میرا ہیرو: صفی اللہ اور اس کی باتیں
صفی اللہ احمد اعوان وہ ننھا سا کردار ہے جس نے گھر کو سنجیدگی سے مکمل نجات دلوا رکھی ہے۔ اس کی معصومیت ایسی ہے کہ بات غلط ہو تب بھی درست لگتی ہے اور اس کی شرارت ایسی کہ ڈانٹنے والا بھی آخر میں مسکرا دیتا ہے۔ یہ بچہ کم بولتا نہیں بس جو بولتا ہے وہ سیدھا دل میں جا کر قہقہہ بن جاتا ہے۔
اس کی زبان اردو نہیں خاص صفی اللہی اردو ہے۔ اوجری کو چودھری کہنا ہو، فوارے کو چھوارہ بنانا ہو، آستین کو تسکین کہنا ہو، یا کھوپا کو کھوتا کِہ دینا یہ سب اس کے ہاں بالکل عام الفاظ ہیں۔ کھوپا پہاڑی میں ناریل کے لیے استعمال ہوتا ہے مگر صفی اللہ اسے ایسے ادا کرتا ہے جیسے اس کا اصل نام ہی کھوتا ہو۔ ایک دن بڑے شوق سے کھوپا کھا کر ماموں کو اطلاع دی:
“ماموں! میں نے کھوتا کھایا ہے۔”
ماموں چند لمحے خاموش رہے شاید ذہنی نقشہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
اگر کل کو صفی اللہ کتاب لکھ دے تو لغت والوں کو نیا ایڈیشن نکالنا پڑ جائے اور آخر میں یہ جملہ لازمی شامل کرنا پڑے:
“یہ الفاظ صفی اللہی زبان سے ماخوذ ہیں۔”
مالٹا اسے بے حد پسند ہے مگر مالٹا کہلانا اسے منظور نہیں۔ وہ پورے اعتماد سے اسے “ٹاٹا” کہتا ہے۔ ٹاٹا کھاتے ہوئے اس کے تاثرات ایسے ہوتے ہیں جیسے کسی شاہی دعوت میں بیٹھا ہو۔ اور اگر گھر میں ٹاٹا ختم ہو جائے تو صفی اللہ ایسے دیکھتا ہے جیسے کسی نے قومی خزانہ لوٹ لیا ہو۔ عزیز دوست حسن ظہیر راجا کی شادی میں جب کہوٹہ جانا ہوا تو تمام راستے وہ گاڑی سے باہر نظریں جمائے رہا۔ جہاں بھی مالٹا دکھائی دیا اچھل پڑا اور ٹاٹا ٹاٹا ٹاٹا کی گردان شروع کر دی۔
مٹی میں کھیلنا اس کا محبوب مشغلہ ہے۔ صاف کپڑے اس کے نزدیک وقتی چیز ہیں مستقل نہیں۔ مٹی سے دوستی اس قدر گہری ہے کہ لگتا ہے یہ رشتہ پچھلے جنم کا ہے۔ اگر کبھی مٹی صفی اللہ سے ناراض ہو جائے تو دنیا کا کوئی سمجھوتا اسے منا نہیں سکتا۔
گاڑیوں کا شوق اس حد تک ہے کہ گھر میں کھلونے ہوں یا نہ ہوں گاڑیاں ضرور ہونی چاہئیں۔ بڑی نہیں مہنگی نہیں بس چھوٹی چھوٹی مختلف گاڑیاں۔ جتنی زیادہ گاڑیاں اتنی خوشی۔ ہر وقت کسی نہ کسی انداز میں اس کی فرمائشیں جاری رہتی ہے:
“بابا! گاڑی چاہیے۔”
اور اگر بابا پوچھ لیں کہ کون سی؟
“وہ والی… بس وہ والی!”
سڑک پر چلتے ہوئے اگر کوئی گاڑی پسند آ جائے تو فوراً مشورہ نہیں بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی شروع ہو جاتی ہے:
“بابا! آپ اس طرح کی گاڑی لیں۔”
اور اگر اس گاڑی کے پیچھے والے شیشے پر وائپر لگا ہو تو بس… صفی اللہ کا دل وہیں رہ جاتا ہے۔ لگتا ہے گاڑی اضافی چیز ہےاصل ایجاد وائپر ہے۔
ایک دن سفر میں ایک پرانی گاڑی نظر آئی جس کا رنگ جگہ جگہ سے اتر چکا تھا۔ صفی اللہ نے غور سے دیکھا چند لمحے سوچا پھر نہایت معصوم سائنسی نتیجہ نکالا:
“بابا! اس گاڑی کو دانے نکلے ہوئے ہیں۔”
اس دن احساس ہوا کہ مشاہدہ ہو تو ایسا ہو۔
سفر میں اس کی آنکھیں ہر وقت چوکنی رہتی ہیں۔ شیشہ کھول کر باہر جھانکتا رہتا ہے کہ کہیں پسند کی کوئی چیز نظر آ جائے۔ یوں لگتا ہے جیسے پورا راستا اس کی نگرانی میں طے ہو رہا ہو۔
اسکول کا معاملہ بھی کم دل چسپ نہیں۔ روز اسکول چھوڑنے جانا پڑتا تھا۔ ایک دن اچانک صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور احتجاجی بیان جاری ہوا:
“بابا! مجھے روز روز کیوں اسکول بھیج دیتے ہو؟”
گویا ہفتے میں ایک بار کافی ہے باقی دن گاڑیوں اور مٹی کے لیے مخصوص ہونے چاہئیں۔
ایوارڈ کا لفظ اس کے ذہن میں کہاں سے آیا یہ اب تک ایک معما ہے مگر “فراڈ” اس نے پوری تحقیق کے بعد منتخب کیا ہے۔ ایک دن میرے ایوارڈ دیکھ کر فوراً اعلان کیا:
“یہ تو میرے بابا کے فراڈ ہیں۔”
بات ایسی یقین سے کہی کہ سننے والا پہلے ہنسا پھر ان ایوارڈز کو شک کی نظر سے دیکھنے لگا۔
پیسوں کے معاملے میں اس کا نظریہ بڑا سادہ ہے۔ جب کبھی کسی چیز کا تقاضا کرے اور جواب ملے کہ بابا کے پاس پیسے نہیں تو فوراً حل پیش کرتا ہے:
“تو جاؤ نا مشین سے نکال کر لاؤ!”
اسے پختہ یقین ہے کہ اے ٹی ایم میں جب چاہو پیسے نکل آتے ہیں۔ جب مما نے بتایا کہ پہلے اس میں پیسے ڈالنے پڑتے ہیں تو سوالات کی ایسی بوچھاڑ ہوئی کہ لگتا تھا اگلا منصوبہ خود اے ٹی ایم ایجاد کرنے کا ہے۔
نقل کرنے کا شوق بھی کمال کا ہے۔ ایک دن تایا ابو کو بکرا ذبح کرتے دیکھا اگلے دن چھری لی اور چچا زاد سفیان احمد کے ساتھ مل کر تایا زاد نورالعین کو لٹا لیا کہ:
“آؤ تمھیں ذبح کرتے ہیں۔”
شکر ہے دادی امی نے بروقت دیکھ لیا ورنہ تجربہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہوتا۔
یہ وہ بچہ ہے جو کبھی کپڑوں والی الماری کے اوپر ملتا ہے اور اگر اوپر نہ ہو تو یقیناً اندر ہوگا۔ الماری اس کے لیے اسٹوریج نہیں ایک مکمل رہائشی منصوبہ ہے۔
صفی اللہ جب کسی کام میں مشغول ہو جائےچاہے ٹی وی دیکھ رہا ہو یا کھیل میں لگا ہو تو گردوپیش سے بالکل بے خبر ہو جاتا ہے۔ اسی انہماک کا نتیجہ ایک دن پھوپھو کے گھر نکلا جہاں اس نے کھیل کھیل میں روئی ناک میں ڈال لی۔ اسپتال میں ڈاکٹر نے بڑی مشکل سے روئی نکالی تو درد پر صفی اللہ نے احتجاج کیا:
“گندے ڈاکٹر ہو آپ!”
اور ساتھ ہی اعلان بھی کر دیا کہ دوبارہ پھوپھو کے گھر جا کر ناک میں روئی ڈالوں گا۔ اسی طرح ایک دن چیونگم بھی ناک میں جا پہنچی شکر ہے تایا ابو نے بروقت دیکھ لیا اور کوشش کر کے نکال لی۔
اگر اسے ذرا سا بھی تنگ کیا جائے تو فوراً معصومانہ مگر فیصلہ کن جملہ آتا ہے:
“گندے بابا ہو آپ مجھے تنگ کرتے ہو!”
اور اگر میں کسی کام میں مصروف ہوں تو آ کر پپی کرتا ہے پھر خوش ہو کر کہتا ہے:
“بابا! میں نے آپ کو چپکے سے پا کر دیا ہے۔”
خاندان کے اکثر لوگ گواہی دیتے ہیں کہ صفی اللہ کی شکل ہو بہ ہو اپنے پردادا فرمان علی اعوان مرحوم سے ملتی ہے۔ اسی وجہ سے پھوپھو زاد سالک محبوب اسے فرمان علی ہی کِہ کر پکارتا ہے اور صفی اللہ اس نام کو پوری شان سے قبول کرتا ہے۔
شادی کے معاملے میں صفی اللہ نہایت سنجیدہ،فیصلہ کن اور حالات کے مطابق لچک دار ہے۔ پہلے ماریہ پھوپھو سے شادی کا اعلان ہوا۔ جب ماریہ پھوپھو کی شادی ہو گئی تو پھر اگلا نام سامنے آیا:
“اب میں ایمی خالہ سے شادی کروں گا۔”
اور جب ایمی خالہ کی بھی منگنی ہو گئی تو دنیا کی ناپائیداری کو سمجھتے ہوئے آخری فیصلہ سنایا:
“اب میں کسی سے شادی نہیں کرتا۔”
یوں اس نے کم عمری میں ہی دل رشتوں اور قسمت تینوں سے سمجھوتا کر لیا۔
اپنی خالہ کا یہ اس قدر چہیتا ہے کہ خالہ کے پاس جاتے ہی خود کو وی آئی پی سمجھنے لگتا ہے۔ ایک دن بڑے پیارے انداز میں کہتا ہے میں اپنی شادی میں کسی کو نہیں بلاتا بس ایمی خالہ کو بلاؤں گا۔ گیت گاتا رہتا ہے باتیں بناتا رہتا ہے اور جس چیز پر دل آ جائے اس میں مکمل طور پر کھو جاتا ہے۔ سوتا بھی تب ہی ہے جب بابا ساتھ ہوں جیسے نیند کا سوئچ بابا کے پاس ہو۔
صفی اللہ احمد اعوان کوئی عام سا بچہ نہیں۔ یہ گھر کا چلتا پھرتا مزاح، قہقہوں کی فیکٹری اور یادوں کا خزانہ ہے۔ اس کی باتیں سن کر دل ہلکا ہو جاتا ہے تھکن اتر جاتی ہے اور دل کہتا ہے کاش یہ بچپن کبھی بڑا نہ ہو۔
سچ پوچھیں تو صفی اللہ کے ہوتے ہوئے گھر میں خاموشی صرف اس وقت ہوتی ہے… جب وہ سو رہا ہو یا ٹی وی دیکھ رہا ہو 😄۔
آج میرے اس ننھے دوست کا پانچواں جنم دن ہے۔ آج سے پانچ برس قبل یکم اور دو جنوری کی درمیانی رات ایک بجے سی ایم ایچ مظفرآباد میں اللہ نے یہ نعمت عطا کی۔ میرا ننھا ہیرو جگ جگ جیے۔ دین و دنیا کی دولتیں سمیٹے آمین۔

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |