غربت میں امیری (افسانہ )
افسانہ نگار : مقبول ذکی مقبول ، بھکر
نور محمّد کے ہاتھوں میں ہمیشہ پیاز کی خوشبو بسی رہتی تھی۔ کوٹھی کے پچھلے حصّے میں بنی تنگ سی باورچی خانے میں وہ دن بھر دیگچیاں سنبھالتا، نمک چکھتا اور وقت پر کھانا پہنچاتا۔ شام ڈھلے جب وہ گھر لوٹتا تو اس کے کپڑوں میں مصالحوں کے رنگ اور آنکھوں میں تھکن اتر آئی ہوتی۔
اس کے پاس دُنیا میں اگر کچھ تھا تو بس ایک بیٹی۔ مہوش نور۔
مہوش میٹرک پاس تھی، جیسے اس کا باپ۔ مگر اس کے لہجے میں ٹھہراؤ تھا، آنکھوں میں حیا، اور قدموں میں ایک ایسی مضبوطی جو عمر سے بڑی لگتی تھی۔ پرانا سا ٹچ موبائل اس کے دوپٹے کی جیب میں رہتا ۔ وہی موبائل جس میں اس کے باپ کی آواز آج بھی محفوظ تھی۔
“بیٹا، عزت سب سے بڑی دولت ہے۔”
کوٹھی کے مالک جان علی خان نے پہلی بار مہوش کو اس دن غور سے دیکھا جب وہ پانی کی ٹرے لیے ڈرائنگ روم سے گزری۔ قیمتی قالین، چمکتے فانوس اور خاموش دیواروں کے بیچ اس لڑکی کے قدم بے آواز تھے، مگر اس کی موجودگی صاف محسوس ہوتی تھی۔
کچھ دن بعد نُور محمّد کو بلایا گیا۔
“نور محمد،” جان علی خان نے صوفے پر ٹیک لگاتے ہوئے کہا، “تمہاری بیٹی… اگر وہ راضی ہو تو میں اس کی ذمہ داری اٹھانا چاہتا ہوں۔”
نور محمّد کے ہاتھ کانپ گئے۔ وہ خاموشی سے کھڑا رہا۔ الفاظ اس کے حلق میں اٹک گئے۔ اس نے نظریں جھکا کر کہا،
“صاحب… میری بیٹی امانت ہے۔ میں اس سے پوچھے بغیر کچھ نہیں کہہ سکتا۔”
اس رات کچے کمرے میں چراغ دیر تک جلتا رہا۔ مہوش وضو کر کے جائے نماز پر بیٹھی تو نور محمّد کی آواز لرز گئی۔ اس نے ساری بات کہہ دی۔
مہوش نے خاموشی سے موبائل نکالا، اسکرین پر انگلی پھیری۔ باپ کی ریکارڈ شدہ آواز ابھری۔
“بیٹا، دُنیا کی چمک آنکھوں کو دھوکہ دیتی ہے۔”
مہوش نے آہستہ کہا، “ابو… میں یہ نہیں کر سکتی۔”
اگلے دن جان علی خان کو جواب مل گیا۔ اس کے چہرے پر ناگواری کی پرچھائیں گہری ہو گئیں۔
“سوچ لو،” اس نے کہا، “ایسے موقعے بار بار نہیں آتے۔”
مہوش نے نظریں اٹھائیں۔ پہلی بار اس کی آواز مضبوط تھی۔
“صاحب، عزت بھی موقع ہوتی ہے۔ اور وہ ایک ہی بار ملتی ہے۔”
کچھ ہی عرصے بعد نور محمّد کا انتقال ہو گیا۔ مٹی ڈالنے کے بعد جب سب لوٹ گئے تو مہوش دیر تک قبر کے پاس بیٹھی رہی۔ پرانا موبائل اس کے ہاتھ میں تھا، مگر اب اس میں خاموشی تھی۔
وقت گزرا۔ مہوش نے سادہ سی زندگی اپنائی، بچوں کو پڑھانے لگی۔ اس کی کمرہ میں دولت نہیں آئی، مگر سکون نے گھر کر لیا۔
ادھر جان علی خان کی کوٹھی ویسی ہی شاندار رہی۔ دولت بڑھی، کاروبار پھیلا، مگر رات کے کھانے پر اکثر وہ اکیلا بیٹھا رہتا۔ ایک شام چمچ ہاتھ میں تھا، نوالہ حلق سے نہ اترا۔
کوٹھی وسیع تھی، مگر دل تنگ۔
کبھی کبھی اسے یاد آتا۔ ایک لڑکی، ایک سادہ سا جواب، اور ایک ایسی دولت…
جسے وہ خرید نہیں سکا۔
***

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |