فیض حمید کی سزا کا پیش منظر
جنرل فیض حمید کا میڈیا ٹرائل ابھی بھی جاری ہے۔ مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر فیض حمید پر طرح طرح کے الزامات کا بازار گرم ہے۔ شاید یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک عمران خان کے خلاف 9مئی کے واقعات کی سزا کا بھی اعلان نہیں کر دیا جاتا ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا دعوی ہے کہ انہیں عمران خان کے خلاف "وعدہ معاف گواہ” کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے، کچھ کا کہنا ہے کہ انہیں "قربانی کا بکرا” بنایا جا رہا ہے جبکہ کچھ کا یہ بھی خیال ہے کہ فیض حمید کے پاس اپیل کا حق موجود ہے اور انہیں جنرل پرویز مشرف کی سزائے موت کی طرح بچا لیا جائے گا۔ کابل میں جنرل فیض کے جس چائے کے کپ کی پہلے تعریف کی گئی تھی اب اس پر تنقید ہو رہی ہے۔ یہ تبصرہ نگار اس وقت کہاں تھے جب جنرل فیض حمید کے عروج کا سورج اپنے پورے جوبن کے ساتھ چمک رہا تھا۔ اب وہ جیل میں ہیں تو ہر دوسرا آدمی ان پر الزامات کے تیر برسا رہا ہے۔
ان سب چہ میگوئیوں کے درمیان ایک مشہور صحافی اور کالم نگار جو اس سے پہلے خاموش تھا ایک ویڈیو پیغام میں بہت دور کی کوڑی لایا ہے۔ اس ویڈیو میں وہ جنرل موصوف پر یہ الزام لگاتا نظر آ رہا ہے کہ انہوں نے بڑے بزنس مینوں کو پریشرائز کر کے اربوں روپے لوٹے، انہوں نے صرف ٹاپ سٹی کے مالک کو لوٹنے کی کوشش نہیں کی بلکہ انہوں نے ایک اہم سیاسی شخصیت جس کا تعلق ایک بڑی سیاسی جماعت (مسلم لیگ نون) سے ہے اور وہ اس وقت سینیٹر ہیں ان پر ایک جھوٹا مقدمہ بنا کر ان سے پیسے وصول کیئے اور پھر جب اس کے بیٹے کی شادی آئی تو انہوں نے اسے بلیک میل کر کے رقم وصول کی۔ انہوں نے اس ویڈیو میں کہا ہے کہ ان کا بیٹا بھی اس جماعت کا موجودہ ایم این اے ہے اس کی شادی کے چند روز پہلے اس کے باپ کو جنرل فیض نے فون کر کے کہا کہ میرا آدمی آ رہا ہے اسے 13 کروڑ روپے دو ورنہ شادی والے دن اس کے بیٹے کو گرفتار کر لیا جائے گا اور وہ کیا کرتے وہ رقم انہوں نے اسے دے دی۔ اس انتہائی "معنی خیز” ویڈیو کے بعد پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی ایک پرانی ویڈیو بھی منظر عام پر لائی گئی ہے جس میں وہ جنرل فیض حمید کا نام لے کر الزام لگاتے ہیں کہ، "جنرل فیض صاحب یہ سب کچھ آپ کے ہاتھوں سے ہوا ہے جواب بھی آپ کو دینا پڑے گا آپ نے ہماری اچھی بھلی چلتی حکومت کو رخصت کروایا اور ملک و قوم کو اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھایا اور ممبران پارلیمنٹ کی خرید و فروخت جس سے ہم عرصہ دراز سے جان چھڑا چکے تھے دوبارہ آپ نے شروع کروائی، ججوں سے زور زبردستی فیصلے آپ نے لکھوائے اور یہ سب کچھ آپ کے ایماء پر ہوا۔”
جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کا حالیہ کورٹ مارشل اور انہیں سنائی جانے والی 14 سال قید بامشقت کی سزا کورٹ مارشل کے معمول کا فیصلہ ہے۔ یہ پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء کے تحت ادارے کا فیصلہ ہے جو سخت گیر داخلی نظامِ احتساب کے تحت ہمیشہ سے متحرک رہا ہے۔
جو بھی فوجی افسر وہ چاہے لیفٹننٹ جنرل ہی کیوں نہ ہو وہ اس ادارے کے ڈسپلن کی "ریڈ لائن” عبور کرتا ہے تو اسے فوجی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے۔ 2016ء میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دور میں بھی ایک غیر معمولی اقدام کے تحت ایک لیفٹیننٹ جنرل اور ایک میجر جنرل سمیت 11 اعلیٰ فوجی افسروں کو کرپشن کے الزامات پر برطرف کیا گیا تھا اور بعد میں خود جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں بھی مئی 2019ء میں لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کو جاسوسی کے الزام میں 14 سال قید اور بریگیڈیئر راجہ رضوان کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔ تاہم حالیہ کورٹ مارشل کی لہر زیادہ شدید ہے۔ مئی 2023ء کے سانحے کے بعد سے فوجی عدالتوں کا دائرہ کار وسیع ہوا ہے۔ دسمبر 2024ء میں اعلان ہونے والی فہرست میں 60 افراد کو سزائیں سنائی گئیں، جن میں دو ریٹائرڈ افسر شامل تھے جبکہ اس سے قبل 25 افراد کو سزا دی جا چکی تھی لیکن یہ یہ سزائیں افواج پاکستان کے داخلی نظام انصاف کے تحت دی گئیں جنہیں اب سیاسی مقاصد کے لیئے استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ درست ہے کہ پاک آرمی اس مد میں "زیرو ٹالرنس” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اگر حکومت جنرل فیض حمید کی سزا کو اپنی گرائی گئی گزشتہ حکومت کو ناجائز کاروائی ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے تو اس کا ملبہ خود نون لیگ پر بھی گر سکتا ہے کیونکہ جنرل فیض حمید کے خلاف چودہ سالہ سزا کے ایسے غیرمعمولی پروپیگنڈا سے خود فوج بھی بدنام ہو رہی ہے کہ وہ اتنا ہی کرپٹ فوجی افسر تھا تو ڈی جی آئی ایس آئی جیسے اہم عہدے تک وہ کیسے پہنچ گیا؟ جس طرح ہر دوسرا سوشل میڈیا یوزر لٹھ لے کر جنرل فیض حمید کا پیچھا کر رہا ہے اس سے تو موصوف روبن ہڈ کا کوئی تمثیلی کردار نظر آنے لگے ہیں کہ جس کے کل تک چائے کے ایک کپ پر رزمیہ کہانیاں لکھی جا رہی تھیں آج انہیں مصنوعی طور پر المیہ پیروڈی بنایا جا رہا ہے.
اطلاعات کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم) نے فیض حمید کو قید کی یہ سزا اس مقدمے کے پس منظر میں سنائی ہے جو "ٹاپ سٹی” نامی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کی درخواست سے شروع ہوا تھا جن کا الزام تھا کہ 2017ء میں جب فیض حمید ڈی جی آئی ایس آئی تھے انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ان کے گھر اور دفتر پر چھاپے کے دوران وہاں سے سونا، ہیرے اور کروڑوں روپے نقدی غیر قانونی طور پر اٹھائے تھے اور بعد ازاں بلیک میلنگ بھی کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر فوج نے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے الزامات کو درست قرار دے کر انہیں سزا سنائی ہے۔ اگرچہ چارج شیٹ میں صرف کرپشن نہیں بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سیاسی جوڑ توڑ، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی اور ریاست مخالف بیانیہ بنانے میں کردار ادا کرنے کے سنگین الزامات بھی شامل ہیں لیکن جنرل فیض کے پاس ایک تو اپیل کا حق موجود ہے دوسرا ابھی انہیں صرف ان چار مقدمات میں سزا سنائی گئی ہے جبکہ 9مئی کے واقعات پر سزائیں جاری ہونا ابھی باقی ہیں۔
آئی ایس پی آر کی آخری پریس کانفرنس کا لب و لہج بھی کافی سخت تھا۔ یہ پریس کانفرنس عمران خان کے خلاف غصے سے بھری ہوئی تھی جس کے اگلے دو روز میں جنرل فیض حمید کو چودہ سال کی قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ جہاں تک میرا خیال ہے جنرل موصوف کی سزا عمران خان کے خلاف مقدمات کا پیش منظر ہے۔ جنرل فیض حمید کو سیاسی تجزیہ کار سابق وزیراعظم عمران خان کے دورِ حکومت کا "آرکیٹیکٹ” قرار دیتے ہیں۔ پی ٹی آئی کا بیانیہ طویل عرصے تک یہ رہا ہے کہ وہ اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر تھے اگر جنرل فیض حمید (سہولت کار) مجرم قرار پاتا ہے اور اسے اپنے حلف سے غداری کی سزا ملتی ہے تو جس کے لئے سہولت کاری کی گئی وہ کیسے بری الذمہ ہو سکتا ہے؟
لھذا عمران خان کے لیئے یہ فیصلہ جہاں خطرے کی گھنٹی ہے وہاں سیاسی سودے بازی کا امکان بھی پیدا کرتا ہے۔ یہ عمران خان کے لیئے اعلانیہ پیغام بھی ہے کہ اگر ہم اپنے اتنے لاڈلے جنرل کے ساتھ یہ کر سکتے ہیں تو تم جو اڈیالہ جیل سے دھمکیاں دیتے رہتے ہو، تم جو سوشل میڈیا پر مسنگ پرسنز کے بارے میں سوال کرتے ہو اور تم جو تاحیات وردی اور تاحیات استثنیٰ کے معانی پوچھتے ہو، تم یہ بھی سوچو کہ اگر ایک جنرل کا حساب ہوا ہے تو تمھارا حساب کرنا ہمارے لیئے مشکل نہیں ہے۔
پاک فوج کی پرائم انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق سربراہ کو سزا ہونا عوام اور دفاعی تجزیہ کاروں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلیجنس ( آئی ایس آئی) نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اپنی اعلی کارکردگی کی وجہ سے مانی جاتی ہے۔ خفیہ اطلاعات کے اس ادارے کا ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) بننا بھی کوئی معمولی بات نہیں ہے کیونکہ پاکستان کی سلامتی کے ضامن اس ادارے کا سربراہ بھی پوری چھان بھٹک کے بعد ہی کسی انتہائی محب وطن اور ذمہ دار فوجی افسر کو بنایا جاتا ہے۔ یوں فیض حمید کی یہ سزا عام شہری کو بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے جسے سیاسی مقاصد کے لیئے استعمال کرنے سے گریز کیا جانا چایئے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |