دلشاد اریب: ایک دن کی ملاقات عمر بھر کی یاد
باغ کی سرزمین کا یہ خوب صورت چہرہ۔شاعری میں مکمل، نثر میں پورا۔ جب خاکہ لکھے تو لفظوں سے مجسم تصویر تراش لےاور جب انشائیہ رقم کرے تو وہ تحریر نہیں ایک دھڑکتی ہوئی کیفیت بن جائے۔شعر کہیں تو الہام لگیں، رسائل کی ادارت کرے تو تن کے سیروں خون کو جلا کر صفحہ بہ صفحہ روح بھر دے۔
تعلیم کے میدان میں ہمہ تن مصروفِ عمل۔چہرے پر بشاشت، گفتگو میں شائستگی اور ٹھہراؤ ۔”جی جی اور ٹھیک ہے” کی ایسی دُھن کہ سننے والا ان کے ادب و انکسار کا گرویدہ ہو جائے۔
چہرے پر ہلکی داڑھی، سانولی رنگت، سر کے بال ماضی کی داستان سمیٹے ہوئے، لباس میں نفاست اور طلبہ کے لیے رہنمائی کا مسلسل جذبہ۔
ملیے یہ ہیں ہمارے محترم دل شاد احمد اریب صاحب۔
دل شاد اریب صاحب سے تعلق اُس وقت استوار ہوا جب انھوں نے گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج ڈنہ مظفرآباد سے "ادراک” کے نام سے اولین اور تاحال آخریں مجلہ شائع کیا۔ وہ اگرچہ اسلامیات کے استاد ہیں مگر اردو سے ان کی محبت اور اس زبان پر ان کی دسترس ایسی کہ ہم اہلِ اردو کو بھی شرمندہ کر جائے۔
2010ء تا 2020ء کے دوران میں جب وہ ڈنہ کالج میں تعینات تھے تو جب بھی مظفرآباد آئے رابطہ کیا اور ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ ہر بار خلوص، محبت اور شفقت کے ساتھ ملے۔ ان کے ڈنہ کالج سے رخصت ہونے کے بعد بھی ہمارا رابطہ ٹیلی فون کے ذریعے سے قائم رہا۔
حال ہی میں انھوں نے اپنی محبتوں کا اظہار یوں کیا کہ اپنی تازہ تصنیف ۔ خاکوں کے مجموعے "اجالوں کا سراغ” کے لیے مجھ سے تقریظ لکھنے کوکہا ۔ یہ میرے لیے جہاں باعثِ افتخار تھا وہیں نہایت مشکل مرحلہ بھی۔ میں طفلِ مکتب اور وہ سخن کے استاد۔ مگر ان کے اعتماد کو اعزاز سمجھتے ہوئے کچھ نہ کچھ رقم کر ہی دیا۔
کچھ دن قبل خوش خبری ملی کہ یہ مجموعہ منصۂ شہود پر آچکا ہے۔
11 نومبر کی شام جب سر درد کی شدت سے جان نکلنے کو تھی دلشاد بھائی کی کال موصول ہوئی۔
انھوں نے نوید دی کہ وہ مظفرآباد آ رہے ہیں اور اگلے روز یعنی 12 نومبر کو ملاقات ممکن ہے۔ میں نے بیماری کی کیفیت میں بھی مسرت سے آمادگی ظاہر کر دی۔
اگلے دن بوجوہ بیماری کالج نہ جا سکا۔ سویرے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے کالج کی اسپورٹس ٹیم کے ہم راہ آئے ہیں۔ طے پایا کہ طلبہ کو میدان میں چھوڑنے کے بعد سپریم کورٹ چوک چھتر میں ملاقات ہوگی۔ قریب گیارہ بجے وہ چھتر چوک میں موجود تھے۔ وہاں سے ہم نے ملک محمد عرفان گورنمنٹ ماڈل سائنس کالج کا رخ کیا مگر بوجوہ یہ ممکن نہ ہو سکا اس لیےاگلا پڑاؤ کشمیر کلچرل اکیڈمی تھا۔
ڈائریکٹر ڈاکٹر سجاد لطیف صاحب سے فون پر رابطہ ہوا تو فرمایا: “دفتر آئیے، میں دس منٹ میں پہنچتا ہوں۔”
پہنچنے پر راجا منیر کیانی صاحب (اسسٹنٹ ڈائریکٹر) نے پرتپاک استقبال کیا۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر سجاد صاحب بھی تشریف لے آئے۔ نشست نہایت پُرمغز رہی۔
اس ملاقات میں ڈاکٹر افتخار مغل کی کتاب "لہو لہو کشمیر” کی اشاعتِ نو پر گفتگو ہوئی ۔وہی کتاب جسے میں نے کشمیر کلچرل اکیڈمی کی ایما پر ازسرِ نو ترتیب دیا ہے۔ ڈاکٹر سجاد صاحب نے مژدہ سنایا کہ اشاعت قریب ہے۔
اسی گفتگو میں اسلم راجا مرحوم کی کتاب اور رسالہ تہذیب کی اشاعتِ نو پر بھی بات چیت ہوئی۔
اس موقعے پر دلشاد اریب صاحب نے اپنی تازہ تصنیف ان کی خدمت میں پیش کی، جب کہ میں نے رسالہ بساط کا عبدالعلیم صدیقی نمبر نذر کیا۔
وہاں سے نکل کر آزاد کشمیر یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو گئے۔
ارادہ تھا کہ گورنمنٹ گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج بھی جایا جائے مگر وقت کی تنگی آڑے آگئی۔
شعبہ اردو پہنچے تو سناٹا چھایا تھا۔ مرکزی لائبریری گئے اور لائبریری کے لیے کتب پیش کیں۔
واپسی کے دوران میں ڈاکٹر جاوید خان صاحب سے سرِ راہ ملاقات ہو گئی۔ انھوں نے چائے کی دعوت دی مگر ہمیں بھوک نے گھیر رکھا تھا سو ہم نے کہا: “چائے بعد میں پہلے کھانا۔”
یوں ہم تینوں قریب ہی الحرم ہوٹل جا بیٹھے۔ ہوٹل کا معیار اگرچہ خاطر خواہ نہ تھا مگر جاوید صاحب کا انتخاب تھا اس لیے ہم نے یہی مناسب سمجھا۔
ڈاکٹر جاوید صاحب ساری نشست میں دلشاد اریب صاحب سے اس طرح محوِ گفتگو رہے جیسے اس وقت ہم تینوں میں سے صرف وہ دو ہی باقی رہ گئے ہوں۔ میں شاید کسی اور جہان میں تھا۔مگر گفتگو کا موضوع تحقیق اور باغ کا ادبی ماحول تھا اس لیے میں خاموش سامع بنا رہا۔
بعد ازاں اعجاز نعمانی صاحب سے رابطہ ہوا اور بنک روڈ پر چند لمحوں کے لیے ملاقات ہوئی۔ ہم تینوں خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ ایک صاحب (نعمانی صاحب کے تعلق والے)آئے اور پوچھا:
“خیریت ہے یہاں کیا کر رہے ہیں؟”
دلشاد اریب صاحب نے برجستہ جواب دیا:
“یہ کارنر میٹنگ ہو رہی ہے!”
سب قہقہوں میں ڈوب گئے۔ لمحہ یادگار بن گیا۔
نعمانی صاحب سے رخصت لے کر ارادہ تھا کہ جاوید الحسن جاوید صاحب سے ملاقات ہو مگر وہ راولپنڈی کے مسافر تھے۔
واپسی پر دلشاد صاحب نے مجھے وہیں چھتر چوک میں اتارا جہاں سے صبح ساتھ لیا تھا۔
رخصت ہونے سے قبل انھوں نے اپنی کتابوں کا قیمتی تحفہ دیا۔
اس منظر کو ایک راہ گیر طالب علم نے کیمرے میں محفوظ کر لیا۔
میں نے بھی بدلے میں انھیں بساط کا تازہ شمارہ اور عظیم ناشاد صاحب کی مرتبہ کتاب "فرہاد احمد فگار: شخصیت اور فن” پیش کی۔
یوں ایک دن کی یہ ملاقات علم و ادب خلوص و محبت اور یادوں کی خوشبو سے مہکتی ایک مکمل کہانی بن گئی۔
وقت نے تو اس دن کے ورق موڑ دیے مگر دل کے تقویم میں وہ صفحہ اب بھی کھلا ہے جس پر حرفِ محبت، رنگِ ادب اور دلشاد اریب صاحب کی مسکراہٹ ثبت ہے۔
یہ ملاقات محض چند گھنٹوں کی تھی مگر اس کی خوشبو دل کے اندر ایسے بسی ہے جیسے کسی دیرینہ یاد نے نیا جنم لیا ہو۔ کچھ لوگ مل کر نہیں جاتے دل میں اتر جاتے ہیں اور دلشاد اریب صاحب انہی میں سے ہیں۔

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |