کیا تمباکو نوشی واقعی مضر صحت ہے؟

کیا تمباکو نوشی واقعی مضر صحت ہے؟

ایک دفعہ موضوع نے آپ  میں تجسس پیدا ہوگا کہ یہ کیا  یہ تو ایک عام فہم بات ہے کہ ہر  شخص کو پتہ ہے کہ تمباکو نوشی مضر صحت ہے۔  کیا حقیقت میں ہمیں واقعی پتہ ہے کہ تمباکو نوشی مضر صحت ہے ؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری اکثریت اس میں مبتلا کیوں ہے ؟ اسی سوچ کو لے کے ایک عملی تجزیہ کیا گیا اور سگریٹ کی ڈبی لے کر مختلف سگریٹ نوشوں کے پاس لے جا کر ان سے پوچھا گیا کہ اس پر کیا لکھا ہے تو آپ کو جان کے حیرانی ہوگی کہ ہر شخص کو اس بات کا علم تھا کہ واقعی اس پہ لکھا ہے سگریٹ نوشی  کینسر کا باعث بنتی ہے یا سگریٹ نوشی  صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور سونے پہ سہاگہ اسی تجزیے کے دوران ایسے لوگ بھی تھے جن کو پڑھنا نہیں آتا تھا لیکن ان سے پوچھا گیا کہ اس ڈبی پہ کیا لکھا  ہے آپ کو پتہ تو ہوگا تو سو فیصد لوگوں نے بالکل صحیح جواب دیا کہ سگریٹ نوشی  صحت کے لیے نقصان دہ ہے ۔  آخر ہماری نوجوانوں کی اکثریت  سگریٹ اور دوسرے نشوں میں مبتلا ہے ۔ سگریٹ بنیادی نشہ تصور کیا جاتا ہے ہے اس کی وجہ عام طور پر آسانی سے  دستیاب ہونا  ہے ،استعمال بہت آسان ہے ۔  ایک طالب علم سے جب یہ پوچھا گیا کہ آخر آپ نے سگریٹ نوشی کا کیوں اغاز کیا جبکہ آپ کی شخصیت سے یہ مطابقت بھی نہیں رکھتا جواب میں وہ  متفق تھا کہ واقعی جس شخصیت کا مالک ہے جس علمی خاندان  سے  تعلق رکھتا ہے اس کے ساتھ یہ چیز مطابقت نہیں رکھتی لیکن اس نے کہا سر جو شدید ذہنی دباؤ ہم نوجوانوں پہ ہوتا ہے نہ وہ ہمیں سگریٹ نوشی پر  مجبور کرتا ہے ہ بی ایس میں  میں سمسٹر کلیئر نہیں ہو رہے تھے گھر والوں کی طرف سے بہت زیادہ پریشر تھا, بات چیت کا ماحول نہیں تھا, والدین  کے شکوے ہم تمہاری پڑھائی پہ اتنے پیسے خرچ کر رہے ہیں اور تم کر نہیں پا رہے تو اس چیز نے مجھے اس منفی سرگرمی کی طرف دھکیلا ۔ یہ تو ایک  لائق  طالب علم ہے  اس کے اوپر جب دباؤ آیا  تو برداشت نہیں کر سکا ۔ اسی طرح وہ بہت سارے ایسے نوجوان ہوتے ہیں جو پڑھ ہی نہیں پاتے ، جن کو کاروبار کا مسئلہ ہوتا ہے،  گھریلو مسائل ہوتے ہیں۔  ہمارے ہاں چونکہ یہ رواج نہیں ہے کہ ہم گھر میں بیٹھ کے مسائل کے پر  گفتگو کریں ایک دوسرے کے مسائل سنیں اس پہ اپنی رائے دیں ۔ جیسے پہلے ہمارے آباؤ اجداد کیا کرتے تھے ۔ شام کے وقت  چوپالوں  میں  بیٹھ جاتے تھے اور نوجوان ان سے  اپنے مسئلے پوچھتے تھے اور وہ اپنے تجربے کی روشنی میں ان کا حل دیتے تھے۔  اب ہم نے جس قدر جدید تعلیم حاصل کر لی ہے اس کے منفی پہلو میں یہ بھی شامل ہے کہ نوجوان  بات کرنا، مشورہ کرنا توکچھ  سمجھتا ہی نہیں  اسی واقعے پہ مجھے اپنے روحانی استاد اشفاق صاحب کی بات یاد آگی  جب اشفاق صاحب پڑھ لکھ گاؤں گئے ، جا کے اپنے تایا کو اپنی پڑھائی کا رعب جمانے کے لیے یہ کہا کہ تایا جی آپ کو پتہ ہے کہ مکھی کی  تھری ڈی آنکھ ہوتی  ہے ۔ تایا جی نے پوچھا وہ کیا ہوتا ہے کہا تایا جی مکھی ہر طرف   دیکھ سکتی ہے  تایا جی  زیادہ  متاثر نہیں ہوئے بڑے تحمل سے جواب دیا پتر کی کرنا ایسی تھری ڈی اکھ  دا بیندی تے فیر وی گند  تے ای اے نا ۔ اسی طرح ہم نے پڑھائی تو کسی قدر کر لی ہے لیکن عملی تربیت سے ہم لوگ غافل ہیں اور ہمارا خاندانی نظام آج تباہی کی بنیاد پہ ہے اب چونکہ والدین زیادہ تر علیحدہ رہنا  پسند  کرتے  ہیں۔  دادا دادی کا رواج نہیں ہے اور دونوں ہی نوکریاں کرتے ہیں تو بچوں کو  سہولیات دینے کے چکر میں وقت تو دے نہیں پاتے تو بچے  نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں اسی طرح شدید معاشی دباؤ نے اساتذہ کے اندر سے بھی وہ چیز کم کر دی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے اوپر  توجہ دیں ان کی خامیوں کو نوٹ کریں ان سے علیحدگی  میں بات کریں اس کے علاوہ میڈیا مسلسل منفی کردار  ادا کرتا ہے سگریٹ نوشی کے اشتہارات کو اس طرح پرکشش بنا کے دکھایا جاتا ہے ، بڑے بڑے فلم سٹارز اور کھلاڑی   سگریٹ پیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں   تو نوجوان بچہ اس بات کا تعین نہیں کر پاتا کہ یہ بری چیز ہے کہ نہیں اور جب تک وہ اس بات کو سمجھ جاتا ہے وہ مکمل طور پر اس کا عادی  ہو جاتا ہے ۔ ماہرین نفسیات کا یہی خیال ہے کہ اگر آپ کو چھوٹی عمر میں عادت ڈل جائے اس کو چھوڑنا پھر آپ کے لیے بہت مشکل ہو جاتا ہے اس کے لیے آپ بہت اعلی طور پر تربیت یافتہ ہوں اور آپ کا ماحول بہت اعلی ہو تب ہی  آپ کسی عادت کو چھوڑ پائیں گے ۔ سگریٹ نوشی کے حوالے سے ایک اور تجزیہ  کے نتائج سے ا پتہ چلا کہ  سگریٹ نوشی کرنے والے زیادہ تر لوگوں نے  چھوٹی عمر میں اس کا اغاز کیا اور زیادہ تر نے دوستوں سے اس  عادت کو اپنایا   اس حوالے سے بھی ماہرین کا یہ خیال ہے کہ والدین کو اس بات کی توجہ دینی چاہیے کہ اس کے بچے کے دوست کون  ہیں  ہمارے دوست فیصل جنجوہ صاحب جو کہ ایک ماہر تعلیم ہے  والدین کے اس شکوے کو رد کر دیتے ہیں کہ بچے  دوستوں سے خراب ہوتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ  اگر بچے کے دوست اتنا ہی اثر ڈالتے ہیں تو آپ خود بچے کے دوست بن جائیں ۔ جب آپ ان کی ضروریات کے لیے سارا وقت دے سکتے ہیں تو کچھ دیر ان کی باتیں سنیں۔  کم سے کم والدین کا بچوں کے ساتھ اتنا تعلق تو ضرور ہونا چاہیے کہ سارے دن کی وہ اپنی جو کارگزاری ہے وہ بغیر کسی ڈر اور خوف کے اپنے والدین کو بتا سکیں۔  اگر کسی ٹیچر نے ان کو سزا دی ہے تو وہ بھی  بتا سکیں اس کی کیا وجوہات تھی اور اپنی غلطی کو مان سکیں اسی طرح اگر کسی دوست کے ساتھ کوئی معاملہ ہو گیا ہو تو اس کو بھی ذکر کر سکیں۔

اعصابی نظام کو نقصان، قلبی نظام پر اثرات ، بالوں سے محرومی، جنسی مسائل کا سامنا ،تناو میں اضافہ،

دانتوں کی پیلاہٹ میں اضافہ اس کے علاوہ ذہنی امراض کا بھی شکار ہو جانا، معاشرے کا مفید شہری نہیں بن پانا 

سگریٹ نوشی کے ان سب نقصان کو ہم جانتے ہیں ۔ آخر  سگریٹ کو چھوڑا کیسے جا سکتا ہے یہ ہی ہمارے  نوجوانوں کا مسئلہ ہے شروع میں وہ مسائل،  دباؤ کی وجہ سے شروع تو کر لیتے ہیں لیکن سگریٹ چھوڑنا ایک وبال جان بن جاتا ہے اس کے بارے میں ماہرین کہتے ہیں کہ آپ سب سے پہلے اپنا مالی فائدہ دیکھیں اگر آپ سگریٹ جو کہ اس وقت دن بدن مہنگا ہوتا جا رہا ہے اس کو چھوڑ دیں گے تو اپ کو کافی ساری مالی بچت بھی ہو سکتی ہے اس کے علاوہ سگریٹ کے متبادل کے طور پر ببل کو یا مختلف انہیلرز وغیرہ کو استعمال کیا جا سکتا ہے سگریٹ نوشی سے ہونے والے نقصانات کو خود اپنے ہاتھ سے لکھ کر اپنے موبائل میں یا ایسی جگہ پہ چسپاں کر دے جہاں پر آپ کی روزانہ کی بنیاد پر نظر پڑے  اس سے بھی سگریٹ پینے کی عادت میں آہستہ آہستہ کمی  ہوگی ۔ سب سے اہم اور سب سے مشکل کام  سگریٹ نوشوں کی صحبت کو ترک کر دے اور ایسے لوگوں کی صحبت کو اختیار کریں جو سگریٹ نوش نہیں ہیں آہستہ آہستہ اس کے اثرات ہوں گے کیونکہ انسان اپنے دوستوں کے دین پر ہوتا ہے  ان جیسے اخلاق، عادات کو اپنا لیتا ہے اس لیے سگریٹ نوشی چھوڑنے کا سب سے بہترین طریقہ ہے کہ اپنے آپ کو ایسے ماحول میں رکھا جائے جہاں سگریٹ نوش نہیں ہوتے اکثر  سگریٹ نوش جب  تبلیغی جماعت وغیرہ پہ ، عمرے یا حج کے لیے جاتے ہیں کافی دن  سگریٹ نہیں پیتے  اگر وہ مکمل طور پر نہیں بھی چھوڑ پاتے تو ان کی سگریٹ نوشی کی عادت میں کمی ہو جاتی ہے یہ تو تھے وہ عام فائدے جو آپ کو کوئی بھی ماہرین  اگاہ کر سکتا ہے لیکن سب سے پہلے ہمیں سگریٹ نوشی کو برا سمجھنا ہے سگریٹ نوش کو نہیں یعنی اس کی صرف اس عادت کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے وہ بھی تعمیری بلکہ اس سے تعلق اور محبت رکھنا ہے ، معاشرے میں اس کی عزت کو خراب نہیں کرنا  کچھ لوگ تنہائی کا شکار ہونے کی وجہ سے سگریٹ نوشی  اختیار کر لیتے ہیں ۔ کچھ لوگ معاشی دباؤ کی وجہ سے سگریٹ نوشی اختیار کر لیتے ہیں اس لیے ہمیں خیال رکھنا ہے کہ  اپنے والدین سے بلا وجہ کی فرمائشیں نہ کریں  اتنا دباؤ نہیں ڈالنا کہ وہ اس کو برداشت نہ کر سکیں ۔ سب سے اہم والدین ، اساتذہ اور علماء کا کردار ہے کہ   اپنے گھر میں دوستانہ ماحول بنائیں،  اساتذہ  اپنے بچوں کے ساتھ انفرادی طور پر ان کے ساتھ رابطے میں رہیں اور علماء کرام اس موضوع پر گفتگو کریں ۔ ہمارے نوجوان اپنا کردار ادا کر سکیں اور ہم مہذب قوم بن سکیں زرا نہیں  مکمل غور کیجیے گا

Title Image by 51581 from Pixabay

Zeshan

محمد ذیشان بٹ جو کہ ایک ماہر تعلیم ، کالم نگار اور موٹیویشنل سپیکر ہیں ان کا تعلق راولپنڈی سے ہے ۔ تدریسی اور انتظامی زمہ داریاں ڈویژنل پبلک اسکول اور کالج میں ادا کرتے ہیں ۔ اس کے علاؤہ مختلف اخبارات کے لیے لکھتے ہیں نجی ٹی وی چینل کے پروگراموں میں بھی شامل ہوتے ہیں

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

Next Post

تیسری سیاسی قوت کی ضرورت

ہفتہ دسمبر 9 , 2023
یہ آزمودہ نسخہ ہے کہ منزل نہ مل رہی ہو تو اسے حاصل کرنے کے لیئے طریقہ کار بدلنے یا راستہ بدلنے سے مل جاتی ہے۔
تیسری سیاسی قوت کی ضرورت

مزید دلچسپ تحریریں