ایران پر اسرائیلی حملے
اسرائیل نے ایران پر تین فضائی حملے کیئے ہیں۔اس وقت تہران میں اسرائیلی فضائی حملوں کی دوسری لہر جاری ہے جبکہ ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر کے دفتر کے قریب دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تہران میں موجود نہیں اور انہیں ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس وقت بھی تہران میں اسرائیلی فضائی حملوں کی دوسری لہر جاری ہے اور ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر کے دفتر کے قریب بمباری ہو رہی ہے۔ ایران پر یہ اسرائیلی حملہ ایران کو جوابی حملہ کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ اس حملے سے قبل امریکی سفارت خانے کے عملے کو اسرائیل سے فوری انخلاء کا حکم دیا گیا تھا، جبکہ اسرائیل نے ایران کے جوابی حملے کے پیش نظر سکول بند کر دیئے ہیں، اجتماعات پر پابندی لگا دی ہے اور عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ اب کسی بھی وقت امریکہ بھی اس جنگ میں کود پڑے گا۔
عراق کی جانب سے بھی اسرائیل نے ایران پر میزائیل داغے ہیں۔ ایران پر اسرائیل کا حملہ ہوا ہےتو اب ظاہر ہے کہ ایران کا پہلا ٹارگٹ اسرائیل ہی ہو گا۔ ایران کے بیلسٹک میزائل کافی خطرناک ہیں۔ ان ایرانی میزائلوں کے بارے اسرائیلی میڈیا بھی کافی بدگمانیاں پھیلاتا رہا ہے۔ اسرائیل کا خیال رہا ہے کہ گنتی کے صرف چند ایرانی بیلسٹک میزایل ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے ایٹم بموں کے برابر آرسینل برسا سکتے ہیں۔ اگر یہ بات سچ ہے تو امریکہ بھی بہت جلد اس جنگ میں شامل ہونے جا رہا ہے۔ امریکہ کا لاو’لشکر پہلے ہی خلیج فارس میں موجود ہے۔ جب امریکہ اور اسرائیل مل کر ایران پر حملہ کریں گے، تو حملہ کافی بھرپور ہو گا تاکہ اسرائیل پر ایران کو خطرناک جوابی حملہ کرنے کا موقعہ نہ مل سکے۔
اسرائیلی وزیراعظم وقفے وقفے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر حملے کے لیئے اکساتے رہے ہیں۔ واشنگٹن میں امریکی صدر سے اپنی آخری ملاقات میں بھی نیتن یاہو نے انہیں ایران پر فوری حملہ کرنے کے لیئے ترغیب دی تھی۔ نتین یاہو کا یہ رویہ "آ بیل مجھے مار” والا تھا۔ ایک شاعرانہ محاورہ ہے کہ، "ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔” ایران پر اسرائیلی حملے بعد ایران کے لیئے تختہ یا تختے والا معاملہ پیدا ہو گیا ہے۔ ایران کے ساتھ ہجر جیسا امریکی رومانس 1979 سے شاہ ایران کا تختہ الٹنے سے چلا آ رہا تھا لیکن اب یہ شاعرانہ رومانس ” جنگی وصل” میں گیا ہے۔
ایران خلیج فارس میں روس اور چین کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقیں کرتا رہا ہے۔ امریکی جنگی جہاز ایف22 اسرائیلی اوودا اڈے کے رن وے پر تیار کھڑے دیکھے گئے تھے، جبکہ مزید سی17 کارگو جہاز میزائل لے کر اسرائیل اترے تھے۔ تل ابیب بن گوریان اڈے پر بھی 20 سے زائد امریکی ایئر ریفیولنگ ٹینکرز جہاز دیکھے گئے تھے جو جنگی لڑاکا جہازوں کو فضا میں ایندھن بھرتے ہیں۔ اسرایلی جنگی طاقت کا جن بوتل سے باہر آ چکا ہے۔ اب روس، چین اور شمالی کوریا بھی امریکہ کی سپر طاقت کے غبارے سے ہوا نکالنے کے لیئے بیتاب ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس جنگ میں چین کھل کر ایران کی مدد نہیں کرے گا کیونکہ امریکہ کے ساتھ اس کی اربوں ڈالرز کی تجارت ہے۔ لیکن آج کے دور میں جنگ سرمایہ کاری سے زیادہ بڑا ذریعہ آمدن ہے۔ یہ جنگ جو بھی رخ اختیار کرے چین کو تجارت کے لیئے نئی عالمی منڈیاں ملنے کا بھی امکان ہے۔ اس سے زیادہ چین کے لیئے یہ بات اہم ہے کہ امریکہ کو شکست یا رسوائی ہوتی ہے تو اس کے بدلے چین کو سپر پاور کے طور پر امریکہ کے مقابلے میں برتری حاصل ہو جائے گی۔ سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ روس پہلے ہی چین کی پشت پر کھڑا ہے۔ امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے میں تاخیر کے پیچھے یہ بنیادی وجہ شامل ہے کہ اگر امریکہ کو ویت نام اور افغانستان کی طرح ایران میں شکست ہوئی تو اس کا سپر پاور رہنے کا خواب تحلیل ہو جائے گا۔ ایران کے ایٹمی طاقت ہونے کے بارے میں بھی کچھ ایسی ہی اطلاعات ہیں۔ یوں چین ایران کی ہمہ وقت جنگی مدد کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرے گا۔ یہاں تک کہ امریکی حملے میں تاخیر کے پیش نظر ایران کو بھی بعض شعلہ بیان سیاسی تجزیہ کار میڈیا پر سپر پاور کے طور پر دکھاتے رہے ہیں، جو اسرائیل کے وجود کے لیئے انتہائی خطرناک موڑ ہے۔
ٹرمپ کے قریبی حلقوں کا خیال تھا کہ اگر ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کا امکان زیادہ ہے۔ خطے میں اس جنگ کے آغاز سے پہلے 11 ممالک کی اپنے شہریوں کو مشرق وسطیٰ کے سفر میں محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ متعدد ممالک نے مشرق وسطیٰ کے بعض مقامات سے سفارت کاروں کے اہل خانہ اور غیر ضروری عملے کو نکالنے کا عمل شروع کر دیا تھا یا اپنے شہریوں کو ایران کے سفر سے گریز کا مشورہ دیا تھا۔ اسرائیلی فوج کی ترجمان ایلا واویہ نے کہا تھا کہ اسرائیلی فورسز نے لبنان کے اندر بعلبک کے علاقے میں حزب اللہ کی "رضوان فورس یونٹ” سے وابستہ آٹھ کیمپوں پر بمباری کی تھی۔ نشانہ بنائے گئے کیمپوں کو جنگی سازوسامان، اسلحہ اور میزائل ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ اسرائیلی حملہ ایران پر حملے کی صورت میں حزب اللہ کے ردعمل کو روکنے کے لیئے کیا گیا تھا۔ عرب ذرائع کے مطابق اگر ایران پر امریکی حملے محدود ہوئے، تو حزب اللہ کا موقف فوجی مداخلت نہ کرنا ہے۔ لیکن اگر ان کا مقصد ایرانی نظام کو گرانا یا رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ذات کو نشانہ بنانا ہوا تو حزب اللہ تب مداخلت کرے گی جس کا نشانہ براہ راست اسرائیل ہو گا۔
اسرائیل کے خیال میں تو ایران پر امریکی حملہ اسرائیلی بقا اور سالمیت کو مستحکم کرے گا لیکن ایران کو اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد سنھبلنے کا موقعہ مل گیا تو اسرائیل کے صفحہ ہستی سے مٹنے کا موقعہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ امریکی انٹیلیجنس کے پاس جو خفیہ اطلاعات ہیں وہ اسرائیل کے لیئے کافی تشویشناک ہیں۔ امریکہ ایران پر حملہ کر کے جنگ جیت لے یا ہار جائے دونوں صورتوں میں ایران اور اس کے اتحادیوں کا سارا نزلہ اسرائیل پر گرے گا۔ خطے میں ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ نے جو جنگ چھیڑی ہے، اس کا ممکنہ نتیجہ فیصلہ کن ہو گا، اور ایران پر اسرائیل امریکہ حملہ فیصلہ کن ہو گا اور اسرائیل کے خلاف ایران جو "لونگ ویٹڈ” حملہ کرے گا وہ بھی فیصلہ کن ہی ہو گا۔
Read in English Israeli Offensives Directed at Iran

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |
[…] of Urdu column ایران پر اسرائیلی حملے by Jusuf […]