شجرہ نصب
میرے پیارے بھانجے!
آداب!
میں یہاں بد حال پورے کی بد حال گلی میں خیریت سے ہوں اور کرپال پورے کے تمام مکینوں کی خیریت نیک مطلوب ہے۔ مجھے کل رات تمہاری ممانی کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ تم ادھار لینے کو سخت برا سمجھتے ہواور اگر کبھی کسی مجبوری کے تحت ادھار لینا پڑجائے تو مقررہ وعدے کے مطابق اس دن لوٹا دیتے ہو۔اس کے علاوہ تمہارے منہ سے یہ الفاظ بھی نکلے ہیں کہ ادھار مانگ کر واپس نہ کرنے والے لوگوں کا خاندانی پسِ منظر کچھ اچھا نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ۔سچ پوچھو تو جس وقت تمہاری ممانی جان نے مجھ سے اس بات کا تذکرہ کیا وہ رات آٹھ بجے کا وقت تھا اور میں ماحضر تناول فرمانے کی غرض سے ہاتھ دھو رہا تھا مگر اس کے بعد جی ایسا اچاٹ ہوا، ایسا اچاٹ ہوا کہ مجھ سے ایک لقمہ نہ لیا گیا اور میں غصے سے بکتا جھکتا چھت پر چلا گیا تاکہ چہل قدمی کرکے اپنے غصے اور دماغ کو چڑھی گیس دونوں کو غائب کر سکوں۔تمہاری ممانی اور ماموں زاد بہن بھائی بہتیرے اوپر آکر میری منت کرتے رہے کہ دو لقمے ہی زہر مار کرلو لیکن دل کو یقین ہی نہیں آتا تھا کہ میرا سگا بھانجا میری گود میں پلا ہوا اور میرا تربیت یافتہ اتنی نیچی بات کرسکتا ہے جس کا تصور ہمارے خاندان میں دور دور تک نہیں ۔ میرا ارداہ تو یہی تھا کہ اُسی وقت گھر سے نکلوں اور تمہاری طرف آکر تمہارے خیالاتِ باطلہ اور عقائدِ مفسدہ کی اصلاح کروں مگر عین وقت پر میرا پڑوسی جس کا میں نے بیس ہزار روپے ادھار دینا ہے وہ گلی میں کسی سے ملنے نکل آیا اور یوں میرا کنفرم ٹکٹ کینسل ہوگیا ورنہ شاید کل تمہاری گو شمالی میرے ہاتھوں ہو کر رہتی۔میں کیونکہ باہر نہیں جاسکتا تھا لہذا سوچا کہ چلو تمہیں خط لکھ کر کم سے کم اُس خاندان کے حسب نسب ، اُس کے خصائل، اُس کی معاشرے میں پہچان اور دیگر خصوصیات کے بارے میں مفصل لکھ کر روانہ کردوں تاکہ تم اس احساسِ کمتری سے نکل سکو۔
میرے بھانجے! شاید زندگی میں یہ موقع پھر آئے نہ آئے اور میری یاداشت سلامت رہے نہ رہے مگر یہ خط تمہارے پاس میری امانت ہے اور اسے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنا تمہارا فرض ۔ میں اب تم سے اس خاندانِ عالیہ کے چند چنیدہ اشخاص کا تذکرہ کرتا ہوں تاکہ تمہیں پتہ چل سکے کہ ہم کون ہیں اور ہمارا کیا کام ہے۔ سنو! تمہاری اما کے ابا یعنی تمہارے نانا قبلہ صم بکم ادھاری میرٹھی تقسیم سے قبل ہندوستان میں میرٹھ کے علاقے میں رہتے تھے۔اُن کا نام صم بکم اس لئے تھا کہ وہ جب کسی سے ادھار لے لیتے تو پھر اندھے اوربہرے ہوجاتے تھے کہ مانگنے والا جتنا بھی شور کرلے اُن کا ایک ہی جواب ہوتا ” ارے بھائی! کیا کہہ رہے ہو کچھ سنائی ہی نہیں دے رہا”۔ اب تو میرٹھ بھی وہ نہیں رہا اور علاقوں کے حلیے ناموں سمیت بدل گئے مگر میری اماں یہی کہتی تھیں کہ اُس علاقے کو بدنام پورہ کہتے تھے جہاں کی ایک بند گلی کوچہ نادہندگان میں سارے مکان ہمارے ہی خاندان کے تھے جن کا سارا میٹریل ادھار پہ لایا گیا تھا جس کو واپس کرنے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اس بات کا توخیر اما کو بھی نہیں پتہ کہ ہمارا خاندان ادھار مانگنے کی وجہ سے ادھاری کہلایا یا کسی اور وجہ سے ہمیں ادھاری کہا جاتا ہےلیکن اُن کے مطابق اُن کے ابا یعنی میرے نانا ” قبلہ نادان میاں” اپنے نام کے ساتھ ادھاری ضرور لگاتے تھے جس سے قیاس لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے خاندان کے ساتھ ” ادھاری” کا لاحقہ یقینا کسی مغل بادشاہ یا بنیے نے لگایا ہوگا کیونکہ انگریز ایسے تکلفات میں نہیں پڑھتے۔ میں نے اپنے نانا کے بارے میں ” تاریخِ ادھاراں” جو ” انجمنِ ادھار فراموشی ” کے تعاون سے بس ایک ہی بار شائع ہوئی ہے اور مجھے بھی ایک مرتبہ ہی اُس کا مطالعہ نصیب نہیں ہوا ہے اُس میں یہ پڑھا تھا کہ ہمارے آباء و اجداد میں سے ایک بزرگ ” بابر ادھاری”جو تمہارے لئے بھی قابلِ فخر ہیں وہ عہدِ محمد شاہ رنگیلا کے اندر لال قلعے میں سائلین کیلئے ٹھنڈے پانی کا انتظام کرتے تھے۔ جب گرمی بہت زیادہ ہوتی اور سائلین ٹھنڈا پانی پیتے تو خوش ہوکر اُن سے پوچھتے کہ بتاؤ کیا مانگتے ہو ، تو وہ فٹ ادھار مانگ لیتے جس سے آہستہ آہستہ یہ بات مشہور ہوتی ہوئی بادشاہ تک پہنچ گئی ۔بادشاہ نے ایک دن بابر ادھاری کو بلا کر پوچھا ،” بابر ایں چہ معاملہ است؟”۔ بابر ادھاری نے جواب میں ضرب المثل شعر پڑھا
نو روز و نو بہار و مے و دلبرے خوش است
بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست
محمد شاہ رنگیلا اس جواب پر اتنا خوش ہوا کہ جھوم جھوم کر یہ شعر پڑھتا جاتا اور ساتھ میں کہتا جاتا ،” بابر بہ فرمائید خوب است، بابر بہ فرمائید خوب است” اور ساتھ ہی اُنہیں دربارِ عالیہ سے ” ادھار الدولہ” اور ” منگتے خان” کے خطابات سے نواز کر اُن کا نام ” ادھار الدولہ بابر منگتے خان ادھاری” تفویض فرمایا جو زمانے کی نااہلی اور غدر کے فتنے کی وجہ سے ” ادھار الدولہ منگتے خان ادھاری” بن گیا جبکہ بابر بیچ میں سے ” نظریہ ضرورت ” کے تحت نکل گیا۔اس کے بعد شاہ عالم ثانی کے دور میں جب اطرافِ دلی، سہارنپور، مراد آباد، بجنور، تھانہ بھون اور قصبہ گنگوہ کے بنیے ہمیں ادھار دے دے کر کنگال ہونے پر آئے تو اُن کا ایک وفد ” ظلِ سبحانی ” کی خدمت میں شکوہ لیکر آیا جسے سُن کر بادشاہ نے تالیف قلب کے واسطے ہمارے خاندان کو دلی سے میرٹھ بھجوا دیا اور یوں ہم دلی سے میرٹھ منتقل ہوگئے۔
ہمارے خاندان کی شہرت اُس وقت میرٹھ تک نہیں پہنچی تھی اس لئے لوگ ہمیں بہت پیار محبت اور عزت سے پیش آئے جس کا بدلہ ہمارے خاندان نے ” بھاری ادھار لیکر فراموش ” کرنے کی صورت میں سود سمیت چکایا جس کی وجہ سے سینتالیس تک لوگوں کے گھروں میں وہ بیاض موجود تھیں جن پر ہمارے خاندان کے نام بنام کھاتے درج تھے۔ ہم لوگ کیونکہ ہندوستان سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور تقسیم کے سخت مخالف تھے اس لئے تمام اہلِ میرٹھ کو یقین تھا کہ بھلے سارا میرٹھ مسلمانوں سے خالی ہوجائے مگر ” کوچہ نادہندگان” کا ادھاری خاندان یہاں سے نہیں جائے گا۔ میرے ابا جان بھی لوگوں کے گھر جا کر قسمیں اور وعدے دے کر یہ یقین دلاتے رہے کہ ” ادھاری خاندان” کا جینا مرنا میرٹھ والوں کے ساتھ ہے۔ اس بات پر میرٹھ والوں نے یقین کرلیا اور ہم سے مطمئن ہوگئے جس کے بعد ہم لوگ بھی اچانک رات کو چپکے سے مطمئن انداز میں وہاں سے چلے آئے اور پہلا پڑاؤ سرزمینِ پاکستان کے اندر داخل ہوکر کیا۔ اس وقت ” ادھاری خاندان” کے چالیس نفوس کا یہ مختصر سا قافلہ تھا جو اسلام کے مطابق اپنی زندگی گزارنے اور مالی معاملات کو سود سے پاک رکھنے کی نیت سے میرٹھ سے ہجرت کرکے اس پاک سر زمین میں آیا تھا اور پھر اسی کو اپنا وطن مانتے ہوئے یہیں بس گیا کہ آگے افغانستان کی آب و ہوا ہمارے خاندان کیلئے موافق نہیں تھی۔ اب تم سمجھے کہ ہم نے کس نیک جذبے کے تحت ہجرت کی اور اس سرزمین کو چھوڑا جس میں ” خاندان ادھاراں” کے بزرگوں کی ہڈیاں دفن ہیں۔ ہم یہاں جب آئے تو ابا میاں نے یہی سمجھایا کہ اب ماضی کو بھول جاؤ اور لوگوں نے جو تمہارے ساتھ نیکیاں کی ہیں اُن کو بھی بھول جاؤ۔ہم یہاں جب اس پاکستان ، اس پاک سرزمین پر آئے تو ابا میاں نے ایک وسیع قطعہ اراضی منت کرکے اپنے نام کروا کر اُس کا نام ” کوچہ نادہندگان” رکھا اور پھر ادھار پہ میٹریل لیکر نئی زندگی کا پہلا باب کھول دیا جو ابھی تک کھلا ہوا ہے اور شاید ہمیشہ کھلا ہی رہے۔ ابا میاں نے دنیا سے جاتے وقت ہم سب کو یہی نصیحت کی تھی کہ اب نئی زندگی کا باب رقم کرو جس کا ہر ہر ورق ایک کارنامے سے مزین ہو اور تاریخ کے قرطاس پر اپنے پاک صاف معاملات کی بدولت وہ ان مٹ نقوش چھوڑو کہ آنے والا مورخ یہ کہہ اٹھے کہ ” اتہاس کے پنوں پر اس سے قبل ایسی کہانی نہیں لکھی گئی "۔
امید ہے اب تمہارا دل اپنے خاندان سے متعلق پالی گئی غلط فہمیوں سے پاک ہوجائے گا۔
تمہاری اصلاح کیلئے متفکر
تمہارا ماموں
نادان ادھاری مہاجر میرٹھی
حال وارد کوچہ نادہندگان
بدحال پورہ

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |