امریکی آرمیڈا کی آمد اور ایران پر حملے کا خطرہ
امریکی اور مغربی دنیا کی نظریں مشرق وسطی پر ہیں۔ امریکہ اور یورپ کے درمیان چند روز پہلے گرین لینڈ کے معاملے میں کچھ اختلافات سامنے آئے تھے لیکن کسی مسلم ملک یا خلیج فارس وغیرہ پر کنٹرول کے لیئے مغربی ممالک دو قالب یک جان ہیں۔ یہاں مستقل قدم جمانے کے لیئے انہیں ایک اسرائیل ناکافی نظر آتا ہے۔ گو کہ قطر میں امریکہ کا کسی مسلم ملک میں دنیا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ موجود ہے جہاں 10000 ہزار تک امریکی فوجی ہر وقت متحرک رہتے ہیں لیکن ایران کو قابو کرنے، وہاں رجیم چینج کے لیئے اور پھر اپنی مرضی کے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیئے یہ سب کچھ انہیں ناکافی نظر آتا ہے۔ اسلامی دنیا کے خلاف مغربی اتحاد کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ چند روز پہلے گرین لینڈ پر اختلافات اور وہاں چند درجن علامتی فوجی بھیجنے کے باوجود ٹرمپ کی جانب سے فرانسیسی شراب پر ٹیرف کی دھمکی کے بعد یورپی یونین نے سخت معاشی جواب دیا۔ بروسلز نے اعلان کیا کہ یورپی کمپنیاں امریکی بانڈز اور اثاثے جن کی مالیت تقریباً 8.1 ٹریلین ڈالر ہے فروخت کریں گی۔ اطلاعات کے مطابق تمام تجارتی معاہدے روک دیئے جائیں گے اور سب سے اہم یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ کے درمیان تمام دفاعی معاہدے بھی معطل کر دیئے جائیں گے۔ لیکن اب ایران پر امریکی حملے کا دوبارہ امکان پیدا ہوا ہے تو یورپ دوبارہ امریکی حمایت میں کھڑا ہو گیا ہے۔
گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا کہ امریکہ کا خطرناک بحری بیڑا ایران کی طرف چل پڑا ہے۔ انہوں نے ایک خاص جملہ استعمال کیا کہ "امریکی آرمیڈا” ایران کی طرف جا رہی ہے۔ فوجی زبان میں آرمیڈا ایک عام یا معمولی اصطلاح نہیں ہے، کیونکہ لفظ آرمیڈا محض چند جنگی جہازوں کے مجموعے کے لیئے استعمال نہیں ہوتا، بلکہ اس سے مراد ایک بہت بڑا، منظم اور انتہائی طاقتور بحری بیڑا ہوتا ہے، جس میں عموماً طیارہ بردار جہاز، گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز، آبدوزیں اور فضائی دفاعی نظام شامل ہوتے ہیں۔ اس اصطلاح کا استعمال عموماً اس وقت کیا جاتا ہے جب کوئی ریاست اپنی زیادہ سے زیادہ عسکری تیاری، طاقت کے مظاہرے اور اسٹریٹجک دباؤ کا واضح پیغام دینا چاہتی ہو۔
ٹرمپ کا یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی بحری موجودگی کو ایران پر حملے کے تناظر میں نمایاں طور پر بڑھا رہا ہے۔ اس طرح کا بیان صرف فوجی نقل و حرکت کی اطلاع نہیں ہوتا بلکہ ایک سیاسی سگنل بھی ہوتا ہے، جس کا مقصد مخالف فریق کو خبردار کرنا، اسے روکنا یا مذاکرات کی میز پر دباؤ کے ساتھ لانا ہوتا ہے۔ فوجی اور سفارتی اصطلاح میں اسے "گن بوٹ ڈپلومیسی” یا "طاقت کی سفارت کاری” کہا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر یہ زبان نئی نہیں ہے۔ سنہ 2017ء میں شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی کے دوران بھی ٹرمپ نے اسی لفظ کا استعمال کیا تھا، جب امریکی بحری بیڑا جزیرہ نما کوریا کے قریب بھیجا گیا تھا۔ اس وقت بھی اس لفظ نے جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا تھا، حالانکہ بعد میں یہ واضح ہوا کہ مقصد براہِ راست حملہ نہیں بلکہ طاقت کا نفسیاتی دباؤ تھا۔ آج اسی اصطلاح کا دوبارہ استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ ایران امریکہ کشیدگی ایک حساس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
ایران کی جانب سے اس بیان پر فوری ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں اعلیٰ حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کو “ہمہ جہت جنگ” تصور کیا جائے گا۔ یہ ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ ایسے الفاظ خطے میں غلط فہمیوں اور تصادم کے خطرات کو بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر خلیج فارس جیسے حساس علاقے میں جہاں عالمی توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ٹرمپ کا آرمیڈا کا حوالہ دینا محض ایک لفظی انتخاب نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا سیاسی اور عسکری پیغام ہے۔ اس کا لازمی مطلب فوری جنگ نہیں، لیکن یہ اس بات کا واضح اشارہ ضرور ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے اختیارات، تیاری اور طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرنا چاہتا ہے، اور یہ کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اس وقت اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ رہی ہے۔
وینزویلا آپریشن میں امریکہ نے ایک خطرناک ہتھیار استعمال کیا تھا جس کے بارے میں وینزویلا کے صدارتی محل کے ایک سیکورٹی گارڈ کا انٹرویو دنیا بھر میں چلایا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق جو امریکی آرمیڈا خلیج فارس پہنچ رہا ہے اس میں اس سے زیادہ خطرناک ہتھیار موجود ہیں۔ وینزویلین گارڈ نے انکشاف کیا تھا کہ حملہ آور امریکی فوجیوں نے ایک ایسا ہتھیار استعمال کیا تھا جس سے کوئی گولی چلی تھی نہ ہی دھماکہ ہوا تھا، لیکن وینزویلئین محافظوں نے اپنے سر کے اندر بلاسٹ محسوس کیا تھا، جس کے بعد ان کے سر چکرا گئے، وہ گر گئے اور ان کے ناک اور منہ سے خون بہنے لگا تھا، ان کو خون کی الٹیاں بھی آئی تھیں اور کئی گارڈ مزاحمت کیئے بغیر ہی بے ہوش ہو گئے تھے۔ اس آپریشن کی تفصیل بتاتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ نے بھی تصدیق کی تھی کہ آپریشن میں ایک ایسا ہتھیار استعمال کیا گیا جو بہت زیادہ خطرناک تھا۔ اس کے بعد معروف امریکی اخبار نیویارک پوسٹ اور گارڈین سنڈے نے بھی اس وینزویلن گارڈ کا انٹرویو چھاپ دیا تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کے پاس واقعی کچھ نئے خطرناک قسم کے ہتھیار موجود ہیں جنہیں اب وہ ایران میں آزمانا چاہتا ہے۔
جو امریکی بحری بیڑا ایران کے نزدیک پہنچ رہا ہے، نیویارک پوسٹ کے مطابق اس میں سونک اور سپر سونک ویپن ہو سکتے ہیں جن میں الٹرا سونک شعاؤں کی طرز کی بہت طاقتور اور نظر نہ آنے والی شعائیں پھینک کر دفاعی مخالفین کا اعصابی نظام درہم برہم کر دیا جاتا ہے۔ جب دنیا ابھی چوتھی نسل کے لڑاکا طیاروں پر انحصار کر رہی تھی، امریکہ نے 1990 کی دہائی میں ہی پانچویں نسل کے فائٹر جیٹ پروگرام پر کام شروع کر دیا تھا۔ ایف22 ریپٹر کی پہلی آزمائشی پرواز 1997 میں ہوئی تھی، جبکہ 2005-2006 کے دوران یہ طیارہ امریکی فضائیہ میں عملی طور پر شامل ہو چکا تھا۔ اُس دور میں اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، سپرکروز، جدید ایویانکس اور سینسر فیوژن جیسے تصورات باقی دنیا کے لئے ابھی خواب ہی تھے، مگر امریکہ نے انہیں حقیقت میں بدل دیا تھا۔ آج امریکہ ایسی ٹیکنالوجیز کے ذریعے کہاں پہنچ چکا ہے اس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔
امریکی آرمیڈا میں شامل ان امریکی سونک ویو ہتھیاروں کا توڑ ٹیسٹ کرنے کے لئے چین اور روس نے جو اینٹی سونک میگنیٹک ہتھیار ایجاد کیئے تھے وہ ایران پہنچا دیئے گئے ہیں۔ اگرچہ ایران امریکہ کے مقابلے میں کمزور ملک ہے لیکن وہ عراق سے آٹھ سالہ جنگ بھگت چکا ہے اور اسرائیل امریکہ کے گذشتہ حملوں کو بھی دیدہ دلیری سے جھیل گیا ہے۔ اس لیئے ایسا نہیں ہے کہ وینزویلا کی طرح ایران بھی امریکہ کے لیئے "گنی پگ” ثابت ہو گا۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |