786
از لیّہ
18/12/2021
محترم جناب مقبول ذکی مقبول صاحب
آداب ۔ ٫٫ منتہائے فکر ،، کو دیکھ کر دِل خوش ہوا ، بیشک آپ مبارک کے مستحق ہیں
اس عظیم کاوش پر مخصفانہ شعر تو ایک کہنہ مشق دانش ور ، ادیب کا کام ہے ، بندہ ناچیز اپنے
چند جملوں کیساتھ حاضر خدمت ہے ، آپ کا عشق آل محمّد ( صہ) اس امر کا عکاس ہے کہ آپ کسی بھی موضوع کو کسی بھی
بحر میں لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، جہاں کتاب میں غیر منقوط کلام اپنے منفرد انداز میں مذیّن ہے
وہاں چھوٹی سی چھوٹی بحر سے لیکر بڑی بحر تک فن کو آشکار کر رہی ہیں پھر اس میں عموماً جو
قافیہ ردیف مستعمل ہوتے ہیں آپ نے ان سے ہٹ کر نئے نئے قافیے لگا کر اپنے فن کی گہرائی میں وسعت پیدا کی ہے ، مجموعی طور پر مضامین کا تسلسل
اشعار کی روانی ، الفاظ کی جڑت قاری کو اپنے حصّار میں لے آتی ہے یہی اسلوب
ایک پختہ قلم کار کا زیب زین ہے ۔ کتاب میں سینکڑوں اشعار ایسے ہیں جن کو بار بار
پڑھنے کو دل چاہتا ہے چند اشعار مثلاً جناب عباس ( ع ) کے بازو کٹنے پر یہ شعر
بازو کٹے جو نہر پہ حیدر(ع) کے لعل (ع)کے
خیموں سے اک صدا اٹھی ہائے میری ردا
آذان تیری ، نماز تیری حدیث لہجہ رسول(صہ) جیسا
قسم خُدا کی رسول (صہ) حق کی طرح ہو کتنے حسِین مولا (ع)
کہہ رہا ہے قوم سے یہ آپ کا خطبہ حسین (ع)
فاسق و فاجر کے آگے کون جھکتا ہے بھلا
اللّٰہ دے زور قلم اور زیادہ
والسّلام ۔۔۔۔۔۔ خاکسار ۔۔۔۔۔ سید قنبر نقوی
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔