آزاد کشمیر کا ادبی اثاثہ
کسی بھی معاشرے کی فکری اور تہذیبی شناخت اس کے اہلِ قلم اور اہلِ علم سے تشکیل پاتی ہے۔ یہ وہ شخصیات ہوتی ہیں جو خاموشی سے نسلوں کی تربیت کرتی ہیں،زبان کو وقار بخشتی ہیں اور ادب کو محض تفریح نہیں بلکہ شعور اور ذمہ داری کا عمل بناتی ہیں۔ استاذاور شاگرد کا رشتہ بھی اسی تہذیبی تسلسل کی ایک مضبوط کڑی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ محض تعلیمی تعلق نہیں رہتا بلکہ اخلاقی اور روحانی نسبت میں ڈھل جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کی ادبی روایت میں ایسی ہی نسبتوں نے ادب کو دوام اور گہرائی عطا کی ہے۔
پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے علم و ادب کو پوری دیانت اور وقار کے ساتھ برتا۔ آزاد کشمیر کے شعری ادب میں ان کا مقام نمایاں اور مسلم ہے۔ ان کا تخلیقی اسلوب سادگی، معنویت اور داخلی کرب کا حسین امتزاج ہے۔ ان کا شعری مجموعہ "کہے بغیر” محض اشعار کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک حساس ذہن کی فکری واردات ہے جہاں خاموشیوں میں بھی معنی بولتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اردو کی تدریس کے میدان میں ان کی خدمات نہایت اہم اور دیرپا ہیں۔ انھوں نے درس و تدریس کو رسمی فریضہ نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ مشن کے طور پر انجام دیا۔
میری ذاتی زندگی میں پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب کا کردار ایک استاذ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں انھیں اپنا محسن اور مربی مانتا ہوں۔ میں نے ان سے نصابی اسباق نہیں سیکھے مگر ادب سے محبت، لفظ کی حرمت، تحقیق کی دیانت اور شاگرد نوازی کا سلیقہ سیکھا۔ ایک اچھا استاذوہی ہوتا ہے جو شاگرد کے اندر چھپی صلاحیت کو پہچان لے اور اسے اعتماد عطا کرے پروفیسر صاحب اس وصف کا عملی نمونہ ہیں۔
مجھے آج بھی یکم اکتوبر 2019ء کا وہ دن پوری شدت سے یاد ہے جب پبلک سروس کمیشن میں لیکچرر منتخب ہونے پر سب سے پہلے پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب اپنی اہلیہ کے ہم راہ مٹھائی اور ایک خوب صورت تحفہ لے کر میرے غریب خانےپر تشریف لائے۔ اس موقعےپر ان کے کہے ہوئے الفاظ میرے لیے ہمیشہ کا سرمایہ بن گئے:
"مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ آج میں نے ایک مرتبہ پھر پی ایس سی کا امتحان پاس کر لیا ہے۔”
یہ جملہ دراصل ایک استاذ اور دوست کی اس بے لوث خوشی کا اظہار تھا جو دوستوں کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتا ہے۔
ایسی ہی شخصیات کسی خطے کا اصل سرمایہ ہوتی ہیں۔ آزاد کشمیر کی ادبی شناخت، اس کی فکری روایت اور اس کی علمی آبرو ایسے ہی اساتذہ اور اہلِ قلم کے دم سے قائم ہے۔ پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب کی علمی، تدریسی اور تخلیقی خدمات اس حقیقت کی روشن دلیل ہیں کہ سنجیدہ ادب آج بھی زندہ ہے اور اثر رکھتا ہے۔
آج مجھے یہ دیکھ کر بے حد خوشی اور سرشاری ہوئی کہ پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب کا ایم فل کی سندی تحقیق کے لیے تحریر کردہ مقالہ ایک معتبر اور بڑے ادارے مجلسِ ترقیٔ ادب کے زیرِ اہتمام شائع ہو چکا ہے۔ جس وقت یہ مقالہ علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی میں جمع کروایا گیا تھااسی وقت اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ موضوع اور معیار دونوں حوالوں سے ایک غیر معمولی اور جان دار علمی کام ہے۔ اس کتاب کی اشاعت نہ صرف پروفیسر صاحب کے علمی مقام کا اعتراف ہے بلکہ اردو کے ادبی اثاثے میں ایک قیمتی اضافہ بھی ہے۔
اللہ کریم میرے اس محسن کو سلامت رکھے، ان کے علم و قلم کو دوام عطا فرمائے اور وہ اسی طرح ادب کی بے لوث خدمت کرتے رہیں۔ ہم جیسے شاگردوں کے لیے یہ موقع محض مبارک باد کا نہیں بلکہ فخر، شکر اور عقیدت کا لمحہ ہے۔

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |