عاصم بخاری کی شاعری کے ماحولیاتی عناصرہ
تجزیہ : پروفیسر میاں ارشد حسان میانوالی
عاصم بخاری بھی اپنی ثلاثی نظم بعنوان ” پرندے” میں کچھ ایسی ہوئی ہے
زیادہ تر تو مرتے جا رہے ہیں
ماحولیاتی سماج کے تشکیلی عناصر میں سوائے انسان کے کوئی بھی ازلی بے حسی ،نہ مٹنے والی بھوک اور بے انتہا حرص کا شکار نہیں ہے۔ یہ انسان ہی ہے جو ضرورت سے زائد جمع کرتا ہے۔ یہ انسان ہی ہے جس کے لیے رحمن نے الذی جمع مال و عددہ اور الھکم التکاثر جیسی آیات اتاری ہیں۔ اس کی اسی حرص نے ماحول کے آہنگ کو تار تار کر ڈالا ہے۔ باقی تمام جاندار اپنی ضرورت کے مطابق شکار کرتے ،کھاتے اور اگلے دن پھر مشن پر نکل جاتے ہیں ۔مگر تف ہے انسان کی ایسی تعمیرات اور زیبائشات پر جس کارن اس نے جنگل کے جنگل کاٹ ڈالے اور تف ہے اس کی اس بھوک پر جس کے لیے خالد جاوید نے لکھا ہے کہ "انسان اپنی آنتوں میں رہتا ہے” اور تف ہے اس کی جوج ماجوجی جوع پر کہ سب پھل دار اشجار ہڑپ کر ڈالے اور پھر بھی ھل من مزید کیے جا رہا ہے۔ عاصم بخاری اسی حرص پر طنز کرتے ہوئے گویا ہے:
صنعت کا شوق بھی تمہیں حد سے بڑھا ہوا
ان کارخانوں سے اٹھے گی گرد بھی دھواں
کالونیاں بنا رکھی ہیں تم نے جا بجا
تم کوئلے جلاتے ہو ہر کام کے لیے
بے گھر کیا طیور کو ہر ایک پرند کو
قدرت کو ناپسند ہیں حرکات یہ سبھی
عاصم بخاری کی شاعری میں ماحولیاتی عناصر
جوز اف میکر نے کہا تھا، "انسان زمین کی واحد ادب تخلیق کرنے والی مخلوق ہے”۔یہ بات درست ہے لہذا ادب میں زمین اور ماحول کے متعلقات کا نہ صرف ذکر ہونا چاہیے بلکہ اس کا فطرت کے توازن اور تحفظ کے احساس سے لبریز ہونا بھی ضروری ہے۔ صنعتی انقلاب اور جدید سائنسی ترقی کی وجہ سے ماحول کو لاحق خطرات نے ادیبوں کو اپنی نگارشات میں قدرتی ماحول اور انسانی رشتوں میں تعلق، فطری توازن کی ناگزیریت اور فطرت اور ثقافت کے باہمی تعامل جیسے موضوعات شامل کرنے کی ضرورت کا احساس دیا۔ ادب اور ماحول کے اسی باہمی رشتے نے ایک نئی تنقیدی طرز فکر کی بنیاد رکھی جسے سبز انتقاد ،ماحولیاتی شعریات سبز شعریات، سبز ثقافتی مطالعات اور ماحولیاتی تنقید کا نام دیا گیا۔
انسان کو آج جس ماحولیاتی بحران کا سامنا ہے اس سے نکلنے کے لیے عاصم بخاری جیسے ماحول دوست ادیب ہماری ہمہ وقت رہنمائی کا فریضہ سر انجام دیتے رہتے ہیں۔ وہ ہمیں صنعتی ترقی اور ٹیکنالوجی کے بے دریغ استعمال سے متنبہ کرتے رہتے ہیں۔ یہ انسان کی فطرت سے بے اعتنائی ہی کا نتیجہ ہے کہ مختلف قسم کی آفات ہم پر آئے دن نازل ہوتی رہتی ہیں۔ ماحول مخالف انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے ماحولیاتی توازن بگڑتا ہے ، گلیشیئرز پگھلتے ہیں ،اوزون کی تہ شگاف پڑتے ہیں اور سیلاب اور زلزلوں کی صورت میں تباہی آتی ہے۔
تہذیب و تعلیم کی ساری روشنی کے باوجود آج کے انسان کو اس بات کا احساس نہیں کہ حسن و توازن کائنات کے اس نازک آبگینی نظام میں سانس بھی آہستہ سےلینے کا حکم ہے کہ یہاں بٹرفلائی ایفیکٹ کی موجودگی میں ذرا سی چھیڑ چھاڑ عناصر کے اعتدال و ترتیب میں خلل اندازی کا موجب بنتی یے۔
ایک درجے سے جڑے ہوئے ہیں اس کائنات کے سارے رشتے
تم ایک پھول کو جنبش دو گے تو اک تارا کانپ اٹھے گا ( فراق)
عاصم بخاری کو سائنسی ترقی کے ثمرات کا علم ہے مگر انہیں ترقی کے مضمرات کا بھی بخوبی ادراک ہے ۔ سائنسی فیوض و برکات کے عوض وہ انسان کو فطرت پر بے جا تسلط بلا احتیاج تصرف اور بے لگام استحصال کی اجازت نہیں دے سکتے۔ لطف طبع کے لیے اس نے فطرت کو بد زیب کرنے والوں کو وہ آڑے ہاتھوں لیتے ہیں۔
کھیتی باڑی ہماری رہنے دو کچھ روایت ہماری رہنے دو ہم نے دیکھے ہیں کارخانے بھی
جانتے ہیں فیوض بھی ان کے
مانتے ہیں فیوض بھی ان کے
ساتھ ان کے ہزار بیماری
گر ہے ان دیکھی کوئی مجبوری
لازمی ہے اگر لگانے بھی
دور شہروں سے کارخانے ہوں
عاصم بخاری مجید امجد کی طرح ماحول کا سچا ہمدرد ہے۔ اس لیے اسے فطرت کا دکھ قلبی گہرائی سے محسوس ہوتا ہے ۔ ان کی بعض نظموں پر مجید امجد کی افریشیا، ہڑپا کا ایک پامال، توسیع شہر وغیرہ کے اثرات صاف دیکھے جا سکتے ہیں ۔ وہ بشر مرکز فکر کے مقابلے میں حیات مرکزیت فکر کے علمبردار بن کر ابھرتے ہیں۔ ٹینی سن کی طرح انہیں فطرت ریڈ ان ٹوتھ اینڈ کلا نظر آتی ہے نہ وہ ہارڈی کے نظریہ فطرت کے قائل ہیں۔ وہ ورڈز ورتھ کی طرح انسان اور فطرت کو ایک دوسرے کا لازمہ سمجھتے ہیں۔ Dante Alighieri
کی طرح فطرت کو وہ خدا کا آرٹ سمجھتے ہیں ۔ سو وہ اس آرٹ کو بے ہنر اناڑیوں کے ہاتھوں برباد کرنے پر سراپا احتجاج دکھائی دیتے ہیں۔
بدبو کی اور لپیٹ میں بستی
سانس لینا ہوا بہت مشکل بات مذہب نے یہ بتائی بھی حصہ ایمان کا صفائی بھی کون سنتا ہے بےچارے
کتنی بے جگری سے چلے آرے
قتل بے دردی سے ہوئے سارے
جانے کیا جرم تھا درختوں کا
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |