ابتداۓ فکر سے منتہاۓ فکر تک

تحریر : قنبر نقوی، لیہ

باعث خلقت کائنات ، فخر موجودات ، سرکار خاتم انبیاء ﷺ کا فرمان ذیشان ہے کہ میرے اللّٰہ کو جس طرح میں محمد ﷺ اور میرے بھائی علی علیہ السلام نے پہچانا ہے کسی نے نہیں پہچانا۔اور میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جسطرح میرے اللہ میرے بھائی علی علیہ السلام نے پہچانا ہے کسی نے نہیں پہچانا اور میرے بھائی علی علیہ السلام کو جسطرح میں محمد ﷺاور آللہ نے پہچانا اس طرح کسی کسی نے نہیں پہچانا، اب امام انبیاء ﷺ کا فرمان یعنی ،کلام امام امام الکلام ، اس طرح کسی نے نہیں پہچانا ، تو اس میں جناب آدم علیہ السلام ،جناب نوح علیہ السلام ،جناب ابرہیم علیہ السلام بھی شامل ہیں ، صف ملائکہ میں افضل الملائکہ جناب جبرئیل علیہ السلام شامل ہیں ۔ جب یہ ذوات عالیہ اس خانوادہ عصمت طہارت کو نہ پہچان پائیں تو ایک خطاکار خاکی بشر کی کیا علمی بساط ہے کہ ان پاک ہستیوں کی شان میں کوئی قصیدہ گوئی یا مرثیہ نگاری کر سکے ، ہاں ان کی عظمت لکھنے والوں کی شان کا کیا کہنے لکھنے والے ایسے بزرگ بھی گزرے ہیں ۔ جنہوں نے کلام لکھا اور اپنے جاہ نماز کے نیچے رکھا صبح اس پر مولائے کائنات کی مہر ثبت ہوا کرتی تھی تو وہ کلام آپ منبر پے پڑھا کرتے تھے ۔ ایسے منظور نظر بزرگوں میں میر انیس (رح)مرزا دبیر (رح) کے نام سنے ہیں ، اس طرح ایک اور واقعہ قم شہر ایران میں بہت مشہور ہے کہ ایک شاعر نے پاک خانوادہ علیہ السلام پر بوقت تہجد قصیدہ لکھنا شروع کیا قصیدہ مکمل ہوا مرثیہ لکھنا شروع کیا امور کائنات پہ مامور ملائکہ نے وہ قصیدہ اسی وقت محفل بارگاہ معصومین میں پڑھ کر سنا دیا جس کو تمام خانوادہ عصمت نے بہت پسند کیا یہ واقعہ ہمیں اپنے دوست علامہ ضیغم خان نے 1997ء میں قم شہر ایران میں سنایا انہیں اپنے استاد نے اپنے درس میں مودت اھلبیت علیہ السّلام کے موضوع میں سنایا کہ ہمارے استاد جو اس وقت کے علم تجر اور مراجع خلائق تھے۔ عالم خواب میں سرکار امام حسین علیہ السلام نے حکم دیا کہ آپ کے ملک ایران میں اس نام کے شاعر نے یہ قصیدہ اور مرثیہ لکھا ہے اسے جاکر ملیں اور انہیں ہماری طرف سے یہ بشارت دیں کہ آپ کو اس قصیدہ خوانی اور مرثیہ نگاری کے انعام میں ہم نے جنت الفردوس کے محلات میں سے ایک محل انعام کیا ہے ۔ ساتھ ایک ایک بند قصیدہ اور مرثیہ کا بھی سنایا گیا جو عالم کے دل دماغ میں محفوظ ہو گیا چونکہ امام کی زبان سے سنا تھا دو سرے روز اس شاعر کو تلاش کرتے کرتے اصفہان کے مضافات میں پالیا وہ شاعر اپنے دروازہ پہ اس مجتہد مراجع خلائق کو دیکھ کر حیران رہ گیا حسب توفیق تواضع کے بعد اس شاعر نے قبلہ عالم سے اتنی دور زحمت کا سبب پوچھا تو حیران رہ گیا جو عالم نے اس قصیدہ کے ابتدائی بند پڑھ کر سنا دیئے وہ شاعر صاحب کلام پاؤں پہ گر کر عرض کرنے لگا آقا میں نے تو ابھی تک کسی محفل میں یہ شعر پڑھے نہیں تھے یہ آپ تک کیسے پہنچے تو وہ تمام واقعہ سنایا گیا،، تو یہ ہے مقام قصیدہ یا مرثیہ لکھنے والوں کا ، ہاں حقیقت سے انکار صرف ظلم نہیں بلکہ کفر ہے حقیقت کیا ہے ، اللّٰہ اور اھلبیت علیہ السلام ہر ان کے احکام حقیقت ہیں جب ان کا ہر حکم حقیقت ہے تو یہ حکم بھی اللّٰہ کی طرف سے ہے اس گھر سے محبت بلکہ مودت رکھو ، مودت تک پہنچنے کیلئے کتنا کچھ کرنا ہوتا ہے تو وہ کربلا میں فدا ہونے والوں سے پوچھا جا سکتا ہے جن کی قربانی اس آیت مجیدہ ، پہ من عن پوری اتری قونوانصاراللہ، ہو جاو اللّٰہ کے حامی و ناصر جب ہم کربلا جاتے ہیں تو صدر دروازے رک کر پانچویں یاچھٹے سلام میں میں یہ پڑھنے کو ملتا ہے اسلام علیکم یا انصاراللہ ، اسے اللّٰہ کے حامی ناصر آپ پر ہمارا سلام ، تو اس طرح منتہاۓ فکر میں حمد ہو یا منقبت سلام ہو یا مرثیہ یہ بھی نصرت امام ہے، نصرت امام اللہ کی نصرت ہے۔اب اس میں خلوص ، محبت اور مودت کس حد تک ہے یا پھر نمود کا اہتمام کتنا موجود ہے یہ فیصلہ یقیناً قاری سے زیادہ بہتر صاحب کلام کو کرنا ہو گا ہم اس پر لب کشائی سے قاصر ہیں البتہ مجموعی طور پر منتہاۓ فکر میں ہجراں کے پہلے درجے سے لیکر عشق کی منزل تک صاحب قلم نے اپنے طور پر پوری نیک نیتی سے قصیدہ ہو یا مرثیہ کا رنگ سپرد قرطاس کیا ہے،،
،ہر اک کا اپنا ہی طرزِ نگارش
زباں اپنی اپنی بیاں اپنا اپنا،

بقول ایک دانشور کے شاعری وزن میں ہونی چاہئے؟ یہ کوئی اہم نہیں ، اہم یہ ہے کہ شاعری میں وزن ہونا چاہئے۔
میں دعا گو ہوں مولا کریم محترم مقبول ذکی مقبول کو اس سے زیادہ لکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

qanbar naqvi
 قنبر نقوی، لیہ

سونیا بخاری