تبسم بٹالوی کی غزل میں رومانوی عناصر
تبسم بٹالوی کا شمار اُن شاعروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اردو غزل کی روایت میں نصف صدی سے زائد عرصے تک مسلسل تخلیقی محنت، ادبی بصیرت اور شاعرانہ صلاحیت کے ذریعے سے اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔ ان کا تعلق گوجرہ، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے اور گزشتہ پچاس دہائیوں سے وہ ادب کے مختلف شعبوں میں سرگرم ہیں۔ ان کے متعدد شعری مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ ان کی شاعری پر ایم اے اور ایم فل کی سطح پر کئی تحقیقی مقالے بھی تحریر ہو چکے ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تبسم بٹالوی نہ صرف اہلِ ذوق شاعر ہیں بلکہ اردو ادب کے محققین اور طلبہ کے لیے مطالعہ و تحقیق کا ایک معتبر موضوع بھی ہیں۔
آج سے تیرہ برس قبل 2012ء میں تبسم بٹالوی صاحب کا شعری مجموعہ "ژرف”شائع ہوا تو اس وقت بھی مجھے اس کا پیش لفظ لکھنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ تبسم بٹالوی سے تعلق کراچی سے شائع ہونے والے رسالے ماہ نامہ "دنیائے ادب”کی وساطت سے ہوا۔ اس عرصے میں ان کا مجموعہ "احساس زندگی کا” بھی شائع ہوا جو ڈینگی کے مرض کے حوالے سے عوامی آگاہی کی شاعری پر مشتمل تھا۔ اب کئی سال بعد جب بٹالوی صاحب نے اپنے اس مجموعے پر تاثرات کے لیے حکم صادر کیا تو میں انکار نہ کر سکا۔ اس مجموعے کی شاعری میں رومانوی عناصر غالب دیکھ کر یہ اندازہ ہوا کہ شاعر کے ہاں صرف مقصدیت کے موضوعات نہیں بلکہ رومانی رنگ بھی نمایاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیرِ نظر منتخب اشعار کا مطالعہ اردو غزل میں تبسم بٹالوی کے رومانوی رجحان اور جمالیاتی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
تبسم بٹالوی کے ہاں رومان ایک مرکزی اور غالب عُنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا رومان نہ صرف محبوب کے حسن و جمال کا اظہار ہے بلکہ انسانی جذبے، تخیل، خواب اور محرومی کی مختلف کیفیات کا آئینہ دار بھی ہے۔ ان کی شاعری میں رومان کلاسیکی روایت سے جڑا ہوا ہونے کے باوجود عصری شعور سے ہم آہنگ ہے جو اردو غزل کی تاریخ میں ایک نادر امتزاج پیش کرتا ہے۔
رومان کی ابتدائی صورت حسنِ محبوب کی دل آویزی اور اس کی سماجی اہمیت کے بیان میں سامنے آتی ہے۔ شاعر محبوب کو محفل کی جان قرار دے کر رومان کو محض ذاتی دائرے تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے اجتماعی فضا میں پیش کرتا ہے:
حسینوں کے ہی صدقے محفلوں کی شان ہوتی ہے
ہماری جان جو ہے محفلوں کی جان ہوتی ہے
اس شعر سے ظاہر ہوتا ہے کہ تبسم بٹالوی کے ہاں محبوب صرف عاشق کی ذات تک محدود نہیں بلکہ سماجی مرکزیت کی علامت بھی بن جاتا ہے۔ یہ انداز رومانوی تصور کو ایک متنوع اور پیچیدہ سطح پر لے جاتا ہے جہاں محبوب کی موجودگی سماجی تعلقات، محفل کی رونق اور جماعت کے تجربے سے جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
اسی طرح تبسم بٹالوی کی شاعری میں رومان طبقاتی شعور اور معاشرتی حقیقت کے ساتھ بھی مربوط ہوتا ہے جیسا کہ یہ شعر دیکھیں:
نہیں ہے پوچھتا کوئی یہاں پر عام لڑکی کو
بڑے گھر کی پری زادی کی اک پہچان ہوتی ہے
یہاں شاعر نے رومان کو طبقاتی شعور کے ساتھ مربوط کر کے اسے نہ صرف ذاتی تجربہ بلکہ معاشرتی حقیقت کو آئینے کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تبسم بٹالوی کا رومانوی شعور صرف خواب اور تصور تک محدود نہیں بلکہ یہ سماجی حقائق اور انسانی رویوں کے گہرے مشاہدے پر بھی مبنی ہے۔
تبسم بٹالوی کے ہاں رومان کا ایک نہایت اہم پہلو یاد اور تخیل ہے۔ محبوب کی تصویر شاعر کے لیے محض ایک ماضی کی یادگار نہیں بلکہ ایک فعال تخلیقی قوت بن جاتی ہے۔ شاعر کو محبوب کی یاد میں غزل کہنے پر مجبور ہونا تخلیقی جبر کی صورت اختیار کر لیتا ہے جو اردو غزل کی کلاسیکی روایت میں بھی موجود ہے۔ تبسم بٹالوی اس روایت کو نئے معنوں اور جدید احساسات کے ساتھ جوڑ کر اسے عصری شاعر کے وژن سے ہم آہنگ کرتے ہیں:
تیری تصویر پرانی پہ غزل کہنا پڑی
تیرے اس عہدِ جوانی پہ غزل کہنا پڑی
یہ اشعار رومان کے تخلیقی عُنصر کو ظاہر کرتے ہیں جہاں محبوب کی تصویر شاعر کے تخیل کو بامعنی سمت دیتی ہے۔ اسی تسلسل میں محبوب کی غیر موجودگی بھی شاعر کے ذہن میں ایک جیتی جاگتی حقیقت کی شکل اختیار کر جاتی ہے شعر ملاحظہ کریں:
تصویر تیری مجھ کو باتیں بھی سناتی ہے
میں سونا بھی چاہوں تو وہ رات جگاتی ہے
یہ کیفیت خواب اور بےداری کے درمیان ایک لطیف دائرے کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ تبسم بٹالوی کے ہاں رومان محض فطری یا جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ایک مکمل نفسیاتی اور تخلیقی عمل ہے۔تبسم بٹالوی کے ہاں رومان کی ایک دل کش اور نفسیاتی اہمیت والی صورت محبوب کے ناز و ادا اور عاشق کی تمناؤں کے تصادم میں نظر آتی ہے۔ یہ کیفیت ایک دل کشی، حیا اور خواہش کے درمیان لطیف کش مکش پیدا کرتی ہے جسے شاعر نہایت سادہ اور رواں انداز میں بیان کرتے ہیں:
میں کھول کر بانہوں کو کہتا ہوں گلے لگ جا
وہ کھول کے بانہوں کے پیچھے چلی جاتی ہے
یہ شعر اس بات کا غماز ہے کہ تبسم بٹالوی کے ہاں رومان انسانی جذبات اور نفسیاتی کیفیتوں کے ایک متوازن امتزاج پر قائم ہے۔ یہاں قربت کی خواہش کے ساتھ ساتھ حیا کی رکاوٹ اور محبت کی شدت واضح طور پر محسوس کی جاتی ہے۔ یہ فکر ایک نفسیاتی ہم آہنگی پیدا کرتی ہے جو اردو غزل میں کم ہی نظر آتی ہے۔
تبسم بٹالوی کے ہاں رومان صرف وصل اور محبت کی سرشاری تک محدود نہیں۔ محبوب کی عدم موجودگی، بے وفائی یا محرومی کے حالات میں رومان ایک سنجیدہ اور دردناک تجربے میں بدل جاتا ہے۔ اس کیفیت کو شاعر کس طرح محفل کی بے رنگی اور ادھوری رونق کے استعارے میں بیان کرتے ہیں ملاحظہ ہو:
محفل میں آج رنگ نہ شوخی نہ مستیاں
سارے لوازمات تھے وہ مہ جبیں نہ تھا
یہ شعر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ تبسم بٹالوی کے ہاں رومان محبوب کی موجودگی سے گہرا جڑا ہے اور اس کی غیر موجودگی ہر شے کو بے معنی کر دیتی ہے۔ یہاں شاعر نے نہ صرف رومان کو ایک جذباتی تجربے کی حیثیت سے پیش کیا ہے بلکہ اس میں انسانی محرومی کے علاوہ تنہائی اور محبت کے پیچیدہ جذبات کو بھی شامل کیا ہے۔
تبسم بٹالوی کے ہاں رومان کا جمالیاتی پہلو فطرت اور محبوب کے امتزاج میں پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ وہ محبوب کی ایک معمولی حرکت یا ادا کو پورے منظر کے رومانوی جمال کے لیے کافی سمجھتے ہیں:
جب زلف کو جھٹکا تو گریں ننھی سی بوندیں
لگتا ہے کہ ساون کی گھٹا بول پڑی ہے
یہاں شاعر کی پیکر تراشی، تخلیقی بصیرت اور جمالیاتی حساسیت کا ایک شان دار نمونہ دکھائی دیتا ہے۔ جہاں محبوب کی ایک چھوٹی سی حرکت پورے ماحول میں رومانوی اور حسی کیفیت پیدا کرتی ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تبسم بٹالوی کے ہاں رومان صرف محبت کا اظہار نہیں بلکہ جمالیات، منظر نگاری اور انسانی احساسات کا ایک مربوط تجربہ ہے۔
تبسم بٹالوی کا رومان حقیقت پسندی کی سطح پر پہنچ کر عملی زندگی کی مشکلات اور انسانی مزاحمت کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ وہ عشق کو صرف خواب اور خیال کے دائرے تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے جدوجہد اور امتحان کے حوالے سے بھی پیش کرتے ہیں مثال دیکھیں :
تبسمؔ کاٹ کر رستا ملے گا تم کو اے جاناں!
زمانہ لاکھ رستے میں بھلا دیوار ہو جائے
اس شعر میں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ رومان محض فطری یا خیالی کیفیت نہیں بلکہ عملی زندگی کے تجربات اور چیلنجوں کے حوالے سے بھی شعور پیدا کرتا ہے۔ یہاں شاعر کی رومانوی بصیرت انسانی زندگی کے تنوع، محنت اور مزاحمت کے ساتھ مربوط ہے۔
مجموعی طور پر تبسم بٹالوی کی شاعری میں رومان ایک ہمہ گیر اور ارتقائی تجربہ ہے۔ یہ حسن سے شروع ہو کر یاد، خواب، محرومی، جدوجہد اور عملی زندگی کی رکاوٹوں تک پھیلتا ہے۔ شاعر نے رومان کو نہ سطحی جذبات تک محدود رکھا ہے اور نہ ہی محض تصوراتی بنا دیا ہے، بلکہ سادہ، رواں اور مؤثر زبان کے ذریعےسے اسے انسانی زندگی کا ایک بامعنی اور گہرا تجربہ بنایا ہے۔
تبسم بٹالوی کی رومانوی شاعری نہ صرف اردو غزل کی کلاسیکی روایت کے ساتھ ہم آہنگ ہے بلکہ اسے عصری زندگی کے مسائل، نفسیاتی پیچیدگیوں اور سماجی شعور کے ساتھ بھی مربوط کرتی ہے۔ یہی خصوصیت ان کی شاعری کو اردو ادب میں ایک معتبر مقام عطا کرتی ہے۔ یہ مجموعہ نہ صرف قارئینِ ادب اور طلبہ کے لیے جمالیاتی مسرت کا باعث ہوگا بلکہ اردو غزل میں رومانوی رویّے، انسانی جذبات اور تخلیقی تخیل کو سمجھنے کے لیے ایک اہم ادبی دستاویز بھی ثابت ہوگا۔آخر میں تبسم بٹالوی صاحب کے چند منتخب اشعار دیکھیں:
تو نے زلفوں کو بکھیرا تو اندھیرا پھیلا
دیکھ کر شام سہانی پہ غزل کہنا پڑی
تصویر تیری مجھ کو باتیں بھی سناتی ہے
میں سونا بھی چاہوں تو وہ رات جگاتی ہے
ڈھونڈا ہے چار سو کوئی تجھ سا کہیں نہ تھا
زلفیں جو کھولی آپ نے ایسا حبس نہ تھا
اب دل سے صدا پیار کی آتی ہے مسلسل
لگتا ہے محبت کی فضا بول پڑی ہے
خدا جانے کہاں مجھے تیرا دیدار ہوجائے
تیری آنکھوں میں دیکھوں دیکھتے ہی پیار ہوجائے
وفا کے امتحاں میں پرچے کب آسان ہوتے ہیں
کسی کا غرق ہو بیڑا ، کسی کا پار ہوجائے
اسے سب سے زیادہ داد ملتی ہے سرِ محفل
حسیں جو ہوتی ہے لیکن بے سر بے تان ہوتی ہے
میں رات کی رانی کو جب پاس بلاتا ہوں
وہ حُسن پری بن کر تب سامنے آتی ہے
تصویر غم بنی ہے تبسمؔ کے سامنے
صورت بتا رہی تھی تیرا دل حزیں نہ تھا
جلاتے ہو وفا کے تیر آنکھوں کی کمانوں سے
کہیں ایسا نہ ہو وہ تیر دل کے پار ہوجائے
13 جنوری 2026

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |