خوشبو کی شہادت
کلام: احمد وحید اختر مرحوم
تبصرہ نگار: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
نظم
میں ظلم کی کھیتی کو ہرا دیکھ رہا ہوں
اے قادر مطلق میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں
جو ظلم سے تھا سینہ سپر اوروں کی خاطر
اس شخص کو دشمن میں گھرا دیکھ رہا ہوں
اے لوگوں وہ عزت کی علامت ہے تمہاری
کیا ہو گیا تم کو میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں
محسن تھا وہ وہ کس کس کا میں کیا نام گناؤں
کیا اس کو دیا ہم نے صلہ دیکھ رہا ہوں
اسلام کے داعی ہو تو سکھ چین نہ چھینو
کہرام سا گھر گھر میں بپا دیکھ رہا ہوں
ہر دور کی تاریخ انہیں سے ہے عبارت
منصور کی میں آج انا دیکھ رہا ہوں..۔۔
احمد وحید اختر مرحوم کا شمار ان اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے ادب، قانون اور سیاست کے میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ ان کا تعلق تاریخی شہر کیمبل پور، موجودہ اٹک، سے تھا۔ وہ قانون دان ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر اور سیاسی شخصیت بھی تھے اور پاکستان کے ایوانِ بالا کے ابتدائی ارکان میں شامل رہے۔ سیاسی جدوجہد کے دوران انہیں قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ ان کے ذاتی تجربات، سیاسی مشاہدات اور اپنے عہد کے حالات نے ان کی فکر اور شاعری پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی قید اور شہادت احمد وحید اختر کے لیے ایک گہرا صدمہ تھی۔ انہوں نے اس واقعے کو محض سیاست کے ایک باب کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ اس میں انسانی وفاداری، قربانی، انصاف اور معاشرتی رویوں سے متعلق کئی سوالات محسوس کیے۔ اسی کیفیت کے زیرِ اثر انہوں نے بھٹو کی قید اور شہادت کے حوالے سے متعدد نظمیں لکھیں۔ زیرِ نظر نظم بھی انہی تخلیقات میں شامل ہے، جو مرتب کردہ کتاب ’’خوشبو کی شہادت‘‘ میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں احمد وحید اختر کے علاوہ دیگر شعرا کا کلام بھی شامل ہے۔ یوں یہ مجموعہ ایک اہم سیاسی و تاریخی واقعے کے بارے میں مختلف شعری احساسات اور ردِعمل کو محفوظ کرنے کی ادبی کوشش ہے۔
زیرِ نظر نظم کا آغاز ہی ایک گہرے دکھ اور حیرت سے ہوتا ہے:
’’میں ظلم کی کھیتی کو ہرا دیکھ رہا ہوں
اے قادر مطلق میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں‘‘
یہاں ظلم کی کھیتی کا استعارہ نہایت معنی خیز ہے۔ کھیتی عموماً محنت، نشوونما اور فصل کی علامت ہوتی ہے، لیکن شاعر ظلم کو ایک ایسی فصل کے طور پر دیکھ رہا ہے جو مسلسل پروان چڑھ رہی ہے۔ اس منظر پر اس کی حیرت اور بے چینی فطری ہے۔ وہ اپنے گردوپیش میں ایسے حالات دیکھتا ہے جہاں انصاف کے بجائے ناانصافی کو تقویت مل رہی ہے۔ چنانچہ وہ براہِ راست قادرِ مطلق سے سوال کرتا ہے۔ یہ سوال محض شکوہ نہیں بلکہ ایک ایسے دل کی آواز ہے جو اپنے عہد کے حالات سے پریشان اور انصاف کا طلب گار ہے۔
دوسرے شعر میں شاعر اس شخص کا ذکر کرتا ہے جو دوسروں کی خاطر ظلم کے سامنے ڈٹ کر کھڑا رہا، مگر بالآخر خود دشمنوں میں گھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس شعر میں قربانی اور انجام کے درمیان ایک دردناک تضاد موجود ہے۔ شاعر کے نزدیک اصل المیہ صرف کسی سیاسی رہنما کی گرفتاری یا موت نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ دوسروں کے لیے جدوجہد کرنے والے شخص کو تنہائی، مخالفت اور بے وفائی کا سامنا کرنا پڑے۔ اس کیفیت میں شاعر کا ذاتی دکھ بھی شامل ہے اور معاشرے کے اجتماعی رویے پر احتجاج بھی۔
یہاں بھٹو کی شخصیت شاعر کے احساسات کا مرکز ضرور ہے، لیکن نظم کا مفہوم ایک فرد یا ایک سیاسی واقعے تک محدود نہیں رہتا۔ یہ ان تمام لوگوں کی یاد دلاتی ہے جو اپنے نظریات، اصولوں یا دوسروں کے حقوق کے لیے مشکلات برداشت کرتے ہیں۔ ایسے افراد کی قدر ان کی زندگی میں بھی ہونی چاہیے اور ان کے بعد بھی ان کی خدمات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ شاعر اسی احساس کو اپنے مخصوص انداز میں بیان کرتا ہے۔
تیسرے شعر میں شاعر لوگوں کو مخاطب کرکے سوال کرتا ہے کہ وہ شخص، جو ان کی عزت کی علامت تھا، اس کے ساتھ ایسا سلوک کیوں ہوا؟ اس خطاب میں افسوس بھی ہے اور اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش بھی۔ شاعر اپنے لوگوں سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنے محسنوں کو پہچانیں، ان کی قربانیوں کو یاد رکھیں اور مشکل وقت میں ان کا ساتھ دینے کی اخلاقی ذمہ داری محسوس کریں۔ جب معاشرے اپنے محسنوں کو بھلا دیتے ہیں تو صرف ایک فرد کی ناقدری نہیں ہوتی، بلکہ اجتماعی اقدار بھی کمزور پڑنے لگتی ہیں۔
چوتھے شعر میں احسان شناسی کا سوال مزید نمایاں ہو جاتا ہے:
’’محسن تھا وہ وہ کس کس کا میں کیا نام گناؤں
کیا اس کو دیا ہم نے صلہ دیکھ رہا ہوں‘‘
یہاں شاعر کا لہجہ شکوے سے بھرپور ہے۔ وہ ان خدمات کو یاد کرتا ہے جو اس کے خیال میں بھٹو نے مختلف لوگوں اور طبقوں کے لیے انجام دیں۔ اس کے نزدیک سوال یہ نہیں کہ کسی شخصیت کے سیاسی فیصلوں پر اختلاف کیا جا سکتا ہے یا نہیں، بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود انصاف، انسانی احترام اور احسان شناسی کے تقاضوں کو کیسے پورا کیا جائے۔ نظم قاری کو اس پہلو پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ کیا ہم اپنے محسنوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں یا وقت گزرنے کے ساتھ انہیں فراموش کر دیتے ہیں؟
نظم کا پانچواں شعر مذہب اور انسانی کردار کے تعلق کو موضوع بناتا ہے:
’’اسلام کے داعی ہو تو سکھ چین نہ چھینو
کہرام سا گھر گھر میں بپا دیکھ رہا ہوں‘‘
یہ شعر نظم کے اخلاقی پیغام کو واضح کرتا ہے۔ شاعر مذہبی دعووں کو انسانی عمل کے پیمانے پر پرکھتا ہے۔ اس کے نزدیک دین کی اصل روح امن، انصاف، ہمدردی اور دوسروں کے حقوق کے احترام میں ہے۔ اگر کسی کے عمل سے لوگوں کی زندگیوں میں دکھ، خوف اور بے چینی پیدا ہو تو اس کے دعووں پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ شاعر کا خطاب کسی ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے ہے جو مذہب کا نام تو لیتے ہیں مگر اپنے طرزِ عمل میں اس کی بنیادی تعلیمات کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
گھر گھر کہرام کا منظر اجتماعی دکھ کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اس میں ان خاندانوں کی بے چینی بھی محسوس ہوتی ہے جو سیاسی کشمکش اور ناانصافی کے اثرات سے متاثر ہوتے ہیں۔ شاعر اس کیفیت کے ذریعے یاد دلاتا ہے کہ سیاست اور اقتدار کی کشمکش کا اصل بوجھ اکثر عام لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اس لیے کسی بھی معاشرے کی کامیابی کا پیمانہ صرف سیاسی قوت نہیں بلکہ وہاں کے انسانوں کا امن، عزت اور تحفظ بھی ہونا چاہیے۔
آخری شعر میں منصور کا حوالہ نظم کو تاریخی اور علامتی وسعت عطا کرتا ہے:
’’ہر دور کی تاریخ انہیں سے ہے عبارت
منصور کی میں آج انا دیکھ رہا ہوں‘‘
منصور سے مراد عموماً حسین بن منصور حلاج لیے جاتے ہیں، جن کا نام فکری استقامت اور اپنے عہد کے ساتھ کشمکش کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ شاعر اس تاریخی حوالے کے ذریعے بھٹو کے انجام کو ایک وسیع تناظر میں دیکھتا ہے۔ اس تقابل کا مقصد دونوں شخصیات کے حالات کو یکساں قرار دینا نہیں، بلکہ یہ دکھانا ہے کہ تاریخ میں بعض شخصیات اپنے عہد کے بڑے سوالات، اختلافات اور قربانیوں کی علامت بن جاتی ہیں۔ ان کے واقعات وقت گزرنے کے بعد بھی نئی نسلوں کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔
فنی اعتبار سے نظم کی سب سے نمایاں خوبی اس کی سادگی اور براہِ راست اندازِ بیان ہے۔ شاعر نے مشکل الفاظ اور پیچیدہ تراکیب کے بجائے عام فہم زبان استعمال کی ہے۔ یہی سادگی نظم کے جذبات کو قاری تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے۔ ’’دیکھ رہا ہوں‘‘ کی تکرار نظم میں ایک خاص آہنگ پیدا کرتی ہے۔ یہ الفاظ ہر شعر میں شاعر کے مشاہدے، دکھ اور احتجاج کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ سوالیہ انداز بھی نظم کی تاثیر میں اضافہ کرتا ہے، کیونکہ شاعر صرف واقعات بیان نہیں کرتا بلکہ قاری کو بھی ان پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
نظم میں دکھ، حیرت، شکوہ اور احتجاج ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ کہیں شاعر ظلم کے بڑھنے پر حیران ہے، کہیں محسنوں کی ناقدری پر رنجیدہ اور کہیں مذہبی و اخلاقی دعووں کے تضاد پر سوال اٹھاتا ہے۔ ان مختلف کیفیات کے باوجود نظم کا مرکزی خیال واضح رہتا ہے: انصاف، وفاداری، احسان شناسی اور انسانی وقار کی اہمیت۔
مجموعی طور پر ’’خوشبو کی شہادت‘‘ میں شامل یہ نظم احمد وحید اختر مرحوم کے سیاسی شعور، انسانی ہمدردی اور احتجاجی فکر کی نمائندگی کرتی ہے۔ شاعر نے ذوالفقار علی بھٹو کی قید اور شہادت سے وابستہ اپنے دکھ کو ایسے سوالات میں ڈھالا ہے جو کسی ایک دور تک محدود نہیں رہتے۔ نظم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ معاشروں کی اخلاقی بنیاد انصاف، اپنے محسنوں کی قدر اور انسانوں کے دکھ کو سمجھنے سے مضبوط ہوتی ہے۔ سادہ زبان، مؤثر استعاروں اور درد مندانہ لہجے کے باعث یہ تخلیق تاریخی واقعے کی یاد کے ساتھ ساتھ اجتماعی ضمیر سے مکالمہ بھی کرتی ہے۔ یہی اس نظم کی ادبی اہمیت اور اس کا بنیادی پیغام ہے۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔