عاصم بخاری کی ماحولیاتی شاعری
مبصر (پروفیسر میاں ارشد حسان)
عاصم ایک نہایت حساس شاعر واقع ہوئے ہیں لیکن ان کی حساسیت فطرت کے اس استحصال کو کسی گہرے فلسفیانہ اور سائنسی بیانیے میں نہیں الجھاتی اور نہ ہی وہ موضوع کی نزاکت کو منطقی بحث کا رنگ دے کر ثقیل اور گنجلک بناتے ہیں۔ ان کے اسلوب کی سادگی، ممد و معاون ہوتی ہے ۔
خطا ہم سے ایسی کیا ہو گئی ہے
سموگی یہ کیوں کر فضا ہو گئی ہے
دھوئیں کے کیے ہم نے اسباب پیدا
بڑی ہم سے مولا خطا ہو گئی ہے
جلایا ہے خود ہم نے فصلوں کو جب سے
یہ زہریلی تب سے فضا ہو گئی ہے
پانی حیات ہے اور حیات پانی۔ اسے ہی سرچشمہ حیات کہا گیا ہے۔( وجعلنا من الماء کل شی حی)۔ قرآن کی اس آیت( وکان عرشہ علی الماء ) یعنی رب کا عرش پانی پر تھا کی تفسیر میں مسند احمد میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے پانی کو پیدا کیا گیا۔پانی کی اہمیت مذاہب کی تعلیمات اور سائنسی علوم میں جس قدر ہے بیان ہوئی ہے شاید کسی اور چیز کی بیان ہوئی ہو۔ ہمارے ادب میں پانی کی ماہیت و خاصیت پر عجب معنی آفرینی ملتی ہے۔ ” ایک خنجر پانی میں” کی یہ سطریں تو چونکا دیتی ہیں کہ
"پانی سب یاد رکھتا ہے ساری دعاؤں اور بد دعاوں کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ وہ بولے گئے لفظوں کو اپنی یادداشت سے کبھی باہر نہیں جانے دیتا اس کا حافظہ دائمی ہے۔”
عاصم بخاری کی ماحولیاتی شاعری میں جس چیز کا ذکر سب سے زیادہ ملتا ہے وہ پانی ہی ہے۔ پانی طہارت کا وسیلہ ہے ( وینزل علیکم من السماء ماء لیطھرکم)۔ کرہ ارض کا 3/4 حصہ پانی ہے ، انسان کی جسامت کا 70 فی صد پانی اور اس کے خون کا 90 فی صد پانی ہی ہے۔ الغرض پانی کی اس درجہ اہمیت نے قلب شاعر پر وہ بارش احساس کی ہے کہ ہمیں ان کی شاعری میں مندرجہ بالا سارے حوالے مل جاتے ہیں۔
جس سمت دیکھتا ہوں میں سیلاب دوستو
اس کے بھی تو کچھ ہوں گے ہاں اسباب دوستو
اس وقت موت کا ہے جو سامان بنا ہوا
حالانکہ زندگی ہے یہی آب دوستو
سال بھر بہتے رہتے ہیں دریا ڈیم کی شکل کیوں نہیں دیتے
آ کے سیلاب نے یہی پوچھا پانی سے تو پانی سے کام تم نہیں لیتے
پانی آلودہ کارخانوں کا میں نے دریا میں گرتے دیکھا ہے
مچھلیاں جائیں گی کہاں جانے۔
عاصم بخاری کے ماحولیاتی تناظر میں لکھی گئی کچھ نظموں کے نام یہ ہیں : لگا احساس کی عینک، تمہیں یاد ہوگا، چھپڑ ،کچے مکاں، سموگی یہ کیوں کر فضا ہو گئی، فوق کا دھند کا ہر طرف راج ہے، سموگ، کارخانے۔ ان کی علامات، تشبیہات بلکہ سارا استعاراتی نظام اسی قدرتی ماحول سے کشید کردہ ہے۔ نمونے کے لیے ان کی نظم اخلاص، ہماری یہ روایت ہے، ہم ہیں پروردہ اسی ثقافت کے وغیرہ ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ حتیٰ کہ ان کی حمدیہ نظم کی تخلیق بھی اسی فطری قدرتی ماحول کے سیاق میں ہوئی ہے۔ مختصر یہ کہ کہ ان کی حمدیہ نظم میں بھی آپ کو قدرتی اور فطری ماحول کی عناصر ملیں گے۔
شکر شہری بھی ہیں بجا لاتے
شہری بھی شکر ہیں بجا لاتے
حمد ربی کا لطف گاؤں میں وہ پرندوں کا اپنی بولی میں
شکر پروردگار کا کرنا
شوق سجدہ میں جھومتا سبزہ
سجدہ شکر میں سبھی فطرت
حمد ربی کا لطف گاؤں میں
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |