مدح شاہِ زمن

جب قلم کو اُٹھاتا ہوں برائے مدحت

 لفظ الہام کے دیوان میں آ جاتے ہیں

گزشتہ دہائی سے نعتیہ ادب کے فروغ پر جس تسلسل کے ساتھ کام ہو رہا ہے وہ خود اپنے آپ میں بے مثال و بے نظیر ہے۔

اس ضمن میں انہی کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیے ! 

فروغِ نعت کرتا ہے جو دِل کے آبگینوں سے 

وہی مدحت رقم کرکے ضیا کرتا نظر آیا

حمد و نعت کہنا کوئی معمولی بات نہیں ہے اس کام کے لیے رب العزت ان بیدار بختوں کو چن لیتا ہےجن کے دِل میں حبِ رسول ﷺکی شمع منور ہوتی ہے۔ مدح شاہِ زمن کی اشاعت کے ساتھ ہی تقدیسی ادب کے منظر نامے پر ابھرنے والے شاعر سید حبدار قائم صاحب کا یہ پہلا نعتیہ مجموعہ ہے ۔

نعت کے افق پر ان کا نام گو ابھی نیا ہے لیکن ان کے کلام میں پختگی کا عنصر ان کے ہم عصر شعراء سے کسی طور کم نہیں ہے ۔

سید حبدار قائم صاحب کا تعلق اٹک کی سنگلاخ سر زمین سے ہے ۔اٹک کی سرزمین اپنے خطے کے اعتبار سے سخت ہے لیکن یہاں پر ادبی و علمی زرخیزی کی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں سید حبدار قاٸم کا نام بھی شامل ہے۔

ان کے والدین نے ان کی تربیت مذہبی خطوط پر استوار کی اسی لیے ان کے اشعار میں مذہبی شعور کی فکری پختگی کو بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ شخصی طور پر سید حبدار قائم کی کئی تخلیقی جہات ہیں جن میں ادبیات سے آگہی،نثر نگاری، کالم نویسی اور شاعری شامل ہے ۔ان کی شاعری جمالیاتی پہلووں اور اپنے وسع تر کائناتی حسن کے ساتھ صداقت کی تمام تر رعنائیاں سمیٹے ہوئے ہیں۔

مدح شاہِ زمن


آپ کا شعر ملاحظہ کیجئے!

مدحت میں جو ملی ہے مجھے آپؐ کی لگن
اب آرزو یہی ہے رہیں شاعری میں آپؐ
حمد خدا کی تعریف و توصیف اور اس کی یکتائی کے اظہار کا اعتراف ہے ۔حمد ثنائے رب ہے جو ربِ رحیم کی ذات و صفات ، بڑائی ، خالق ارض و سماوات کی تخلیقات کے منشائے ظہور کی ترجمان ہے ۔اللّٰہ ہر شے پر قادر ہے پس اس مبدء فیض کی خوبی و کمال اور اس کی بخشش و فیضان کے اعتراف میں جو بھی تحمیدی و تمجیدی کلمات زبان وقلم پر جاری ہوں ان سب کا شمار حمدباری میں ہو
” مدح شاہ زمن ” کا آغاز بھی حمدیہ شاعری سے ہوتا ہے ۔سید حبدار قائم کی حمدیہ شاعری میں آثر آفرینی ، کیف و سرور کی فضاء دیکھنے ملتی ہے۔انہوں نے اپنی حمدیہ شاعری میں اللّٰہ کی صناعی اور توصیف و ثنا کے متنوع حوالے پیش کئے ہیں ۔ اللّٰہ کی ذات و صفات اور برکات کا تزکرہ کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا کہ آپ صفاتِ الہی سے گُزر کر کی ذاتِ الہی میں گُم ہونے کی خواہش رکھتے ہیں ۔
حمدیہ شاعری اس لیے بھی اہم ہے اس میں بندہ اللّٰہ کے ساتھ عجز و نیاز مندی کے ساتھ حاضر ہو کر اس کی تعریف توصیف کے ہمراہ اس کی صفات کا تزکرہ کرتے ہوئے مناجات کرتا ہے۔حمد و نعت نظم و قصیدہ کسی بھی ہیت میں کہی جا سکتی ہے۔ اردو ادب کے بغور مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ حمد اردو ادب کی قدیم صنف ہے ۔ اردو ادب کے قدیم سرمائے کے آثار سے دکن و گجراتی زبان میں حمدیہ شاعری کے سراغ ملتے ہیں ۔
مثلاً ! قلی شاہ قطب کا یہ شعر اپنے زمانے کے تناظر میں فنی محاسن پر بدرجہ اتم پورا اترتا ہے ۔
ان کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیے!
تیری صفت کن کر سکے، تو آپی میرا ہے جیا
تج نام مج آرام ہے، مج جیو سو تج کام ہے
ان کے علاوہ غواصیؔ کے اس شعر میں ان کے عصری حسیت کا آئینہ دار ہے ۔ ملاحظہ کیجئے :
حمد وفا کے کروں اس پر جواہر نثار

جس سے ہویدا ہوئے نار و نورو نور و نار
اس کے علاوہ گلشنِ عشق و علی نامہ میں موجود حمدیہ اشعار نصرتی کے قادر کلام ہونے کے گواہ ہیں۔
“مدح شاہ زمن ” میں موجود حمد باری تعالیٰ شاعر کے فکر و فن کو جلا بخشتی دیکھائی دیتی ہیں ۔ان کے کلام سے چند حمدیہ اشعار ملاحظہ ہو!

مجھے عرفان کی دولت ملی تیرے ہی کلمے سے
تیرے کلمے میں ” لا” میں ،اے مرے مالک الہ تو ہے
مزکورہ بالا اشعار میں شاعر نے اپنے وجود کی نفی کرتے ہوئے اللّٰہ کے واحد ہونے کا اقرار بہت خوبصورتی سے کیا ہے ۔
حمد باری تعالیٰ پر ان کا مزید یہ شعر دیکھیے !
گل و لالہ کی تحریروں میں بس فکرِ رسا تو ہے
یہی دل میرا کہتا ہے کجا میں ہوں کجا تو ہے
آپ خوش اخلاق ،خوش گفتار، خوش اسلوب و سخن ور شاعر ہیں ۔ان کے حمدیہ اشعار سے ان کی قادر کلامی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
ان کی وجدانی کیفیات کو جو روحانی مہمیز ملی ہے وہ ان کی شاعری میں ڈھل کر سامنے آئی ہے۔
“مدح شاہ زمن” سرکارِ دو عالمؐ ، شش جہات،ؐ خلائقِ وجہ کائنات ، تسکینِ قلب و راحت ، پیکرِ نورِ مجسمؐ ، نبی المحترمؐ، شفیع الاممؐ کی مدح سرائی سے لبریز ہے اور فنی و فکری اعتبار کی جولانیاں سمیٹے ہوئے ہے۔
اس اعتبار سے صاحب کلام کا یہ شعر دیکھئیے !

میرے شعور میں لفظوں کے پھول کھلنے لگے
جھکی جبینِ قلم تو بہ صد کلام کیا

شاعر اخلاقی اعتبار سے خلاق المعانی بھی ہوتا ہے اور خلاقِ گفتار بھی ہوتا ہے ۔سید حبدار کی شعری صلاحیتوں میں یہ دونوں چیزیں بدرجہ اتم موجود ہیں۔
نعتیہ شاعر کے کلام میں ادبی متانت، وجدانی کیفیات، شعریات فہمی، ادائیگی ، سنجیدگی،انفرادیت ، تخلیقی اظہار کی قوت ، معجز کاریاں ، خوش سلیقگی ،پختگی، عقیدت و مودتِ رسول ﷺ و مودتِ اہلِ بیتِ اطہاؓر کی معجز بیانیوں کے جواہر پارے اگر موجود ہوں تو پھر ہی دربارِ رسالت ﷺ میں مقبولیت کی سند پا سکتا ہے ورنہ صرف قافیے اور ردیف کی گردان ہی باقی رہتی ہے اور کلام کی اصل نص فنا و برباد ہوجاتی ہے جس سے شاعر کی شعری صلاحتیںوں کا انحطاط پزیر ہونا لازمی امر ہے۔
سید حبدار قاٸم شاہ صاحب نے نعت میں صرف فن کا مظاہرہ ہی نہیں کیا بلکہ ان کی نعت میں عقیدت کا رنگ ،عشقِ نبی اور جذب و سرور کی کیفیات کو محسوس کیا جا سکتا ہے ۔
ان کے اس مجموعہ کلام میں حمد و نعت کے ساتھ سلام و منقبت کو بارگاہ اہلِ بیت اطہارؓ میں نہایت عقیدت و مودت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے کہ زباں پر بے ساختہ داد و تحسین کے کلمات جاری ہو جاتے ہیں ۔
ان کا یہ شعر ملاحظہ کیجئے !

مودت آل سے رکھ کر انہی کے غم میں رو لینا
مجھے شوقِ رفاقت ہے،علی ہمدم علی ہستم
مدحت سرکارﷺ پر یہ شعر ملاحظہ کیجیے !
محبت کو قلم میں ڈال کر حرفِ ثنا لکھ دے
مہک جائے قلم تیرا اگر خیر الوریٰ لکھ دے

ان کے کلام میں نادرہ کاری و تازہ بیانی اور محاکات نگاری کی لہر رواں دواں نظر آتی ہے ۔ انہوں نے نعت کے تمام آداب کو ملحوظِ خاطر رکھ کر نعت نگاری کے مروجہ اصولوں کے مطابق نعت لکھی ہےاگر ان کے نعتیہ کلام کو وسیع تر تناظر میں ناقدانہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ کلام فنی و فکری جہات پر پورا اترتا ہے۔
کلام میں خوبصورت تلمیحات کا جابجا ذکر عمدہ پیرائے میں کیا گیا ہے ۔
اس ضمن میں ان کے کلام سےچند اشعار ملاحظہ کیجئے !

کہا معراج پر آو شہہِ ابرار بسم اللّٰہ
بٹھا کر عرش پر سُن لوں تری گفتار بسم اللّٰہ

حضرت بلالؓ کے اسلام لانے کے واقعہ کے حوالے سے لکھتے ہیں!

لٹایا گرم دھرتی پر پگھلتی تن کی چربی تھی
محمدؐ کے غلاموں کا یہی رنگِ وفا لکھ دے

معجزاتِ نبیﷺ میں واقعہ شق القمر کے بارے میں ان کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیے !

اشارے سے توڑا چمکتے قمر کو
نیا معجزہ اک وہاں مل گیا ہے

اس حوالے سے مزید یہ شعر دیکھئیے !

ان کو دہن دیا ہے خدا نے وہ بے مثال
کڑوے کو میٹھا کر دے جو اپنے لعاب سے

شفاعت رسولﷺ کی خواہش ہر مسلمان کے دِل میں ہوتی ہے اور جب یہ خواہش الفاظ کا جامہ پہن لے تو قوتِ اظہار کو پنکھ لگ جاتے ہیں کہ کسی طرح ان کی یہ دُعا بارگاہ رسالت مآبﷺ تک رسائی پا لےاور انہیں بروز قیامت شفاعت کا پروانہ نصیب ہو جائے ۔
صاحب کلام کا یہ شعر اُن کے دِل کا ترجمان ہے ۔

کہیں گے انبیا “نفسی” تو اس مشکل گھڑی میں پھر
شفاعت کرکے کملی میں چھپائیں گے کسی دن وہ
بلاشبہ سرکار دو عالم ﷺ دونوں جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں اور ہمارے لیے خدا کی طرف سے عظیم نعمت ہیں۔آپ ہماری محبت و عقیدت کا محور ہیں اور منبعء نور ہیں ۔آپ خاتم النبی ہیں آپ کے بعد نبوت کا سلسلہ رک گیا اور قیامت تک رکا رہے گا
اس حوالے سے شاعر کہتے ہیں!

نبی نے کہہ دیا ہے، آخری وہ ہیں، تو ہے واجب
تبھی نعرہ لگایا ہے مرے آقا نبی خاتم
آپؐ خاتم النبین ہیں اور رہتی دُنیا تک رہیں گے ۔
ان کے کلام میں مضوعات و مضامین کے علاوہ سوز و گداز اور محبت کی فضاء کا عنصر بہت واضع نظر آتا ہے اور ان کا اسلوب نگارش ذیادہ تر سہلِ ممتنع کا حامل ہے۔
سہلِ ممتنع کے حوالے سے آپؐ کے معطر پسینے پر چھوٹی بحر میں لکھی ہوئی نعت کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے !

معطر معطر پسینہ ہے اُن کا
مطہر معنبر مدینہ ہے اُن کا
خدا کا کہا بولتے ہیں ہمیشہ
خدا کا یہ قُرآں قرینہ ہے اُن کا

مدینہ ہر عاشق کے دِل میں بستا ہے اور ہر مسلمان کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار حج و عمرہ کی آدائیگی سے بہرہ مند ہو اور اُسے دربارِ رسالتِ مآب ﷺ کے در کی گدائی کا شرف حاصل ہو ۔
اس کیفیت پر آپ لکھتے ہیں !

مرے مصطفٰیﷺ جس بشر کے ہوں دِل میں
ادب سے ملو تم وہیں ہے مدینہ

حب رسول ﷺہر عاشق کے دل میں ہوتا ہے۔آپ کا دل بھی عشقِ رسولﷺ سے لبریز ہے جس کا اظہار ان کی شاعری میں عقیدت بن کر نظر آتا ہے ۔انہوں نے آپﷺ کے خلاقِ حمیدہ ، خصائل وشمائل ، معجزات کے زکر کے ساتھ حسنِ کا تزکرہ بھی بخوبی بیان کیا ہے۔
یہ شعر ملاحظہ فرمائیے!

بہت حسین تھے یوسف ؑمگر یہ سوچو ذرا
ہر ایک حسن تو حسنِ رسولؐ ہوتا نہیں

بلاشبہ رسول ﷺ کا حسن صبیح ہے اور آپ ﷺ ربِ کریم کے بندوں میں سب سے افضل ہیں آپﷺ کی ذاتِ مبارک اعلیٰ و ارفع ہے۔ آپ کی ذات رفیع المرتبت ،عظیم الشان ہے ۔

ان کی نعتیہ شاعری میں عصری حسیاتی شعور کار فرما ہے آپ نے زمانے کے عصری تناظر کو سمجھتے ہوئے حقیقی مسائل کی طرف توجہ دلائی ہے جو کسی بھی شاعرکے نعتیہ کلام میں اہم سنگِ میل کی حثیت رکھتی ہے کیونکہ حب رسول رسولﷺ تب تک صرف زبانی تصور کیا جائے گا جب تک اس میں رسولﷺ کے افکار کی ترویج باعمل طرائق پر نہ ہو ، میرا ذاتی خیال ہے کہ جب تاکہ صاحب کلام کے اعمال و افعال میں تضاد کی کیفیات رہیں گی تب تک اشعار میں اثر افرینی پیدا نہیں ہو سکتی۔
میلاد کا مہنیہ بہت بابرکت مہینہ ہے اس میں ہمارے آقا و مولا سرور کائنات کی ولات باسعاد ہوئی اس لیے اجتماعی اعتبار سے میلاد مصطفٰیﷺ منانا ہمارے عقیدے کا جزو ہے لیکن میلاد کی اصل روح کو سمجھتے ہوئے مقصدِ حیات تک پہنچنا ہر بشر کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہی تعلیماتِ محمد ﷺ ہیں صرف جھنڈیاں لگانے، نعرے لگانے یا لنگر تقسیم کرنے سے ہی حقیقی خوشیاں حاصل نہیں ہوتیں بلکہ اس کے لیے ہمیں اُسوہ رسول ﷺ کے واضع کئے گئے طریقوں پر چل کر آپ ﷺ کی اُمت کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہوں گی تاکہ ہم حقیقی مسرت کے ساتھ اللّٰہ و رسول ﷺ کی خوشنودی کو پاء سکیں ۔اس ضمن میں صاحب کلام نے بہت عمدہ نصیحتیں کی ہیں جو سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں۔
ان کے نصیحت آموز یہ اشعار ملاحظہ کیجئیے !
چلو مدحت سنا دیں ہم کہ ہیں۔میلاد کی خوشیاں
فرشتوں کو دیکھا دیں ہم کہ ہیں میلاد کی خوشیاں
سبھی کافر جہاں والے یا منکر ہوں یہاں والے
انہیں مل کر بتا دیں ہم کہ ہیں میلاد کی خوشیاں
زمیں والو، فلک والو، چمن والو، عدن والو
چلو ہر گھر سجا دین ہم کہ ہیں میلاد کی خوشیاں
جو نقشِ پا کی تصویروں سے پرچم بھی منقش ہوں
“اٹک” بھر میں لگا دیں ہم کہ ہیں میلاد کی خوشیاں
سبیلیں بھی لگا دینا، نیازیں بانٹتے رہنا
یہ بچوں کو سکھا دیں ہم کہ ہیں میلاد کی خوشیاں ۔

میلاد پاک کے حوالے سے ان کے کے کلاام سے مزید یہ اشعار دیکھئیے !

غریبوں کی کریں امداد ہر میلاد پر مل کر
یہی اُسوہ ہے احمد کا عمل کرکے مناتے ہیں
نبی کامل کی اُمت میں کسی مفلس کی بیٹی کو
رقم دے کر کسی میلاد پر شادی کراتے ہیں
چلو میلاد پر ڈھونڈیں کوئی بیمار ایسا بھی
دوائی ہو نہ جس کے پاس تو اُس کو دلاتے ہیں
جو میرے مصطفیٰ کے اُمتی ناراض ہیں باہم
چلو میلاد پر ان کو ابھی راضی کراتے ہیں
اسی میلاد پر ڈھونڈیں جدا ہوتے ہیں جو بیٹے
انہیں ماں باپ سے ممکن اگر ہو تو ملاتے ہیں
گو عقیدت کی رو سے محافل و مجالس کا اہتمام کرنا احسن عمل ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ تعلیمات رسولﷺ پر چلنا نہایت ضروری ہے تاکہ انسانیت کو جو مسائل درپیش ہیں ان کا بھی تدراک ہو سکے۔ دنیاوی و دینی اعتبار سے جتنی بھی محافل سجائی جائیں ان میں سسکتی انسانیت کی فلاح کے لیے بھی کچھ حصہ مختص کرنا چاہیے کیونکہ یہی دین کی اصل اساس ہے۔ ۔
سید حبدار نے ان اشعار کے ذریعے معاصر زمانے کے تناظر میں ہونے والے مسائل کو نہ صرف اجاگر کیا ہے بلکل ان کے تدراک کے لیے وہ کوشاں نظر آتے ہیں ۔
اللّٰہ کرے کے ہمارے سماج میں رسول اللّٰہ ﷺ و اہلِ بیت اطہارؓ سے عقیدت و محبت کے یہ طرائق عمل کی صورت میں اُبھر کر سامنے آئیں ۔
آپ ﷺ سےمحبت کے ساتھ اہلِ بیت اطہارؓ کی محبت ان کے خون میں شامل ہے ۔یہ محبت جن اشعار کے قالب میں ڈھلتی ہے تو اس کا رنگِ ہی جدا ہوتا ہے ۔ حب اہلِ بیتؓ میں ڈوبے ہوئے ان کے یہ چند اشعار ملاحظہ فرمائیے !
نبیؐ کی آل بھی تو ہے نبیؐ کے ہی وجود سے
نبیؐ کی ذات سے کبھی انہیں نہ تم جدا کرو

نواسے کھیلا کرتے تھے وہ جس آنگن میں آقاؐ کے
وہ کوچہ بھی محلہ بھی وہ آنگن آپ کا ارفع

پکڑ کر آپ نے بازو کیا اعلان حیدرؑ کا
امانت سے ولایت سے ہے بندھن آپ کا ارفع
مزید اشعار دیکھئے !
گلے سے لگاتے نبیؐ فاطمہؑ کو
خدا شاد ہوتا بہت آسماں پر

ْعطا کیا ہےجو حسنینؑ کا ہمیں صدقہ
فقیر ہو گیا ہے تاجدار اب کے برس

آلِ رسول ﷺسے محبت جب خواہش بن کر اُبھرتی ہے تو کچھ یوں لکھتے ہیں ۔

نبیؐ کی پشت پر ابنِ علیؑ جس شان سے بیٹھے
وہی منظر مجھے یا رب دکھا دینا حقیقت میں

شہر مدینہ منورہ سے محبت درحقیقت آقا ﷺسے عقیدت کا والہانہ اظہار ہے جو تقریباً اُن کی نعت میں واضع جھلکتا ہے ۔آپ مدینہ شریف کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار ان اشعار کی صورت میں کرتے ہیں !

سبز گنبد کی فضاوں کا سفر مانگتے ہیں
ہم کسی روز مدینے کی سحر مانگتے ہیں

مزید یہ شعر ملاحظہ فرمائیے !

وہاں پر جا کے ملاقات کی تمنا ہے
عجیب تر ہے گدائی ادا مدینے میں

صاحب ِ کلام نے مدینہ منورہ کی پر کیف فضاؤں اور صبح طیبہ کے نسیم و سبک ہواؤں کے دوش پر رنگ بکھیرتی ہوئی آذان کی آواز کے ساتھ پُرنم و دل گداز کیفیات کو جس انداز میں انہوں نے محبت و عقیدت سے اس نعتیہ مجموعے میں سمونے کی جو سعی کی ہے اللّٰہ اس سعی کو ان کے لیےحاصلِ مقصود بنائے اور ان کی اس خواہش کو اللّٰہ رب العزت اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے !

میرے لہجے سے نعت یوں چھلکے
گُنبدِ سبز جا کے چُھو آئے
حُسنِ مدحت مجھے ملے ایسا
حُسنِ حسان ہو بہو آئے
اُمید ہے ان کے آنے والے نعتیہ مجموعے اپنے فن کے اعتبار سے”مدح شاہ زمن” سے بھی بہتر ثابت ہوں گے ۔
دُعا ہے ربِ کریم سے کہ وہ اپنی ذات بابرکت و صفات سے ان کی سعادت مندی اور توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
آمین ثم آمین ۔

شمائلہ منیب شمائل : فیصل آباد : پاکستان

شُمائلہ مُنیب شُمائل

Next Post

فرمان مصطفیٰؐ کی تکمیل کربلا ہے

جمعرات جولائی 7 , 2022
حضور پاکﷺ سے عشق اور اہل بیت علیہم علیہ السلام سے محبت ہمارا جز و ایمان ہے
فرمان مصطفیٰؐ کی تکمیل کربلا ہے