ایرانی حکومت کی تبدیلی یا ارضی سیاسیات کی جنگ
ایران کے دارالحکومت تہران کی مرکزی مارکیٹ سے افراط زر، مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف 28 دسمبر 2025ء کو شروع ہونے والی احتجاجی لہر اب "جیو پولیٹیکل وار” میں بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔ سنہ 1979ء میں امریکہ اور اسرائیل نواز رضا شاہ پہلوی کا شاہی تختہ الٹنے کے بعد "خمینی انقلاب” آیا۔ اس انقلاب کے ذریعے ایران میں بادشاہت تو ختم ہو گئی لیکن یہ انقلاب جمہوری سے زیادہ مذہبی قسم کا تھا۔ یہ انقلاب محض شاہ ایران کے خلاف نہیں تھا بلکہ مغربی جدیدیت، امریکی بالادستی اور سرمایہ داری کے خلاف ایک فکری بغاوت تھی، جس کے بعد ایران کے امریکہ اور اسرائیل سے تعلقات بگڑ گئے۔ انقلاب ایران کے ایک ہی سال بعد 1980ء میں ایران عراق جنگ کا آغاز ہوا۔ عراقی صدر صدام حسین نے ایران پر یہ سمجھ کر حملہ کیا تھا کہ انقلاب اندر سے کمزور ہے لیکن یہ جنگ ایران میں قومی وحدت، انقلابی تشخص اور عسکری خودکفالت کا ذریعہ بن گئی۔
اس وقت سے "پاسداران ایران” امریکہ اور اسرائیل کو مسلسل کھٹکتے رہے ہیں۔ ایران بھی پیچھے نہیں رہا، اس نے عالمی تنہائی، پابندیاں، اور امریکہ سے مستقل دشمنی مول لیئے رکھی۔ 13 اپریل 2024ء کو پاسداران انقلاب اسلامی نے عراقی موبلائزیشن فورسز، لبنانی حزب اللہ گروپ اور یمنی حوثیوں کے ساتھ مل کر اسرائیل پر حملے کیئے جن کا کوڈڈ نام "آپریشن وعدہ” رکھا گیا تھا اور جس میں ایران نے ڈرون کروز اور بیلسٹک میزائل استعمال کیئے تھے۔ 13 جون 2025ء کو ایران اسرائیل جنگ شروع ہوئی جب اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کو وسعت دینے سے روکنے کے دعوے کے ساتھ ایران کی متعدد تنصیبات پر ناگہانی حملے کیئے۔ ان حملوں کو ”آپریشن شیرِ برخاستہ“ کا نام دیا گیا، جن کے دوران اسرائیلی دفاعی افواج اور موساد نے ایران کے جوہری مراکز، عسکری تنصیبات اور شہری علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا۔اسی شب ایران نے ”آپریشن وعدۂ صادق سوم“ کے تحت جوابی کارروائی کی، جس میں ایران نے بیلسٹک میزائلوں اور خودکار ڈرونز کے ذریعے اسرائیل کے فوجی اور انٹیلی جنس مراکز کے ساتھ ساتھ بعض رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔ اسی دوران جنگ میں امریکہ بھی کود پڑا جب امریکہ اور اسرائیل دونوں نے مل کر ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ لیکن ایرانی دعووں کے پیش نظر کہ ان کی ایٹمی تنصیبات حملوں میں محفوظ رہیں، یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر پراکسی وار اور براہ راست حملہ کر کے "رجیم چینج” کی کوشش کرے گا۔
گزشتہ روز امریکی صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ پوری دنیا کو چار مرتبہ تباہ کر سکتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان اس موقع پر آیا ہے جب وینزویلا کے صدر کو گرفتار کرنے اور امریکہ لے جانے کے بعد امریکی جنگی بحری بیڑا خلیج کے پانیوں میں پہنچ چکا ہے اور اس کے فوجی ایران کی سرحدوں پر دستک دے رہے ہیں۔ اس اقدام سے پہلے ایران میں پرتشدد احتجاج سے ایسے حالات پیدا ہو رہے تھے کہ جس کے پیش نظر امریکی حملے کا خطرہ محسوس کیا جا رہا تھا۔ امریکی صدر کا یہ بیان نہ صرف خطے میں امن کے قیام کی امیدوں پر پانی پھیرنے کے برابر ہے بلکہ اس سے دنیا پر ایک بار پھر تیسری عالمی جنگ کے بادل منڈلاتے نظر آ رہے ہیں۔ ایران میں 3 سال سے زیادہ عرصے بعد ہونے والے سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہروں میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 65 اور پرائیویٹ ایجنسیوں کی خبروں کے مطابق کم از کم 192 مظاہرین ہلاک اور 2000 سے زیادہ زخمی ہیں۔ یہ مظاہرے ایران کے 31 صوبوں کے 100 سے زائد شہروں میں عوامی بغاوت کی شکل میں ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ناروے میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم "ایران ہیومن رائٹس” نے اتوار کو جاری کیئے۔ ایران میں پابندیوں کی وجہ سے ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے کیونکہ گزشتہ 60 گھنٹوں سے زیادہ عرصے سے انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہے۔ اس کے باوجود تہران، مشہد اور دیگر شہروں میں گزشتہ تین راتوں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی نے تصدیق شدہ ویڈیوز میں دیکھایا کہ تہران اور مشہد میں مظاہرین سڑکوں پر نکلے اور کئی گاڑیاں اور عمارتوں کو نذر آتش کر دیا۔ کچھ غیر مصدقہ ویڈیوز میں تہران کے مردہ خانے میں مظاہرین کے لواحقین کو لاشوں کی شناخت کرتے دکھایا گیا ہے۔
ایران اور امریکی مخاصمت اور کشیدگی جو سنہ 1979ء میں آیت اللہ خمینی کے ایرانی انقلاب کے ساتھ شروع ہوئی تھی (جب انقلابیوں نے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کیا تھا اور امریکی سفارت کاروں کو یرغمال بنا لیا تھا) جس میں 46 سال یعنی نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی کبھی کمی نہیں آ سکی تھی، اب نتیجہ خیز مرحلے میں داخل ہونے جا رہی ہے۔
دراصل 1979ء میں جس رجیم نے “اسلامی انقلاب” کے نام پر اقتدار پر قبضہ کیا تھا، اس نے اب تک ایرانی عوام کو آزادی، انصاف یا خوشحالی دینے کے بجائے مسلسل جبر، سخت گیری، قید و بند، معاشی تنگدستی اور خوف کے سائے میں رکھا۔ اس دوران ریاستی وسائل عوامی فلاح پر خرچ کرنے کے بجائے خطے میں اپنی "جیو اسٹریٹجک بالادستی” قائم کرنے کے لیئے اربوں ڈالر جنگی مہمات، پراکسی گروہوں اور عسکری مداخلتوں پر جھونک دیئے جس کا نتیجہ بلآخر نہ صرف ایرانی عوام میں شدید غم و غصہ اور محرومی کی شکل میں نکلا ہے بلکہ اس نے امریکہ اور اسرائیل کو اپنی پرانی ہزیمت کا بدلہ لینے کا موقع بھی فراہم کر دیا ہے۔ اس پر مستزاد یہ صرف احتجاج، خانہ جنگی یا ایران پر امریکی حملے کا سوال نہیں بلکہ یہ وہی "جیو پولیٹیکل وار” (ارضی سیاسیات کی جنگ) ہے جو خطے کا نقشہ بدلنے کے لیئے اس سے پہلے عراق، لیبیا اور شام میں لڑی جا چکی ہے۔
دوسری جانب، ایرانی عوام کی جرات مندانہ مزاحمت کو دیکھ کر شاہی نظام کے باقیات رضا شاہ پہلوی، جو اس وقت امریکہ میں مقیم ہیں اور خود کو ایران کا متبادل حکمران تصور کرتے ہیں، ایک بار پھر منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی مزاحمت جاری رکھیں اور اعلان کیا ہے کہ جب سپریم لیڈر خامنہ ای ملک سے فرار ہوتے ہیں تو وہ اقتدار سنبھال لیں گے۔ اس سلسلے میں ان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بارہا مداخلت کی اپیلیں کی جا رہی تھیں تاکہ امریکہ طاقت کے ذریعے "ملا رجیم” کا تختہ الٹ دے۔ ایران میں اس نازک صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی اپنے ہفتہ وار خطاب میں مظاہرین کی پشت پناہی کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ان کے ساتھ کھڑا ہے، جبکہ اس پر ایرانی حکومت نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو ایران ردعمل کے طور پر خطے میں امریکی اڈوں پر حملہ کرے گا
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت بھی ہے کہ ایرانی کی مذہبی حکومت نے حق مانگنے پر اپنے ہی شہریوں کو پھانسیوں پر لٹکایا، عورتوں کے بنیادی حقوق غصب کیئے، اختلافِ رائے کو جرم بنایا اور عوام کو نان و نفقہ کا محتاج کر دیا۔ آج جب عوام سڑکوں پر نکل کر احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں تو یہ عمل محض ایک ریاستی یا داخلی معاملہ نہیں رہا۔ عوامی احتساب جب اس درجہ و مرحلے پر پہنچتا ہے تو اس کے اثرات جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے کی سیاست، طاقت کے توازن اور مستقبل کو متاثر کرتے ہیں۔ قوی امکان ہے کہ امریکہ خطے میں حسب سابق عراق، لیبیا اور شام کی طرح خطے کی ارضی تبدیلی کے تحت ایران پر حملہ کرے گا، اور یہی وجہ ہے کہ اس خطرے اور ایرانی ردعمل کے پیش نظر اسرائیل میں بھی "ہائی الرٹ” کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |