انسانی صحت اور پانی کا استعمال
ارتقائی سائنس دانوں کا دعوی ہے کہ انسان سمندری مخلوق رہی ہے۔ زمین پر زندگی کی ابتدا پانی میں ہوئی، اور انسان سمیت تمام خشکی کے جانوروں کے جدِ امجد قدیم سمندری مخلوق ہے۔ اربوں سال کے ارتقائی عمل کے دوران، پانی میں رہنے والے جانداروں نے خشکی پر رہنے کی صلاحیت پیدا کی اور بالآخر انسانوں کا ارتقاء ہوا۔
میڈیکل سائنس کے مطابق ہمارے جسم کا 70فیصد حصہ پانی پر مبنی ہوتا ہے۔ آکسیجن کے بعد پانی انسانی جسم کی بنیادی ضرورت ہے۔ اگر جسم میں پانی کی کمی واقع ہو جائے تو اس سے ڈی ہائیڈریشن، جلدی اور دل کی بیماریاں، بلڈ پریشر اور گردے وغیرہ کے خراب ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پانی کم پینے سے سردرد اور معدے کی خرابی جیسی بیماریاں بھی لاحق ہو سکتی ہیں۔ اس لیئے کم از کم روزانہ اتنا پانی ضرور پینا چایئے جتنی جسم کو مکمل طور پر صحت مند رکھنے کے لیئے ضرورت ہوتی ہے، جو عموما 8 گلاس روزانہ پانی پینے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
لیکن یہ تحقیق بھی سامنے آئی ہے کہ زیادہ پانی پینے کے بھی اتنے ہی نقصانات ہیں جتنے کم پینے کے ہو سکتے ہیں۔ضرورت سے زیادہ پانی پینا "اوور ہائیڈریشن” جیسے سنگین طبی مسائل کا باعث بن سکتا ہے، جس میں سب سے اہم ہائپوناٹریمیا (خون میں سوڈیم کی خطرناک حد تک کمی) ہے، جو دماغی سوجن، متلی، قے، سر درد، اور شدید صورتوں میں بے ہوشی پیدا ہوتی ہے، کیونکہ اس سے خلیات پھولنے لگتے ہیں، جو دماغ اور پھیپھڑوں کے لیے مہلک ہے اور جس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ یہ گردوں پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے اور ہاضمے کے خامروں کو کمزور کر سکتا ہے۔ گردے ایک مخصوص حد تک پانی خارج کر سکتے ہیں، زیادہ پانی پینے سے گردوں کو اضافی کام کرنا پڑتا ہے۔ کھانے کے فوراً بعد زیادہ پانی پینے سے ہاضمے کے انزائمز بھی کمزور ہو سکتے ہیں، جس سے اپھارہ اور گیس جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جب گردے اضافی پانی نکالنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو جسم میں پانی جمع ہونے سے ہیضہ بھی ہو سکتا ہے۔ بار بار پانی پینے سے گردے مسلسل کام کرتے ہیں، جس سے بار بار باتھ روم جانا پڑتا ہے، جو معمولات زندگی میں خلل ڈالتا ہے۔
اس لیئے دن بھر میں پانی پینے کی مقدار کو متوازن رکھنا چایئے یعنی نا زیادہ پانی پیا جائے اور نہ ہی اس میں غیرضروری کمی کی جائے۔ صبح اٹھنے کے بعد پہلا کام ایک دو گلاس پانی پینے کا کرنا چایئے تاکہ گردے صاف ہو کر بہتر طور پر کام کرنا شروع کر دیں اور ہم تازگی محسوس کرنے لگیں۔ کچھ لوگ کھانے سے پہلے پانی پیتے ہیں اور دوران خوراک بلکل نہیں پیتے ہیں۔ اس کی بجائے ایک آدھ گلاس پانی کی مقدار ایک دو گھونٹ سے دوران خوراک وقفے وقفے سے لی جائے تو وہ خوراک کو محلول بنا کر معدے تک اتارنے میں معاون ثابت ہوتی ہے اور ہاضمے کے لیئے منہ سے خارج ہونے والے سلیوا کے انزائم کو بھی متاثر نہیں کرتی ہے جبکہ اس پانی سے منہ کی دیواریں زخمی ہونے سے بھی بچ جاتی ہیں، اور اس سے پانی خوراک کو چبانے میں بھی آسانی پیدا کرتا ہے۔ پورے دن میں پانی کی نارمل مقدار خواتین کے لیے تقریباً 2.7 لیٹر یا 12 کپ اور مردوں کے لیے 3.7 لیٹر یا پندرہ کپ، بشمول دیگر مشروبات اور خوراک کافی ہوتی ہے۔ لھذا پیاس نہ ہونے پر زبردستی پانی پینے سے گریز کرنا چایئے۔ پانی پیتے وقت آداب کا بھی خیال رکھنا چایئے۔ شدید پیاس کی صورت میں پانی پیاس رکھ کر اور شروع میں کم مقدار میں آہستہ آہستہ پینا چایئے۔ ہم میں سے جو لوگ ہر روز آٹھ گلاس پانی پیتے ہیں وہ نقصان نہیں کر رہے ہوتے۔ لیکن جسم کی طلب سے زیادہ پانی پیتے رہنا خطرناک ہوتا ہے، یہاں تک کہ پیاس کی شدت میں بہت زیادہ پانی پینا اچانک موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
گرم پانی پینے سے عموما پیاس نہیں بجھتی یے جس کی وجہ یہ ہے کہ گرم پانی جسم کو ٹھنڈک کا احساس نہیں دیتا، منہ اور گلے کے رسیپٹر پیاس بجھنے کا سگنل کم دیتے ہیں معدہ بھی جلد خالی ہو جاتا ہے اور گرم پانی سے پسینہ بڑھ جاتا ہے اس لئے پیاس برقرار رہتی ہے۔ لیکن نیم گرم پانی کے فوائد ٹھنڈے پانی سے زیادہ ہیں۔ زیادہ ٹھنڈا پانی پینے سے سردی لگ جاتی ہے اور بعض دفعہ نزلہ زکام اور بخار بھی ہو جاتا ہے۔ چینی کھانے کے دوران خصوصی طور پر نیم گرم پانی استعمال کرتے ہیں۔ گرم پانی ہمارے اعصاب میں جلد گھل جاتا ہے جو نظام ہضم کو درست کرنے میں مدد کرتا ہے اور ہمارا پیٹ بھی نہیں بھرتا ہے جبکہ ٹھنڈا پانی پینے سے ہمارا پیٹ بھی جلد بھر جاتا اور اکثر و بیشتر اس سے صحت کا بھی نقصان ہوتا ہے۔
سائنسی اعتبار سے گرم پانی جسمانی ضرورت یا ہائیڈریشن کو ٹھنڈے پانی کی طرح ہی پورا کرتا ہے، لیکن پیاس نہ بجھنے کا احساس دراصل ہمارے دماغ اور گلے میں موجود اعصاب کا ردعمل ہوتا ہے۔ انسانی منہ اور حلق میں ایسے مخصوص سینسرز لگے ہوتے ہیں جو ٹھنڈک محسوس کرتے ہی دماغ کو فوری پیغام بھیجتے ہیں کہ پانی پی لیا گیا ہے جس سے انسان کو پانی کے معدے میں پہنچنے سے پہلے ہی سیرابی اور ٹھنڈک کا فوری احساس ہو جاتا ہے۔ گرم پانی چونکہ ان ٹھنڈک کے سینسرز کو متحرک نہیں کرتا اس لیے دماغ کو سیرابی کا سگنل تاخیر سے ملتا ہے۔
انسانی جسم کی یہ کیفیت نفسیاتی زیادہ اور جسمانی کم ہوتی ہے کیونکہ گرم پانی پینے کے بعد جسم کو پانی تو مل جاتا ہے لیکن دماغ مطمئن نہیں ہوتا۔ جب انسان گرم پانی پیتا ہے تو اسے جذب ہو کر خون میں شامل ہونے اور پیاس کے مرکز کو بجھانے میں کچھ وقت لگتا ہے اس لیے فوری سکون نہیں ملتا لیکن اس کے دیرپا فوائد اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ اگر گرم پانی پینے کے بعد چند منٹ انتظار کیا جائے تو پیاس کا احساس خود بخود ختم ہو جاتا ہے کیونکہ تب تک جسمانی سطح پر پانی کی کمی پوری ہو چکی ہوتی ہے۔ البتہ وہ ٹھنڈک والا مصنوعی احساس موجود نہیں ہوتا جس کا انسان عادی ہو چکا ہوتا ہے۔ پیاس اصل میں جسم کے درجۂ حرارت اور پانی کی کمی کا سگنل ہوتی ہے۔ گرم پانی جسم کو ٹھنڈا نہیں کرتا، اس لیے دماغ کو فوراً یہ احساس نہیں ہوتا کہ پیاس ختم ہو گئی ہے مگر پیاس اصل میں گرم یا روم ٹمپریچر پانی ہی ختم کرتا ہے۔
گرم پانی پینے سے جسم کا درجۂ حرارت بڑھتا ہے اور پسینہ آتا ہے، جو صحت کے لیئے اچھی علامت ہے کیونکہ پسینہ آنے سے جسم کے مسام کھل جاتے ہیں اور مزید پانی خارج ہو جاتا ہے، یوں پیاس برقرار رہتی ہے۔ گو کہ گرم پانی منہ اور حلق کو سکون نہیں پہنچاتا اور ٹھنڈا یا نارمل پانی منہ اور حلق کو فوراً راحت دیتا ہے، جبکہ نیم گرم پانی ہاضمے پر بہت اچھا اثر ڈالتا ہے، کیونکہ یہ نزلہ یا گلے کے درد کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ پیاس نیم گرم پانی سے ہی بجھتی ہے کیونکہ ٹھنڈا پانی کتنا بھی پی لو پیٹ پھولتا رہتا ہے مگر پیاس وہیں کی وہیں برقرار رہتی ہے۔ بہرکیف پانی ٹھنڈا ہو یا گرم ہو پیاس بجھاتا ہے مگر پانی کے گھونٹ چھوٹے چھوٹے پینے چایئے، ایک گلاس کا ایک گھونٹ بنائیں گے تو پیاس بجھنا مشکل ہوتا ہے، ایک گلاس کے کم و بیش دس گھونٹ ہونے چایئے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |