مبارک ہو ذوالفقار بھائی
کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو بنا مانگے مل جاتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ زندگی کا لازمی حصہ بن جاتے ہیں۔ میرے ہم زلف جناب ذوالفقار احمد قریشی بھی میرے لیے کچھ ایسے ہی ثابت ہوئے۔ سچ پوچھیں تو میں انھیں تب سے جانتا ہوں جب سے اپنی اہلیہ کو جانتا ہوں۔گویا یوں سمجھیے کہ شادی کے ساتھ جو “بونس پیکج” نصیب ہوا اس میں ایک نہایت اچھا انسان بھی شامل تھا۔ وقت کے ساتھ اندازہ ہوا کہ یہ بونس کسی معمولی درجے کا نہیں بلکہ انسانی اوصاف کا ایک پورا خزانہ ہے۔
ذوالفقار بھائی کی شخصیت میں سادگی، اخلاقیات اور ہم دردی اس طرح رچی بسی ہیں جیسے کسی قدیم صندوق میں رکھی خوشبو برسوں تک مہکتی رہتی ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے لیے کسی کی مدد کرنا محض ایک عمل نہیں بلکہ فطرت ہے۔ جاننے والا ہو یا اجنبی جہاں تک ممکن ہو اس کی اعانت کر کے دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں۔
مجھے آج بھی پانچ چھے سال پرانا ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ ایک دن ذوالفقار بھائی کی کال آئی کہ “گھر آؤ، ذرا ضروری کام ہے۔” میں سمجھا شاید کوئی سنجیدہ معاملہ درپیش ہوگا مگر جب گھر پہنچا تو منظر کچھ اور ہی تھا۔ سامنے پرست میں سول اور بام جیسی نایاب اور لذیذ مچھلیاں رکھی ہوئی تھیں۔ تازہ مچھلی بھی اور وہ بھی ایسی کہ دیکھتے ہی منھ میں پانی آ جائے۔ میں نے حیرت سے پوچھا کہ یہ کہاں سے آ گئی؟
معلوم ہوا کہ شیخوپورہ سے کوئی شخص لایا ہے۔ قصہ یہ تھا کہ گزشتہ برس وہ آدمی مظفرآباد آ رہا تھا کہ برار کوٹ چوکی پر اسے بلاوجہ روک لیا گیا اور اس سے بلاوجہ تنگ کیا جانے لگا۔ وہ پریشانی کے عالم میں کھڑا تھا کہ کسی مقامی بھلے مانس نے اس کی حالت دیکھ کر اسے ذوالفقار بھائی کا نمبر دے دیا۔
رات کا وقت تھا اس وقت جب اکثر لوگ اپنے کسی قریبی عزیز کے لیے بھی گھر سے نکلنے میں تامل کرتے ہیں مگر ذوالفقار بھائی فوراً وہاں پہنچ گئے۔ انھوں نے نہ صرف اس اجنبی شخص کی دل جوئی کی بلکہ معاملہ سلجھا کر اسے اس پریشانی سے نجات دلائی۔ شاید اسی احسان کے اظہار کے طور پر وہ شخص یہ نایاب مچھلیاں لے کر آیا تھا۔
ذوالفقار بھائی کی سرشت میں ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ مصلحتوں کے اس دور میں یہ وصف کم کم دیکھنے کو ملتا ہے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب پبلک سروس کمیشن میں کامیابی کے بعد میرا پہلا تقرر گورنمنٹ کالج میرپورہ میں کر دیا گیا تو ذوالفقار بھائی کو جیسے چین نہ آیا۔ ان کے علم میں یہ بات تھی کہ میری تجویز دراصل انوار شریف کالج کے لیے ارسال ہوئی تھی۔ انھوں نے اسے ناانصافی سمجھا اور اپنے طور پر بہت مساعی کیں۔ کبھی سیکرٹریٹ کے چکر لگائے اور کبھی نظامت کے دفتر کے دروازے کھٹکھٹائے۔ میں اس وقت سرکاری ملازمت میں بالکل نیا تھا اور دفتری پیچیدگیوں سے قطعی ناواقف مگر ذوالفقار بھائی میرے ساتھ کھڑے رہے۔
انھوں نے اپنی بساط کے مطابق بہت کوشش کی لیکن منافقت اور چاپلوسی کے اس عجیب نظام میں کالج تبدیل نہ ہو سکا اور مجھے میرپورہ جانا پڑا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ وہاں کا زمانہ میرے لیے نہایت خوش گوار ثابت ہوا۔
ذوالفقار بھائی کی عادات میں ایک نہایت قابلِ تحسین عادت بیمار پرسی اور غم گساری ہے۔ کسی بیمار کی عیادت ہو یا کسی جنازے میں شرکت وہ کبھی سستی نہیں برتتے۔ اگر مہمان نوازی کی بات ہو تو میں کئی مرتبہ دل ہی دل میں حیران ہوتا ہوں کہ آخر کوئی شخص اس قدر مہمان نواز کیسے ہو سکتا ہے۔کشمیر کی مہمان نوازی انہی جیسے کرداروں کی وجہ سے مشہور ہے۔ جو ایک بار ان کے گھر آ جائے، وہ بنا تواضع کے واپس جانے کی اجازت نہیں پاتا۔
مجھے یاد ہے جب ان کے بھتیجے کا انتقال ہوا تو لوگ تعزیت کے لیے ٹولیوں کی صورت میں آ رہے تھے۔ غم کے اس عالم میں بھی گھر میں لنگر کا سا ماحول تھا۔ طرح طرح کے کھانوں اور پکوانوں سے آنے والوں کی میزبانی کی جا رہی تھی۔ اس منظر نے مجھے سکھایا کہ مہمان نوازی محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیب ہے۔
دسمبر 2025ء میں جب محکمے کے ایک فیصلے کے باعث میری جگہ ایڈہاک لیکچرر بھیج کر مجھے نظامت کے ساتھ منسلک کر دیا گیا اور تین ماہ تک میری تنخواہ جاری نہ ہو سکی تو ذوالفقار بھائی نےکئی مرتبہ کہا کہ اگر پیسوں کی ضرورت ہو تو بلا تکلف لے لینا۔ ایک دن ان کے اکاؤنٹ میں اکتیس ہزار روپے تھے۔ بڑی سنجیدگی سے کہنے لگے کہ میں تمھیں ٹرانسفر کر دیتا ہوں تمھیں ضرورت ہوگی۔ میں نے بڑی مشکل سے انھیں قائل کیا کہ میرا گزارا ہو رہا ہے۔ان کی اس پیش کش نے ایک بار پھر مجھے یہ احساس دلایا کہ خلوص پر مبنی رشتے کتنے قیمتی ہوتے ہیں۔
3 مارچ 2026ء کو جب میں ان کے گھر کچھ سامان دینے گیا تو باجی نے مسکراتے ہوئے خوش خبری سنائی کہ ذوالفقار بھائی کو بہ طور ایکسیئن (XEN) ترقی مل گئی ہے۔ یہ خبر سن کر دل میں خوشی کے ساتھ ایک عجیب سا اطمینان بھی پیدا ہوا گویا کسی حق دار کو اس کا حق مل گیا ہو۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ جناب دیوان علی خان چغتائی، وزیر تعلیم (اسکولز) آزاد جموں و کشمیر کی سرپرستی اور جناب قاضی عنایت علی، سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی متحرک اور وژنری قیادت میں محکمہ تعلیم تعمیر و ترقی کی نئی منزلیں طے کر رہا ہے۔ اسی تسلسل میں محکمہ تعلیم کے انجینئرنگ سیل کے لیے گراں قدر خدمات انجام دینے والے نہایت قابل، فرض شناس اور مخلص افسر جناب ذوالفقار احمد قریشی کا بہ طور مہتمم (XEN) ترقی پانا یقیناً ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
یہ ترقی دراصل ان کی برسوں کی ان تھک محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور شعبہ تعلیم کی بہتری کے لیے ان کے غیر متزلزل خلوص کا اعتراف ہے۔ بلاشبہ ایسے دیانت دار اور فنی بصیرت رکھنے والے افسران ہی کسی ادارے کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔
میں دل کی گہرائیوں سے انھیں اس اہم کامیابی پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت ان کے اس نئے سفر کو مزید کامیابیوں، عزت اور برکتوں سے نوازے اور انھیں اسی جذبۂ خدمت کے ساتھ ریاست اور
قوم کی خدمت جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |