اہم اجلاس ، گورنمنٹ کالج ٹھیریاں
گورنمنٹ بوائز انٹر کالج ٹھیریاں ،مظفرآباد میں پرنسپل راجا تنویر احمد خان کی طرف سے ایک مشاورتی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایک اجلاس کی صورت نشست تھی جس میں کالج کی بہتری اور ترقی کے لیے مشاورت اور تجاویز پیش کی گئیں۔اجلاس 9 ستمبر 2025ء بروز منگل صبح دس بجے پرنسپل آفس، گورنمنٹ کالج ٹھیریاں میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت پرنسپل راجا تنویر احمد خان نے کی، جب کہ جملہ پروفیسر صاحبان نے اپنی اپنی شرکت کو یقینی بنایا ۔ اجلاس کا آغاز پروفیسر راجا اطہر علی خان کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔
ابتدائی گفتگو میں پرنسپل صاحب نے اپنی آرا اور تجاویز شرکائے اجلاس کے سامنے رکھیں اور آمدہ سال کے لیے ترجیحات و منصوبہ بندی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اس کے بعد درج ذیل اساتذہ نے اپنی اپنی آرا پیش کیں:
پروفیسر طارق علی بخاری
پروفیسر فائزہ عمر خان
پروفیسر اطہر علی خان
پروفیسر ساجد اقبال ریشی
پروفیسر حسن علی نقوی
پروفیسر سفیر حسین بھٹی
پروفیسر راجا اخلاص خان
ڈاکٹر محمد سلیم مغل
ڈاکٹر فرہاد احمد فگار
پروفیسر راجا روشن خان
پروفیسر فاروق احمد
ڈاکٹر راجا بشیر خان
تمام شرکائے اجلاس نے اس امر پر اتفاق کیا کہ ادارے کی ترقی اور استحکام کے لیے ہر طرح کی محنت اور کوشش کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے نصاب کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ڈیجیٹل لرننگ کے فروغ، تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ اور طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے جامع حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا گیا۔ طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تا کہ وہ مستقبل میں کامیابیاں سمیٹیں۔
طلبہ کو سائنس مضامین میں مہارت کے لیے ہر پندرہ دن بعد عملی کام کروایا جائے۔ اسی طرح طلبہ کی باقاعدہ حاضری اور ہفتہ وار ٹیسٹ کے انعقاد پر بھی مکمل اتفاق کیا گیا تاکہ عمدہ نتائج کے سلسلے کو برقرار رکھا جا سکے۔
مزید برآں اجلاس میں کالج میگزین کی اشاعت پر اتفاق کیا گیا کہ امسال ادارے سے علمی و ادبی مجلہ "فن تراش”ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کی زیر ادارت شائع کیا جائے گا۔ کھیلوں کے حوالے سے تمام تر ذمہ داریاں پروفیسر فاروق احمد اعوان کو تفویض کرنے پر اتفاق ہوا۔ اسی طرح کالج کے داخلہ امتحان کی ذمہ داری ڈاکٹر راجا بشیر خان کو دی گئی، جب کہ ان کی معاونت پروفیسر حسن علی نقوی کریں گے۔ سیاحت سے طلبہ کی ذہن سازی ہوتی ہے اور وہ نئی چیزیں سیکھتے ہیں۔
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ امسال ادارے کے طلبہ و اساتذہ ایک معلوماتی اور تفریحی دورہ کریں گے۔ پرنسپل صاحب نے اس کی باضابطہ اجازت دی اور کہا کہ جلد مقام کا انتخاب کر کے انھیں بتایا جائے۔ اسی طرح فاروق صاحب کی تجویز پر اتفاق ہوا کہ ہر مہینے کے پہلے اور اخری جمعوں کو بزمِ علم و ادب کا انعقاد کیا جائے گا ۔ بزم ادب کے انعقاد کی ذمے داری ڈاکٹر فرہاد احمد فگار اور پروفیسر فاروق احمد مشترکہ طور پر نبھائیں گے۔ مزید یہ کہ ماہِ ربیع الاول کی مناسبت سے ایک شایانِ شان محفل منعقد کی جائے گی جس میں طلبہ اور پروفیسر صاحبان بھرپور شرکت کریں گے۔
اس کے ساتھ ہی آئندہ سال کے لیے ٹائم ٹیبل کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی اور یہ ذمہ داری پروفیسر سفیر حسین بھٹی کو سونپی گئی کہ وہ جلد از جلد ٹائم ٹیبل ترتیب دیں۔ مزید برآں،ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کو بزمِ ادب کا سربراہ مقرر کرتے ہوئے ہدایت دی گئی کہ وہ طلبہ کو ہم نصابی سرگرمیوں میں بھرپور طور پر شریک رکھیں۔
اجلاس کے دوران میں ایک خوش گوار موقع بھی آیا جب اسٹاف نے فرہاد احمد فگار اور راجا بشیر خان کو پی ایچ ڈی ڈگری کی تکمیل پر دلی مبارک باد پیش کی۔ اس موقعے پر ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کی جانب سے مٹھائی شرکائے محفل میں تقسیم کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام شرکا نے پروفیسر راجا فیصل اقبال کے والد کی وفات پر اظہارِ تعزیت کیا اور مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی۔ یاد رہے حال ہی میں ادارے کے نہایت قابل پروفیسر راجا فیصل اقبال صاحب کے والد ماجد رحلت فرما گئے تھے۔
پرنسپل راجا تنویر احمد خان نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ ان کے اسٹاف میں اعلی تعلیمی یافتہ افراد شامل ہیں۔ ان میں سے جواد رشید اعوان، محمد سلیم مغل، راجا محمد بشیر خان اور فرہاد احمد فگار پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حامل ہیں، جب کہ اکثر اساتذہ ایم فل کی اہلیت رکھتے ہیں۔ یہ حقیقت ادارے کے علمی معیار اور وقار میں اضافے کا باعث ہے۔
اجلاس کے اختتام پر تمام شرکا نے مستقبل کے اہداف پر اعتماد کا اظہار کیا۔ آخر میں پروفیسر راجا اطہر علی خان نے اختتامی دعا کرائی۔ جس کے بعد سربراہ ادارہ کی جانب سے مشروب اور بسکٹوں سے تواضع کی گئی۔
پرنسپل راجا تنویر احمد خان نے تمام پروفیسر صاحبان کی تجاویز اور بھرپور شرکت کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ لائحہ عمل ادارے کی ترقی، طلبہ کی تعلیمی و اخلاقی تربیت اور معیارِ تعلیم کی بلندی کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |