نادان ادھاری بنام کریانے کا دکاندار
از کوچہ ناہندگان
جان سے پیارے دکاندار دوست!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مجھے آج صبح اپنے پڑوسی مرزا جانِ جاں کی زبانی معلوم ہوا کہ آپ نے کسی مشکوک ذریعے سے اُن کا موبائیل نمبر لیکر اُنہیں کال کرکے یہ راز طشت از بام کیا ہے کہ میں یعنی کاتب تحریزِ ھذا عرصہ ساڑھے تین سال سے آپ کے ایک لاکھ دس ہزار روپے کا مقروض ہوں اور عرصہ چھ ماہ سے آپ کا نمبر بلاک کرکے بھولی بسری یاد کی مانند فراموش کرچکا ہوں۔میرے عزیز کریانے کے دکاندار دوست ! سچ پوچھو تو وہ وقت میرا چمن کی سیرکرنے کا ہوتا ہے اور میرے دل میں ہزار قسم کے رومان انگیز خیالات پنپ کر شگوفوں کی صورت میں پھوٹ رہے ہوتے ہیں مگر تمہارے اس پیامِ زبانی بزبانِ رقیب نے دل کے سارے ارمانوں کو یوں کچل ڈالا کہ میں چمن کی سیر کیے بنا ہی گھر واپس آگیا اور اب دن دو بجے تک گھر سے باہر نہیں نکلا۔میری اہلیہ نے اگرچہ مجھے سو بار تسلی دی اور سمجھایا کہ دنیا میں نادان ادھاری کیا صرف تمہارا ہی نام ہے؟ ہوسکتا ہے تمہارا ہم نام اسی محلے میں رہتا ہو جو تمہاری طرح میرٹھ سے ادھار لیکر بھاگا ہو اور یہ پیغام اُس کیلئے ہو۔ لیکن میرا دل نہیں مانا کہ ایسا نایاب اور پیارا نام صرف وہی باپ اپنے بیٹے کا رکھ سکتا ہے جس نے اُس کی حرکتوں سے اندازہ لگا لیا ہو کہ میرا بیٹا ادھاری بن کر جگ میں نام روشن کرے گا۔
میرے پیارے بھائی! کاش ! کاش ! آپ نے یہ فون کرنے سے پہلے اتنا تو سوچ لیا ہوتا کہ میں کہیں بھاگا جا رہا تھا جو آپ کو اپنے سرمائے کے ڈوبنے کی فکر پڑگئی تھی۔ بھائی تین سال کی مدت بھی بھلا کوئی مدت ہوتی ہے، آنکھ جھپکو تو تین سال گزر جاتے ہیں۔ بخدا! آپ سے ادھار لیے تو صرف تین سال ہوئے اور آپ دل چھوٹا کرکے بیٹھ گئے، اگر کبھی بد قسمتی سے سامنا ہوا جس کا امکان بہت ہی کم ہے تو میں آپ کو بتاؤنگا کہ ” اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں” جن کا ادھار میرے ذمے ہے مگر کیا مجال کہ کبھی اُن کے منہ سے اُف تک نکلا ہو۔یقین مانیں کہ یہ میں ہی ہوں جس کو قدرت نے عفو درگزر کرنے، چشم پوشی اختیار کرنے ، بڑا ظرف دکھانے اور عیوب پہ پردہ ڈالنے والی صفات سے متصف کرکے دنیا میں بھیجا گیا ہے ورنہ میرے علاوہ کوئی بھی دوسرا انسان ہوتا جس سے آپ یوں بذریعہ پڑوسی ادھار کی واپسی کا تقاضا کرتے تو وہ بددعاؤں پہ اتر آتا اور جھولی اٹھا اٹھا کے آپ کے حق میں وہ بد دعائیں کرتا کہ آپ کو چھٹی کا دودھ یاد آجاتا۔بس کیا کہوں آپ سے نہ قلم میں وہ تاب ہے نہ ہاتھوں میں طاقت جس سے اُس غم کا صدمہ لکھوں جو آپ کے اس فون کے ہاتھوں مجھے پہنچا۔
سب سے پہلے تو آپ یہ یاد رکھیے کہ میں کوئی ایسا اٹھائی گیرا بھی نہیں یا خدا نہ کرے کوئی نشے وغیرہ کا بھی عادی نہیں کہ مجھے ادھار لینے کی عادت ہو۔ہاں البتہ دل کےبہلانے اور غمِ دنیا سے کچھ وقت کیلئے کنارہ کشی کی خاطر جوا کھیل لیتا ہوں جس کی وجہ سے کبھی کبھی ہفتے میں یہی کوئی سات مرتبہ ادھار کھانے کی نوبت آجاتی ہے۔ اب آپ کو تو پتہ ہے انسان جب جوئے میں ہار جاتا ہے تو گھر میں فاقہ آجاتا ہے، اب ایسے میں اگر آپ سے میں نے کریانے کا سامان ادھار لے کر اپنے گھر والوں کو کھلا دیا تو بتائیے کون سا گناہ کردیا میں نے۔ آپ کو تو الٹا خوش ہونا چاہیے تھا کہ آپ کی وجہ سے میری بیوی، میرے بچے، میری چار سالیاں، دو سالے، ساس، سسر ، سالیوں کی نندیں اور اُن کے بچوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا جس کا پورا ثواب بنا کسی کٹوتی کے آپ کے نامہ اعمال میں درج ہوگیا۔ کل روزِ محشر جب آپ کو نامہ اعمال ملے گا تو اُس وقت آپ یہ دیکھ کر حیران ہوجائیں گے کہ اتنی نیکیاں کہاں سے آگئیں میرے نامہ اعمال میں۔ اُس وقت آپ میرے پاس آئیں گے اور مجھ سے نادم ہوکر عرض کریں گے کہ ادھاری بھائی! کہا سنا معاف کردینا، میں ہمیشہ آپ کو برا سمجھتا تھا لیکن آج معلوم ہوا کہ میرے سچے محسن اور مخلص دوست تو آپ ہی تھے۔آپ کو میں ہمیشہ کلماتِ خیر سے یاد کرتا تھا اور ہر عید کی نماز کے بعد اشک بار آنکھوں سے آپ ، آپ کی اولاد اور آپ کی کریانے کی دکان میں برکت کیلئے دعا کرتا تھا۔ آپ کی دکان ارضی و سمائی آفا ت ا ور بلیات سے اب تک کیسے محفوظ رہی، کیونکہ اس کے پیچھے میرے دعائیں تھیں۔ مگر اب کریانے والے بھائی! آپ کی دکان کو کچھ ہوا تو مجھے گلہ مت کرنا کہ ادھاری بھائی دعا کرنا کیوں چھوڑ دی۔ میرے بھائی لوگ لاکھوں لگا کر دعائیں لیتے ہیں اور تم وہ خوش نصیب تھے جس کیلئے میں مفت میں دعائیں کرتا تھاوہ بھی بلا تعطل صبح دوپہر شام۔ مگر افسوس آپ بہت ہلکے نکلے اور ایک لاکھ دس ہزار کے پیچھے ان قیمتی دعاؤں سے محروم ہوگئے۔چلیں اب کیا کہہ سکتا ہوں۔ میں جو روزانہ بلاناغہ ادھار واپس مانگنے والوں کا نام لے لے کر رقت اور گریہ کے ساتھ باآوازِ بلند دعا کرتا ہوں، افسوس اُس چار صفحات پر مشتمل لسٹ میں سے ایک نام کم ہوجائے گا۔ اس بد نصیبی پر جو آپ کا ضیاع ہوگا اس کا ازالہ کسی بھی طور ممکن نہیں۔ ہم تو مائل بہ دعا تھے آپ نے ہی دامن سمیٹ لیا تو اس میں مجھ رو سیا کا کیا قصور۔
میرے پیارے بھائی! دنیا ایک مسافر خانہ ہے اور آپ سمیت سبھی نے جانا ہے۔ آپ کی باری ہوسکتا ہے مجھ سے پہلے آجائے تو اب بتائیے میں بھلا کس منہ سے آپ کیلئے آپ کے مرنے کے بعد دعائے مغفرت کرونگا۔ انسان کو اچھی یادیں چھوڑ کر جانا چاہیے تاکہ لوگ اُس کے جانے کے بعد اچھے الفاظ میں اُسے یاد کریں مگر آپ نے بخدا میرے پڑوسی کے ذریعے جو مجھ تک پیغام پہنچانے کا گناہ کیا ہے اُس سے میرے دل کو شدید قلق ہوا ہے اور میرے جذبات کو جو ٹھیس پہنچی ہے اُس پر میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات آپ کو معاف فرمائے ورنہ آپ نے اپنے جہنم جانے کا سارا سامان کر دیا تھا۔ مجھے رہ رہ کر یہ بات یاد آتی تھی اور میری آنکھوں سے آنسو نکلتے تھے کہ میرا بھائی اتنا کم ظرف نکلا کہ محض ایک لاکھ دس ہزار روپے جن کی اس زمانے میں کوئی وقعت ہی نہیں ، اُن کی خاطر اُس نے میری عزتِ نفس کو پامال کیا اور میری پگڑی یوں سر راہ میرے حریف کے ہاتھوں اچھالی۔میرے دوست! آپ سے جو یہ گناہِ کبیرہ سرزد ہوا ہے اس کے عوض میں جتنا ہوسکے توبہ استغفار کے ساتھ ساتھ صدقہ خیرات کا اہتمام کیجیے، ورنہ مجھے ڈر ہے کہ اس گناہ کا وہال آپ کے ساتھ ساتھ آپ کے گھر والوں بلکہ پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے کر نشانِ عبرت بنا دے گا۔
میرے عزیز دوست اور میرے ادھار کے طلبگار ساتھی! میں آپ کو اُس وقت شاید بتانا بھول گیا تھا کہ مجھے بچپن سے دو بہت ہی خطرناک قسم کی بیماریاں ہیں، جو محلے کے والوں کے بقول موروثی ہونے کے علاوہ ناقابلِ علاج ہیں۔ اول مجھے کسی دوسرے کی نیکی یاد نہیں رہتی دوئم کسی سے لیا ہوا ادھار مطلقا یاد نہیں رہتا۔ میں کئی قابل ڈاکٹرز کے پاس جابھی چکا ہوں لیکن وہ یہی بتاتے ہیں کہ بیماری ناقابلِ علاج ہے اور جتنا ہوسکے اُن لوگوں کو بھول جانے کی کوشش کرو جنہوں نے تمہارےساتھ کوئی نیکی برتی یا تمہیں ادھار دیا تاکہ تمہارا ذہن کسی بھی قسم کی پریشانی سے پاک رہے۔ اب آپ کو تو پتہ ہے میں ایک بڑے ظرف والا انسان ہوں اس لئے روزانہ پرانے کھاتے ڈیلیٹ کرتا رہتا ہوں تاکہ میموری کارڈ خالی ہوتا رہے لیکن کیا کروں کہ لسٹ ہی اتنی لمبی ہے کہ کمبخت میموری کارڈ صاف ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ باقی میں نے آپ کو اللہ کی رضا کیلئے معاف کردیا ہے اور امید ہے آپ کی طرف سے بھی میرا کھاتہ معاف ہوچکا ہوگا۔
ایک بات آخر میں یاد کرواتا جاؤں کہ اگر صدقہ خیرات کرنا ہوا تو مجھے بتائیے گا میں خود آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر لے جاؤنگا۔ آپ کہاں در در پہ غریب ڈھونڈتے پھریں گے۔ میں آپ کا ” ایک ہی چھت تلے” سارا صدقہ خیرات کسی بھی قسم کی طعن و تعریض اور بدگمانی کے بغیر قبول کرلونگا۔
خیر اندیش
نادان ادھاری
کوچہ نادہندگان

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |