے ترکی میں نیٹو کے اڈے پر بھی میزائل برسا کر نیٹو کو بھی جنگ میں گھسیٹ لیا، جہاں اطلاعات ہیں کہ اٹلی کے بیس فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ زیر بحث ہے کہ اسرائیل اور امریکہ نے دن دیہاڑے حملہ شروع کر کے اپنی طاقت کی دھاک بٹھانے کی کوشش کی اور ایران کی اعلی روحانی و سٹریٹجک طاقت کو بھی شہید کر دیا مگر ایران کے شدید ردعمل کا اندازہ لگانے میں ان سے غلطی ہو گئی۔ یہاں اسرائیل اور امریکہ یہ سوچ کر پریشان ہو رہے ہیں کہ وہ پہلے حملوں میں ایرانی قیادت کو ہلاک کرنے میں مگن ہو گئے، مگر پہلے ہلے میں ایرانی میزائیل لانچرز کو تباہ کرنے کی طرف کیوں توجہ نہیں دی تاکہ ایران خلیجی اتحادیوں کو نشانہ نہ بنا سکتا۔ ایران کی اس تیاری کا امریکی اور اسرائیلی ایجنسیاں اندازہ کیوں نہ لگا سکیں جبکہ ایران کی میزائل طاقت کو پچھلی جنگ میں بھی اسرائیل بھگت چکا تھا۔ سننے میں آیا ہے کہ اس بحث مباحثے کے نتیجے میں خود امریکی اور اسرائیلی قیادت کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے ہیں جس پر عرب ریاستوں کی طرف سے بھی شدید اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر شہید ہو گئے ہیں اور ان کے ساتھ ہی ایران جنگ کو چند گھنٹوں سے کھینچ کر دنوں تک لے جاتا ہے اور پھر اس وقت کو استعمال کر کے پوری دنیا کی معیشت کو بحر ہرمز کو بند کرنے کے بعد نقصان پہنچاتا ہے تو یہ کامیابی ایران کی اسرائیل اور امریکہ پر برتری کو ثابت کرے گی۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ خامنائی کے بعد کون جنگ کو لیڈ کر رہا ہے۔اس کا براہ راست مطلب یہ ہے کہ اب اسرائیل امریکہ ایران کی ذاتی قیادتوں کو نشانہ بنانے پر اتر آیا ہے۔ پس پردہ روس اور چین یہ تماشہ دیکھ رہے ہیں بلکہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف خاموشی سے کھیل رہے ہیں۔ خلیجی ممالک میں دنیا کے سب سے زیادہ مصروف ائیرپورٹس پر ہو کا عالم ہے۔ ساری دنیا میں لاکھوں لوگ ایئرپورٹس پر پھنسے ہوئے ہیں، فلائٹس منسوخ اور پھر ہرمز کو بند کر کے 21 بلین بیرل یومیہ گزرنے والے تیل کو ایران کا روک دینا امریکہ اور اسرائیل ہی کو نہیں بلکہ پوری دنیا کی نقل و حرکت اور کاروبار کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
اس پر روس کا ردعمل قدرے سخت ہے، سلامتی کونسل کا اجلاس بلا لیا گیا ہے، روس نے امریکی حملے کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ عالمی عدالت پہلے ہی اسرائیل وزیر اعظم کو جنگی مجرم ڈیلئیر کر چکی ہیں اور ہیگ کی عالمی عدالت نے نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ایران اپنا دفاع کرنے میں حق بجانب ہے۔ سپریم لیڈر کی شہادت کے باوجود ابھی تک جنگی میچ ایران کے ہاتھ میں ہے کیونکہ عوام اپنی موجودہ قیادت کی پشت پر کھڑی ہے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ اپنی عوام کی تائید سے محروم اور اس حملے کے اخلاقی جواز سے بھی محروم نظر آ رہے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ صرف فضائی بمباری سے کسی مضبوط حکومت کو گرانا ناممکن ہے۔ اس کی زندہ مثال 2003ء میں عراق میں رجیم چینج کرنے کے لیئے نیٹو سمیت امریکہ کے اتحادیوں کا عراق پر زمینی حملہ ہے۔ اب جبکہ تہران کو یہ پیغام مل چکا ہے کہ یہ اس کی بقا اور سلامتی کی جنگ ہے اور ان کے سٹریٹجک اور روحانی رہنما کی بھی شہادت ہو چکی ہے تو وہ اپنے حملہ آوروں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے لیے ہر ممکن ہتھیار استعمال کرے گا۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے علی واعظ کے مطابق ایران کی جانب سے تباہی مچانے کی اصل صلاحیت کو ابھی تک آزمایا ہی نہیں گیا ہے۔ بارہ روزہ جنگ میں ایران نے اپنے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کروز، میزائل بحری اثاثے، ڈرونز، انڈر واٹر ڈرونز اور اینٹی شپ بیلسٹک میزائلوں کو جان بوجھ کر استعمال نہیں کیا تھا۔ اب ان کے پاس خلیج اور آبنائے ہرمز میں امریکی اور تجارتی جہازوں کی صورت میں اہداف کی ایک وسیع رینج موجود ہے۔ یمن کے حوثی جنہوں نے حال ہی میں ایک امریکی طیارہ بردار جہاز کو بال بال مس کیا ہے وہ یقینی طور پر اس میں شامل ہوں گے اور حزب اللہ بھی دوبارہ طاقت پکڑنے کے بعد اس جنگ کا حصہ بنے گی۔
واشنگٹن کے ہر وار گیم میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ایسی کسی بھی جنگ میں ایک یا دو امریکی جنگی جہاز لازمی ڈوبیں گے۔ علی خامنائی کی شہادت کے بعد ایران کے وحشی ہونے کا امکان ہے اگر ایسا ہوا تو ٹرمپ کو ایک ایسا تباہ کن جوابی حملہ کرنا پڑے گا جو مشرق وسطیٰ کو ایک نہ ختم ہونے والی بڑی جنگ میں دھکیل دے گا۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |