مولانا ابوالکلام آزاد ایک مختلف الجہات شخصیت

مولانا ابوالکلام آزاد ایک نابغہء روزگار ہستی تھے۔ ان کی علمی اور سیاسی بصیرت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ بیک وقت ایک مصلح قوم،مخلص داعی، مجتہد، ایک زبردست انشا پرداز، ایک شاندار صحافی اور صاحب تدبر سیاسی رہنما تھے جنھوں اپنی قوم کے لوگوں کو قنوطیت اور مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر خوداعتمادی کی روشنی میں لانے کی کوشش کی۔ سیاسی رہنما کے طور پر انھوں نے انڈین نیشنل کانگریس کے اسٹیج سے عوام الناس بالخصوص مسلمانوں کے اندر  ملک کی آ زادی  کے لئے برٹش حکومت سے سینہ سپر ہونے کا جذبہ بیدار کیا۔                                                                          مولانا آ زاد نے اپنے معركة  آلارا رسالوں ‘الہلال’ اور ‘البلاغ’ کی تحریروں سے مسلمانوں کو خواب غفلت سے نکال کر عملی میدان میں سرگرم ہونے کے لئے ترغیب دی۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان دوسروں پر منحصر ہونے کے بجائے خود پر بھروسہ کریں۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان آ زادی کی لڑائ میں کسی کے کہنے سے نہیں بلکہ اسکو ایک ملی فریضہ سمجھ کر حصہ لیں چناچہ وہ کہتے ہیں                                                                                                                                     ’’ 1912ء سے میری دعوت مسلمانوں کے لئے یہی رہی ہے کہ جہاں تک ملک کی سیاسی جد وجہد کا تعلق ہے ، انہیں بلا کسی شرط کے شریک ہو نا چاہئے ، اور یہ کہہ کر شریک ہونا چاہئے کہ وہ محض ادائے فرض کے لئے شریک ہو رہے ہیں ، اس لئے شریک نہیں ہو رہے ہیں کہ ہندوئوں نے انہیں ان کے مستقبل کی طرف سے مطمئن کر دیا ہے ، مستقبل کے لئے ان کا تمام تر اعتماد اپنی ہمت اور خود اعتمادی پر ہونا چاہئے ، جب تک ان میں یہ احساس باقی رہے گا کہ ان کے حقوق ہیں اور وہ ضائع نہیں ہونے چاہئیں، دنیا کی کوئی طاقت نہیں کہ ضائع کر سکے۔‘‘                                                                              مولانا مسلمانوں کو اپنی ماضی کو یاد رکھنے اور اس سے سبق حاصل کرنے کے لئے کہتے ہیں۔ وہ انھیں اپنے عروج و زوال کے بارے میں غور و فکر کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو یاد دلاتے ہیں کہ انکی بقا اور عروج کا راز صرف اور صرف نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی اتباع میں نہاں ہے۔ جامع مسجد دہلی میں مسلمانانِ ہند سے اپنے تاریخی خطاب میں کہتے ہیں             ’’آج زلزلوں سے ڈرتے ہو۔کبھی تم خود ایک زلزلہ تھے۔ آج اندھیرے سے کانپتے ہو۔ کیا یاد نہیں رہا کہ تمہارا وجود ایک اُجالا تھا۔ یہ بادلوں کے پانی کی سیل کیا ہے کہ تم نے بھیگ جانے کے خدشے سے اپنے پائینچے چڑھا لئے ہیں۔ وہ تمہارے ہی اسلاف تھے جو سمندروں میں اُتر گئے۔ پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا۔ بجلیاں آئیں تو اُن پر مسکرائے۔ بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا۔ صرصر اُٹھی تو رُخ پھیر دیا۔ آندھیاں آئیں تو اُن سے کہا۔ تمہارا راستہ یہ نہیں ہے۔ یہ ایمان کی جانکنی ہے کہ شہنشاہوں کے گریبانوں سے کھیلنے والے آج خود اپنے ہی گریبان کے تار بیچ رہے ہیں اور خدا سے اِس درجہ غافل ہو گئے ہیں کہ جیسے اُس پر کبھی ایمان ہی نہیں تھا۔‘‘

Abul_Kalam_Azad
مولانا ابوالکلام آزاد – تصویر بشکریہ ویکیپیڈیا انگریزی

’’عزیزو ! میرے پاس تمہارے لئے کوئی نیا نسخہ نہیں ہے۔ چودہ سو برس پہلے کا نسخہ ہے۔وہ نسخہ جس کو کائناتِ انسانی کا سب سے بڑا محسن لایا تھا۔ وہی نسخہ تمہاری حیات کا ضامن اور تمہارے وجود کا رکھوالا ہے۔ اُسی کا اتباع تمہاری کامرانی کی دلیل ہے۔‘‘

مولانا آ زاد اپنے وقت کے مجتہد اور داعی تھے۔جسکا ثبوت قرآن کریم کی انکی تفسیر ‘ترجمان القرآن’ ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ قرآن فہمی میں گزارا تھا جسکی وجہ سے قرآنی مضامین پر انکی گہری نظر تھی۔ ایک جگہ وہ کہتے ہیں                                ’’میں نے قریب قریب تیئیس سال قرآن کو اپنا موضوعِ فکر بنایا۔ میں نے ہر پارے، ہر سورۃ اور ہر آیت اور ہر لفظ کو گہرے فکر و نظر سے دیکھا۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ قرآن کی موجودہ تفاسیر مطبوعہ یا غیر مطبوعہ کا بہت بڑا حصہ میری نظر سے گزرا ہے، میں نے فلسفۂ قرآن کے سلسلے میں ہر مسئلے کی تحقیق کی ہے۔“

ڈاکٹر ذاکر حسین کہتے ہیں: ’’مولانا روح تفسیر کے محرم ہیں اور کلام الہی کے مطالب کو اس حکیمانہ انداز میں سمجھاتے ہیں جن سے نئے زمانے کے تنقیدی ذہن کو بھی تسکین ہو جاتی ہے۔“

مولانا نے ‘الہلال’ اور’البلاغ’ کے ذریعے اردو صحافت کو معراج کمال تک پہنچا دیا۔ انکی تحریروں کی سحر انگیزی قاری پر ایک وجدانی کیفیت طاری کر دیتی تھی۔ مولانا آ زاد کے اس اسلوب نگارش کی تعریف کرتے ہوئے مولانا عبد الماجد دریابادی کہتے ہیں’’خدا جانے کتنے نئے اور بھاری بھرکم لغات اور نئی ترکیب اور نئی تشبیہیں اور نئے اسلوب ہر ہفتے اسی ادبی اور علمی ٹکسال سے ڈھل ڈھل کر باہر نکلنے لگے اور جاذبیت کا یہ عالم تھا کہ نکلتے ہی سکہ رائج الوقت بن گئے۔ حالی وشبلی کی سلاست، سادگی سر پیٹتی رہی اور اکبر الہ آبادی اور عبدالحق سب ہائے ہائے کرتے رہ گئے۔‘‘                                                       مولانا کے گوناگوں کمالات کی فہرست بہت لمبی ہے۔ اسکا اس مختصر سے مضمون میں احاطہ کر پانا ممکن نہیں ہے لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ مولانا کی عبقریت، ان کا علم، انکی افتاد طبع کسی خارجی تحریک کا حصہ نہیں بلکہ انکی داخلی کیفیت ایمانی اور انکے جذبہء اندروں کا کمال ہے۔ انکی سیاسی بصیرت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ وہ اپنے ہم عصر رہنماؤں گاندھی اور نہرو سے متاثر ضرور تھے لیکن ان سب سے الگ انکی ایک دنیا تھی جسمیں زندہ دلی، خوداعتمادی، اور  شعور و فہم کی روشنی بکھری ہوئی تھی وہ کسی بھی قسم کی تاریکی کو اپنے قریب پھٹکنے نہیں دینا چاہتے تھے۔ وہ اپنے وقت سے بہت آ گے تھے اور انھیں اس بات کا احساس بھی تھا۔ اسی لئے وہ اکثر کہا کرتے تھے “میں عندلیب گلشن نا آ فریدہ ہوں”۔ انھوں علم و فن کی جو قندیل جلائ تھی اس کی روشنی سے آ ج بھی تشنگان علم فیض حاصل کر رہے ہیں۔

Akmal Nazeer

محمد اکمل نذیر

قاضی پورہ(جنوبی)

بہرائچ

اکمل نذیر

Next Post

بہاول پور (چو لستا ن ) کے قلعے

جمعہ نومبر 19 , 2021
پنجاب کے فن ِتعمیر کے مطالعہ سے پہلے بہتر ہو گا کہ ہم اس خطے کی سماجی ، مذہبی ، معاشی تاریخ کی تبدیلیوں پر ایک نظر ڈال لیں ۔ پنجاب میں ایک بھی ایسا علاقہ نہیں
Forts of Cholistann