راجہ زاہد حسین! عہدہ رخصت ہوا، محبتوں کا راج باقی ہے
کالم نگار: سید حبدار قائم
زندگی کے وسیع و عریض منظرنامے میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی پہچان ان کے عہدے، اختیار یا منصب سے نہیں، بلکہ ان کے کردار کی خوشبو، خلوص کی روشنی اور محبتوں کی مہک سے ہوتی ہے۔ ایسے لوگ جہاں بیٹھتے ہیں، محفل کو رونق بخشتے ہیں، جہاں قدم رکھتے ہیں، اپنائیت کے پھول کھل اٹھتے ہیں، اور جہاں سے رخصت ہوتے ہیں، وہاں یادوں کے چراغ دیر تک روشن رہتے ہیں۔ راجہ زاہد حسین، سپرنٹنڈنٹ بلدیہ اٹک، کا شمار بھی ایسی ہی محبت بھری شخصیات میں ہوتا ہے۔
سرکاری ملازمت ایک ذمہ داری ہے، ایک منصب ہے اور ایک مقررہ مدت کا سفر ہے، مگر انسان کا کردار اس مدت کا پابند نہیں ہوتا۔ ملازمت کی مدت ختم ہو جاتی ہے، اختیارات کی حدود بدل جاتی ہیں اور دفتر کی کرسی کسی دوسرے شخص کی منتظر ہو جاتی ہے، لیکن خلوص، خوش اخلاقی اور خدمتِ خلق کی بدولت دلوں میں قائم ہونے والا مقام کبھی خالی نہیں ہوتا۔ راجہ زاہد حسین کی زندگی کا یہ پہلو قابلِ تحسین ہے کہ انہوں نے اپنے منصب کو محض سرکاری ذمہ داری نہیں سمجھا، بلکہ اسے انسانوں سے تعلق استوار کرنے اور ان کے مسائل میں آسانی پیدا کرنے کا وسیلہ بنایا۔
ان کی شخصیت کا سب سے دل نشیں وصف خوش خلقی ہے۔ دنیا میں ہر شخص نرم لہجے اور میٹھے الفاظ کا قائل نہیں ہوتا۔ بعض اوقات کرخت لہجے، تلخ جملے اور ناگوار رویے انسان کے صبر کا امتحان لیتے ہیں، مگر اصل تربیت کا پتا ایسے ہی مواقع پر چلتا ہے۔ راجہ صاحب نے ہمیشہ تلخی کے مقابلے میں شائستگی، سختی کے جواب میں مسکراہٹ اور ناگواری کے ماحول میں تحمل کا مظاہرہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت محض سرکاری حلقوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ دوستوں، شہریوں، اہلِ قلم اور سماجی کارکنوں کے دلوں تک رسائی حاصل کرتی رہی۔
راجہ زاہد حسین کی ذات کا ایک خوب صورت حوالہ ان کی ادب پروری ہے۔ وہ ادبی محفلوں کی اہمیت سے آگاہ ہیں، اہلِ قلم کا احترام کرتے ہیں اور اچھے شعر پر دل کھول کر داد دیتے ہیں۔ شعر کی قدر شناسی ہر شخص کے حصے میں نہیں آتی اس کے لیے ذوقِ سخن، احساس کی لطافت اور فن سے محبت درکار ہوتی ہے۔ کسی شاعر کے اچھے شعر پر تحسین کے دو بول کہنا دراصل اس کی تخلیقی کاوش کو تسلیم کرنا ہے۔ راجہ صاحب اس معاملے میں فراخ دل ہیں۔ ان کی داد شاعر کے لیے حوصلہ، ادیب کے لیے خوشی اور ادبی محفل کے لیے ایک خوش گوار سرمایہ ہوتی ہے۔
وہ بہترین کمپیئر اور اچھے منتظم بھی ہیں۔ محفل کو ترتیب دینا، تقریب کو وقار بخشنا، حاضرین کو اپنے اندازِ بیان سے متوجہ رکھنا اور انتظامی معاملات کو خوش اسلوبی سے آگے بڑھانا ایسی صلاحیتیں ہیں جو تجربے کے ساتھ ساتھ طبیعت کی موزونیت بھی چاہتی ہیں۔ راجہ صاحب کی شخصیت میں یہ اوصاف یکجا دکھائی دیتے ہیں۔ قومی تہواروں میں شرکت، ادبی و سماجی سرگرمیوں کی سرپرستی، بلدیاتی ملازمین کے حقوق کی پاسداری اور اقلیتوں کے احترام جیسے رویے ان کی وسعتِ قلبی اور انسانی ہمدردی کی عکاسی کرتے ہیں۔
ان کی مہمان نوازی کا انداز بھی اپنی مثال آپ ہے۔ مہمان آئے تو چائے کا اہتمام، گفتگو میں اپنائیت اور ملاقات میں خندہ پیشانی؛ بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں، مگر زندگی کے بڑے تعلقات انہی چھوٹی خوشیوں سے پروان چڑھتے ہیں۔ محبت ہمیشہ بڑے دعووں کی محتاج نہیں ہوتی۔ کبھی ایک کپ چائے، ایک مسکراہٹ اور خلوص سے پوچھا گیا حال برسوں کی دوری کو قربت میں بدل دیتا ہے۔
کسی انسان کے کردار کی سب سے بڑی گواہی اس کے معاملات اور لوگوں کے ساتھ اس کا برتاؤ دیتے ہیں۔ راجہ زاہد حسین کے بارے میں یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ ان کی شخصیت پر آج تک کسی نے انگلی نہیں اٹھائی۔ معاشرتی زندگی میں یہ ایک قابلِ قدر اعزاز ہے، کیونکہ عہدہ انسان کو اختیار تو دیتا ہے، مگر عزت اسے اپنے کردار سے حاصل کرنا پڑتی ہے۔
آج راجہ زاہد حسین بلدیہ اٹک میں اڑتیس سال کی سرکاری ذمہ داریوں سے سبک دوش ہو رہے ہیں۔ یہ ملازمت کے ایک باب کا اختتام ضرور ہے، مگر محبتوں کی داستان کا اختتام نہیں۔ ان کے ہم نشین، دوست، اہلِ قلم اور شہری ان کی خوش اخلاقی، بے لوث تعلقات اور خدمت کے جذبے کو یاد رکھیں گے۔ سرکاری دفتر کی مصروفیات پیچھے رہ جائیں گی، مگر محبت سے ملنے کا انداز، مہمان نوازی کی روایت اور اچھے شعر پر داد دینے والی طبیعت ان کی پہچان بنی رہے گی۔
میرا یقین ہے کہ زندگی کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان کتنے برس کسی عہدے پر فائز رہا، بلکہ یہ ہے کہ اس کے جانے کے بعد کتنے دل اسے محبت سے یاد کرتے ہیں۔ راجہ زاہد حسین خوش نصیب ہیں کہ ان کے پاس تعلقات کا وہ سرمایہ ہے جسے نہ وقت کی گردش چھین سکتی ہے، نہ عہدے کی تبدیلی مٹا سکتی ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں حیاتِ خضر علیہ السلام، صحتِ کاملہ و عاجلہ، قلبی سکون، خوشیوں بھری زندگی اور اہل و عیال کے ساتھ عافیت عطا فرمائے۔ ان کی مسکراہٹ ہمیشہ قائم رہے، ان کی محفلیں آباد رہیں اور ان کے حصے میں محبتوں کی ایسی بہاریں آئیں جو کبھی خزاں آشنا نہ ہوں۔
راجہ زاہد حسین صاحب! آپ ملازمت سے ریٹائر ہوئے ہیں، محبتوں سے نہیں؛ آپ کی کرسی کسی اور کو مل سکتی ہے، مگر دلوں میں قائم آپ کا مقام کوئی نہیں لے سکتا۔ یہی کردار کی اصل فتح اور محبت کی حقیقی بادشاہی ہے۔
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔