ڈاکٹر شفیق انجم: ہمہ جہت شخصیت
اردو ادب میں ایسا کون شخص ہو گا جو ڈاکٹر شفیق انجم کے نام سے واقف نہ ہو۔ شفیق انجم صاحب ایک استاد کی حیثیت سے جہاں شناخت رکھتے ہیں وہیں آپ محقق، مدون، نقاد،لغت نویس ، رپورتاژ نگاراور افسانہ نگار کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ ناول نگاری میں بھی آپ کا "وجود ” اپنی پہچان رکھتا ہے۔ آپ کی تدوین کردہ کتب میں کلامِ طارق 2008ء میں نقش گر پبلشر راول پنڈی سے شائع ہوئی۔ کلامِ بشیر صرفی 2010ء میں پورب اکادمی کے زیر اہتمام چھپی۔ گلزارِ فقر اور سیرِ دریا الفتح پبلی کیشنز راول پنڈی نے 2011ء میں شائع کیں۔ انشائے اردو پورب اکادمی اسلام آباد نے 2015ء میں چھاپی ۔اسی طرح 2007ء میں اسلوب پبلشر اسلام آباد سے آپ کی تنقیدی کتاب جائزے منظرِ عام پر آئی۔ اردو افسانہ آپ کی تنقید کی دوسری کتاب تھی جو 2008ء میں پورب اکادمی کے زیرِ اہتمام سامنے آئی۔ یہ کتاب دراصل آپ کا پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لیے لکھا گیا مقالہ تھا۔ ڈاکٹر شفیق انجم کے افسانوی مجموعوں میں پہلا میں+میں 2008ء میں اسلوب پبلشر اسلام آباد سے شائع ہوا۔ دوسرا افسانوی مجموعہ لکھت لکھتی رہی کے نام سے 2011ء میں الفتح پبلی کیشنز نے شائع کیا۔ روشنی آواز دیتی ہے تیسرا افسانوی مجموعہ تھا جو 2019ء میں الفتح پبلی کیشنز اسلام آباد نے چھاپا۔ استاد محترم ڈاکٹر محمد شفیق انجم نے سوانحی کتب کے ضمن میں اپنے اساتذۂ کرام ڈاکٹر گوہر نوشاہی اور ڈاکٹر رشید امجد کے فن اور شخصیت پر دو کتب تصنیف کیں۔ ڈاکٹر گوہر نوشاہی: ایک مطالعہ نقش گر پبلشر راول پنڈی سے 2009ء میں منصۂ شہود پر آئی۔ ڈاکٹر رشید امجد اکادمی ادبیات آف پاکستان کے سلسلہ پاکستانی ادب کے معمار کے ڈاکٹر رشید امجد شخصیت اور فن کے نام سے 2010ء میں شائع ہوئی۔ ڈاکٹر مَہر عبد الحق (شخصیت وفن) 2020ء میں ادارہ فروغِ قومی زبان سے طباعت ہوئی۔ ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کی تحقیق کے حوالے سے کتب میں اردو رسمیاتِ مقالہ نگاری 2011ء میں الفتح پبلی کیشنز راول پنڈی سے شائع ہوئی۔ تحقیق کے موضوع پر دوسری کتاب حاشیائی مقالات نامی پورب اکادمی اسلام آباد سے 2015ء میں سامنے آئی۔ قواعدِ تحقیق و تدوین کے نام سے تصنیف پورب اکادمی اسلام آباد سے 2015ء میں شائع ہوئی۔ اردو سیکھیے طلبہ کے لیے لکھی جانے والی تصنیف 2020ء میں ادارہ فروغِ قومی زبان کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی۔ استاد محترم کچھ عرصہ چین کے تعلیمی اداروں میں بھی طلبہ کی علمی پیاس بجھاتے رہے ۔چین میں قیام کے عرصے کو آپ نے ایک رپورتاژ سنکیانگ نامہ کی صورت 2018ء میں کتابی صورت میں قارئین کی نذر کیا۔ چین کی یادگار کے طور پر ایک لغت بھی ڈاکٹر شفیق انجم صاحب نے اردو چینی لغت کے نام سے مرتب کی جسے 2019ء میں ادارہ فروغِ قومی زبان نے شائع کیا۔ شفیق انجم صاحب نے اپنی نظمیہ کہانیوں کے پانچ مجموعے شائع کیے جن میں پہلا میں نہیں ہوں کے نام سے 2016ء میں ، دوسرا جلا وطن میں خود کلامی 2017ء میں اور سنکیانگ میں محبت 2018ء میں پورب اکادمی اسلام آباد سے شائع ہوئے۔ چوتھا مجموعہ موتیوں کی مالا 2021ء میں کتابی دنیا ،لاہور سے شائع ہوا۔
ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کا آخری نظمیہ مجموعہ خود کلام فروری 2024ء کتابی دنیا ،لاہور سے شائع ہوا۔ یہ مجموعہ 150صفحات کو محیط ہے جس کا انتساب بے چہرگی میں اک چہرہ بناتے خود کلام کے نام کیا گیا۔ اس مجموعے میں دس نظمیں ہیں۔ یہ نظمیہ کہانیاں معاشرتی، نفسیاتی اور فلسفیانہ مسائل پر گہری روشنی ڈالتی ہیں۔ قاری ان کے مطالعے کے بعد خود کو ایک الگ دنیا میں محسوس کرتا ہے۔شفیق انجم صاحب کی تجریدیت اور علامت نگاری کا استعمال کہانیوں کو نیا زاویہ فراہم کرتا ہے۔ روایتی کہانیوں سے ہٹ کر یہ ایک کام یاب تجربے کی حامل ہیں۔ان نظمیہ کہانیوں میں سلیس اور بلیغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے جو تاثیر کو بڑھاتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں ان کہانیوں کا معیار تخلیق کار کی گہری فکری بصیرت ،نفسیاتی تجزیے اور ادبی مہارت کی غمازی کرتا ہے ۔
30 نومبر 2024ء کو جب میں اپنے کنبے کے ہم راہ استادِ گرامی کے دولت کدے پر علی بیگ آرائیاں ضلع بھمبر حاضر ہوا تو میرے شفیق استادِ محترم نے نہایت محبت سے یہ مجموعہ عنایت کیا۔ اس مجموعے پر انھوں نے کمال شفقت کا اظہار کرتے ہوئے مجھے میرے دفاع سے قبل ڈاکٹر لکھا جسے دیکھ کر یوں اطمینان ہوا کہ اب آخری معرکہ بھی سر ہو جائے گا کہ میرے استاد محترم نے تیقن سے لکھ دیا ہے۔ شفیق انجم صاحب کے حوالے سے بہت کچھ لکھنے کا سوچتا ہوں لیکن ان کی شخصیت اتنی وسیع ہے کہ میرا قلم اس حد کو چھو نہیں سکتا۔ گزشتہ دنوں ایک صاحب نے دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر میں ڈاکٹر افتخار مغل مرحوم کے بعد کوئی محقق نہیں۔ میں نے انھیں بتایا کہ ڈاکٹر افتخار مغل کے بنا آزاد کشمیر کا ادب مکمل نہیں ہو سکتا تاہم ان کی تحقیق سندی تھی جو ایم فل اور پی ایچ ڈی کی اسناد کے لیے تھی۔ اگر آزاد کشمیر میں کوئی محقق ہے تو وہ ڈاکٹر شفیق انجم ہیں۔ تدوین ، تحقیق اور تنقید کے حوالے سے ان کی تصانیف کا اوپر مختصر تعارف بھی ہو چکا۔ شفیق انجم صاحب کا کام مختلف حوالوں سے ہے۔ یہ فہرست ابھی نامکمل ہے استادِ گرامی کئی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جو عن قریب ادب کے طلبہ اور شائقین کے ہاتھوں میں ہو گا۔ میں اپنی خوش نصیبی سمجھتا ہوں کہ ایم اے اردو سے پی ایچ ڈی اردو تک کا سفر شفیق انجم صاحب کی زیرِ سرپرستی مکمل ہوا۔ اللہ کریم میرے سبھی اساتذۂ کرام پر اپنا کرم فرمائے جنھوں نے مجھے لفظوں کی حرمت سکھائی۔
آخر میں ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کی ایک نظمیہ کہانی” چل بھئی شفیق انجم” ملاحظہ کریں۔
چل بھئی شفیق انجم ،اٹھ جا
ہمت کر
رات بھر خراٹے بھرنے والے اٹھ چکے ہیں
تو بھی اٹھ جا
الارم تیسری بار بج چکا ہے
یعنی آج بھی
بہت پُھرتی دکھانا پڑے گی
دوڑ بھاگ میں ناشتا کرنا پڑے گا
جلدی جلدی نہانا
بھاگم بھاگ شیو بنانا پڑے گی
عجلت عجلت میں کپڑے بدل
گاڑی میں کودنا پڑے گا
اور حسبِ سابق
آج بھی پہیوں کو پر لگانا پڑیں گے
امید ہے
مقررہ وقت پر
تم اس دیوار تک پہنچ جاؤ گے
جو کل آدھی سے زیادہ چاٹ آئے تھے
۔۔۔ اٹھ جا، شفیق انجم
اس امید پر
کہ کوئی تو دن ایسا آئے گا
جب تم الارم لگائے بغیر سو جاؤ گے
اور جب اٹھو گے
تو وقت رکا ہوا
سویا سویا سا ملے گا
دھیرے سے تم اسے جگاؤ گے
اور ناشتے کی میز پر
چائے کی چسکیوں کے ساتھ
کوئی رومانوی سا منظر خلق ہو گا
اور کم و بیش
ایک صدی ٹھہرا رہے گا
۔۔۔ اٹھ جا شفیق انجم
پچھلے چالیس سال کی طرح
۔۔۔۔ پھرتی دکھا
دیوار چاٹنے کو چل
۔۔۔ آج کا مشکل دن بھی بھگتا!

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |