جاوید الحسن جاوید کی "ابھی نظمیں ادھوری ہیں”: تجزیاتی مطالعہ
عتیق الرحمان اعوان
6 مئی 2024 بہ روز پیر ریاست جموں و کشمیر کے ادبی منظر نامے پر نعت، غزل اور نظم کے حوالے سے رقم معتبر نام جناب جاوید الحسن جاوید سے ان کے دفتر میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ محترم جاوید الحسن جاوید سیکرٹری آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے عہدہ جلیلہ پر متمکن ہیں اور ان دنوں سیکرٹری اسٹیٹ ارتھ کویک ری کنسٹرکشن اینڈ ری ہیبلی ٹیشن اتھارٹی کے طور پر تعینات ہیں۔ موصوف کی جنم بھومی ضلع سدھنوتی تحصیل پلندری ہے۔ پلندری کی آب و ہوا علم و ادب کے حوالے سے انتہائی سازگار ہے اور ادبی لحاظ سے یہ خطہ ارضی خاصا ثروت مند بھی ہے جہاں پروفیسر عبدالعلیم صدیقی جیسے نابغہ روزگار ادیب پیدا ہوئے اور دھائیوں تک دنیائے ادب کے افق پر چمکے اور اپنی روشنی اور حرارت سے نئے لکھاریوں کو نمو بخشی۔ پروفیسر عبدالعلیم صدیقی کو "ترجمان اقبال” ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے اپنے بعد پلندری کو کئی گوہر نایاب تلاش اور تراش کر دیئے جو اب اپنے حصے کا کام بہ خوبی نبھا رہے ہیں۔ ان نایاب نگینوں میں ایک نام جناب جاوید الحسن جاوید کا بھی ہے جنہیں براہ راست پروفیسر عبدالعلیم صدیقی کے شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ موصوف نے جہاں شعر و ادب میں اپنا الگ نام و مقام پیدا کیا وہیں اپنی اعلا اخلاقی اقدار اور پرکھوں سے وراثت میں ملنے والی روایات کی پاسداری میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ اعلا حکومتی عہدہ ہونے کے باوجود موصوف عاجزی و انکساری کے جذبے سے سرشار ہیں، انہیں ایک بار ملنے کے بعد بار بار ملنے کو جی کرتا ہے۔
مگر یہ طے ہے کہ جو ایک بار ہم سے ملے
کسی کا ہو بھی چکا ہو ہمارا ہوتا ہے
جناب جاوید الحسن جاوید سے ملاقات اور گفتگو کا سحر گھنٹوں طاری رہا۔ انہوں کمال محبت و شفقت سے نظموں اور قطعات پر مشتمل اپنا شعری مجموعہ "ابھی نظمیں ادھوری ہیں” اپنے دست خط کے ساتھ عنایت کیا، جو میرے لیے باعث اعزاز ہے۔ میری اس تحریر کا بنیادی مقصد ان کے اس مجموعے پر اپنی رائے کا اظہار کرنا ہے۔
"رمیل ہاوس آف پبلی کیشنز” راولپنڈی کے زیر اہتمام منصہ شہود پر آنے والی اس کتاب کا سرورق گہرے آسمانی نیلے رنگ سے مزین ہے جسے پہلی نظر دیکھنے پر ہی بے اختیار پڑھنے کا جی چاہتا ہے۔ مضبوط اور مربوط جلد بندی اضافی وصف ہے۔ مصنف نے اپنی یہ کاوش دنیا کے تمام مظلوم انسانوں کے نام کی ہے۔ جلد کے اندرونی حصے پر نظر پڑتے ہی آپ جان جائیں گے کہ مصنف کے تن بدن میں وطن کی محبت کس درجہ جاگزیں ہے:
مانو کہ زندگی کی کہانی وطن سے ہے
شعروں کا طمطراق جوانی وطن سے ہے
نغموں کا لوچ حرف کی صورت گری سبھی
سانسوں کا زیر و بم یہ روانی وطن سے ہے!!!
نظموں، نغموں اور قطعات پر مشتمل اس مجموعے کا آغاز خاتم الانبیاء و رسل، نبی برحق، محبوب خدا و خلائق حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت میں ڈوبے اس قطعے سے ہوتا ہے:
وہ داغ دہلوی تھے جو کہتے سنے گئے
مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہان کی ہے
میں نقش پا ہوں اپنے محمدؐ کا اور بس
مجھ کو خبر ملی مری مٹی جہاں کی ہے!!!
نظموں کا آغاز معاشرتی برائیوں میں موجود "ونی” جیسی قبیح رسم پر قلم کشائی سے کیا گیا ہے:
میں مویشی تو نہیں ہوں بابا!
مجھے تاوان میں دینا تھا اگر
کیا ہی بہتر تھا کہ جب آنکھ کھلی تھی میری
زندہ درگور ہی کرتے مجھ کو!!!
ہمارے معاشرے میں موجود اس قبیح رسم کے خلاف اپنے لفظوں کے ذریعے علم جہاد بلند کرنا جناب جاوید الحسن جاوید کا ہی خاصہ ہے۔
"ابھی نظمیں ادھوری ہیں” کے عنوان سے درج نظم میں شاعر اپنی گزری زندگی پر نظر ڈالتا محسوس ہوتا ہے اور اسے احساس ہو رہا ہے کہ وقت کی مہلت تو ختم ہونے کو ہے اور میزان عمل خالی ہے، شاعر اس بات کو بھی شدت سے محسوس کرتا ہے کہ اسے تو ابھی بہت کچھ کرنا ہے:
قلم کی روشنائی
ختم ہونے کو چلی آئی
مگر کاغذ تو کورا ہے
ابھی کہنے کی سننے کی
کئی باتیں ضروری ہیں
ابھی نظمیں ادھوری ہیں!!!
جاوید الحسن جاوید کہیں غریب اور بے گھر بچوں کا رونا روتے نظر آتے ہیں تو کہیں اشرافیہ اور حکمران طبقہ پر اس انداز سے طنز کرتے ہیں:
ہجوم روک کے رستہ کھڑا ہے شاہوں کا
انہیں خبر ہی نہیں ہے کہ بادشاہ کیا ہے؟
جو اس کی راہ میں آئے گا مارا جائے گا
ہجوم شاہ کی عظمت پہ وارا جائے گا!!!
"مہاجر بچے” کا عنوان لیے نظم کشمیر، فلسطین، روہنگیا، بغداد و مصر کے بچوں کے کرب میں ڈوب کر یوں صورت پذیر ہوتی ہے:
زمیں پر رینگنے والوں کا کوئی گھر نہیں ہوتا
نہ ماں کی چھاتیوں میں دودھ ہوتا ہے
نہ منہ پر نور ہوتا ہے
بدن پر بس خراشیں اور لہو کے داغ ہوتے ہیں!!!
انہیں خوابوں کو آنکھوں میں بسانے کی اجازت۔۔۔
بھی نہیں ملتی!!!
زباں ہوتی ہے لیکن
ظلم سہہ کر بھی نہیں ہلتی!!!
"پہلی دنیا کی اقوام” کے عنوان سے لکھی نظم میں اقوام عالم میں پھیلی انارکی، جنگ و جدل اور ناانصافی کے ذمہ داروں کے خلاف جاوید صاحب یوں سینہ سپر ہیں:
انہیں معلوم ہے کیسے کہاں پہ جنگ کے بادل اٹھانا ہیں
کہاں جھکڑ چلانا ہیں
کسے آگے بڑھانا ہے
کسے پیچھے ہٹانا ہے
زمیں کی گیند کو کیسے گھمانا ہے
مقابل کس کو لانا ہے!!!
انہیں معلوم ہے کیسے
کبھی بارود، میزائیل
جہاز اور فالتو پرزےبنا کر بیچنا ہیں
کس طرح سے تیسری دنیا کی قوموں کو
لڑانا اور پھر ان کو لڑا کر امن کا رستہ دکھانا ہے
انہیں معلوم ہے سب کچھ!
"امر واقعہ” نامی نظم دور حاضر کی سچی تصویر پیش کرتی اور والدین کے دکھ روتی نظر آتی ہے کہ بچے وقت آنے پر ان والدین سے کیسے منہ پھیر لیتے ہیں جنہوں نے انہیں پالنے پوسنے کی خاطر اپنی عزت نفس تک بیچ ڈالی تھی!
تو امر واقعہ یہ ہے
یہ بیوہ ہو گئی تھی
اور اس نے ناسمجھ بچوں کو یوں ہی بھیک سے پالا ہے پوسا ہے
جواں بیٹے ہیں اب اپنا کماتے ہیں
انہیں تو معاشرے میں زندہ رہنا ہے
سو وہ بھی کیا کریں آخر
اسے تو مانگتے رہنے کی عادت ہے
اسی خاطر اسے بیٹون نے اپنے گھر سے بھی باہر نکالا ہے!!!
آپ کی زیادہ تر نظمیں معاشرتی برائیوں پر وقوع پذیر ہوئی ہیں، کبھی آپ سرکاری معالجوں کے رویے پر شکوہ کناں ہیں تو کہیں کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور عالمی اداروں کی کشمیر میں ہونے والے جبر پر چشم پوشی کو بیان کرتے ہیں۔
"اقبال جرم” کا عنوان لیے ایک نظم حاکم و محکوم کے کے لیے بنائے گئے الگ الگ قانون کا رونا روتی محسوس ہوتی ہے۔
بڑی شدت کی اس دن بھوک تھی
میں نے ڈبل روٹی چرائی تھی
تو آخر دھر لیا جاتا ہے انساں کو
فطرت شناس شاعر جاوید الحسن جاوید بہت باریک بیں نگاہ رکھتے ہیں اور چہروں، رویوں اور ارادوں کو بھانپ لیتے ہیں، ان کی نظم "ترقی کا راز” اسی موضوع کے گرد گھومتی ہے کہ کیسے جھوٹ موٹ کی تعریف اور فرضی لگاوٹ انسان کو ترقی کی راہوں پر ڈال سکتی ہے۔
جاوید صاحب کی نظموں میں کہیں کہیں آپ کو مزاح کا رنگ بھی نظر آئے گا، آپ بہت خوب صورتی سے روز مرہ کی باتوں کو مزاحیہ آہنگ دیتے ہیں ایک نظم "وارننگ” کا مطالعہ آپ کو میرے اس بیان سے متفق کر دے گا۔ جاوید صاحب اپنی شاعری سے متعلق بتاتے ہہں کہ یہ ان کے بچپن کا شوق ہے کہ میں لفظو جوڑوں اور انہیں شعروں کی لڑی میں پرو کر معتبر کر دوں اور یہ سفر جاری ہے۔
"راول پنڈی شہر” کے عنوان سے لکھی نظم بہت معنی خیز ہے اور اس کا حرف حرف ذومعنی ہے، سوچنے سمجھنے والوں کے لیے اس میں بہت سبق ہے۔
محبت کے موضوع کو بھی آپ نے اپنی نظموں میں جا بہ جا جگہ دی ہے:
دل کا دروازہ کھلا رہنے دو
جانے کس وقت پلٹ آئے وہ جانے والا
صبح کو بھولا سر شام پلٹ آئے تو بھولا نہ کہو
دل کا دروازہ کھلا رہنے دو
یہ ضروری ہے بہت!!!
اور وطن سے محبت میں لکھی نظموں میں "چودہ اگست”، "وطن کا گیت”، "رد الفساد”، "ڈل کنارے پہ سرخ پھول” اور "نذر وطن” میں موصوف نے بلا کے اشعار تخلیق کیے ہیں جو قاری کے لہو میں محبت کا ابال سا پیدا کر دیتے ہیں اور جذبوں کو نئی توانائیاں بخشتے ہیں۔
نظموں کے بعد قطعات کو کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے جو زیادہ تر معاشرتی موضوعات پر مبنی ہیں اور زندگی میں وقوع پذیر ہونے والے روز مرہ واقعات کو مزاحیہ آہنگ میں بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ:
ایلو پیتھی ہو یا کوئی اور ہو طرز علاج
تم دوا لیتے رہو اک دن شفا ہو جائے گی
ہر معالج آپ سے مخلص ہے میرے دوستو
گر دوا نہ چل سکی تو فاتحہ ہو جائے گی!!!
اور
ایک خاوند مر گیا تھا دو سے لے لی تھی طلاق
اب کوئی جھگڑا ہے باقی اور نہ جنجال ہے
کاسمیٹک سرجری نے کر دیا ایسا کمال
ساٹھ کی لگتی ہیں لیکن عمر اسی سال ہے
اسی طرح ایک قطعہ یوں ہے کہ:
روز محشر جب اکٹھے تھے سبھی چھوٹے بڑے
حق نے فرمایا کہ کاغذ پر گناہ اپنے لکھو
ایک حضرت تھے جو دنیا میں بڑے اعلا وکیل
وہ لگے کہنے کہ پہلے اک اضافی شیٹ دو!!!
الغرض "ابھی نظمیں ادھوری ہیں” کے مطالعے سے آپ کو اچھی اور بامعنی شاعری کا بھرپور ذائقہ ملے گا۔ جہاں مختلف معاشرتی موضوعات کو اک قرینے سے منظوم کیا گیا ہے۔ جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ جناب جاوید الحسن جاوید شعروں کی تخلیق کا ہنر بہ خوبی جانتے ہیں۔ جو لوگ شعر و شاعری سے شغف رکھتے ہیں انہیں میں "ابھی نظمیں ادھوری ہیں” کے مطالعے کا مشورہ دوں گا۔

عتیق الرحمان اعوان کا تعلق سراڑ، ضلع مظفرآباد آزاد کشمیر سے ہے۔ آپ پیشے کے اعتبار سے اسٹینوگرافر ہیں۔ ادبی ذوق بڑے بھائی نوید الرحمان خیالی سے پایا۔سراڑ کی واحد ادبی تنظیم قلم قبیلہ کے نہایت فعال رکن ہیں۔عتیق الرحمان اعوان تبصرے اور سفرنامے لکھنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کے مضامین مقامی اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ عتیق الرحمان اعوان اپنے علاقے اور قبیلے پر ایک کتاب "حیدریم” کے خالق بھی ہیں۔ نہایت بااخلاق اور ملنسار انسان ہیں ادیبوں کے قدر دان ہیں۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |