امریکی ایپسٹین فائلز کا جنسی سکینڈل
جب بڑی سیاسی، مذہبی یا دیگر معروف شخصیات کو بدنام کرنا مقصود ہو تو ان پر جائز اور ناجائز جنسی تعلقات کے بدترین الزامات لگائے جاتے ہیں۔ مذہبی ممالک ہوں یا سیکولر، دنیا بھر میں جنسی خواہشات پائی جاتی ہیں۔ مرد اور عورت کے درمیان جنسیت کا تعلق انسانی نسل کی بقا کو قائم رکھنے سے ہے۔ لھذا فطرت نے جنسی تعلق کے اندر انتہائی لذت رکھی ہے جو آکسیجن، خوراک اور رہائش کے بعد بنی نوع انسان کی چوتھی بڑی ضرورت ہے۔ مغربی دنیا میں جنسی تعلق بنانا کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن مذہبی ممالک میں سیاسی و شخصی مخالفت، سزاوں اور بدنامی کے خوف سے انہیں خفیہ رکھا جاتا ہے، حالانکہ مشرق ہو یا مغرب، جنسی تعلق قائم کرنا پوری دنیا میں ایک کاروباری صنعت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر یہ تعلق چھپ کر قائم کیا جائے تو اس سے "دہری زہنیت” اور "منافقت” در آتی ہے۔
ہمارے پاکستانی مسلم معاشرے میں ناجائز جنسی تعلقات قائم کرنا انتہائی خطرناک ہے جس سے دشمنیاں پیدا ہوتی ہیں اور بعض دفعہ بات قتل و غارت تک بھی جا پہنچتی ہے لیکن مغربی ممالک میں شادی کی رجسٹریشن یا نکاح کے بغیر جنسی تعلقات بنانا ایک عام اور نارمل سی بات ہے۔ یہاں تک کہ ان ممالک میں 70فیصد تک بچے بغیر شادی کے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ وہاں رضامندی سے جنسی تعلق قائم کرنے اور بچے پیدا کرنے کی قانونا اجازت ہے۔ ہمارے ہاں اس کی اجازت نہ ہونے اور اس کے مجوزہ مسائل کی وجہ سے یہ تسکین حاصل کرنے کے لیئے صاحبان حیثیت عموما مغربی ملکوں کا رخ کرتے ہیں۔ وقتی جنسی تعلقات بنانے کا دھندا پاکستان اور دیگر مشرقی اور مذہبی ملکوں میں بھی خفیہ طور پر ہوتا ہے لیکن جب ایسا کوئی سکینڈل مغربی ملکوں اور خاص طور پر امریکہ جیسے لادین اور سیکولر ملک میں سامنے آئے تو وہ ان کے دہرے معیار کا مظہر ہے۔
انہی سکینڈلز میں سے ایک جنسی سکینڈل ان دنوں ڈسکس ہو رہا ہے جسے جیفری ایپسٹین نام کا ایک یہودی ہم جنس پرست (پیڈوفائل) ایک بڑے اور منافع بخش کاروبار کے طور پر چلا رہا تھا. وہ اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکیوں کو پھانس کر ان سے جنسی تعلق قائم کرتا تھا اور پھر انہیں اپنے ممبران کو بھی پیش کرتا تھا. پھر وہ ایک دن قانون کی گرفت میں آ گیا اور جیل چلا گیا جہاں اس نے خوف اور بدنامی سے تنگ آ کر خودکشی کر لی. یہ کروڑپتی اور بااثر آدمی تھا جس کے سیاستدانوں، بادشاہوں، شہزادوں، اور تاجروں سے تعلقات تھے. جو بھی اس جنسی حرم میں داخل ہوتا یا اس سے تعلقات اور رابطہ کرتا وہ ایسے ہر بندے کا نام ایپسٹین فائلز میں درج کر لیتا تھا، خواہ یہ تعلق کاروباری نوعیت کا ہی کیوں نہ ہو.
ان ایپسٹین فائلز کو پبلک کرنے کا مطالبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی پارٹی والوں نے کیا تھا. ان کا خیال تھا کہ یوں وہ ڈیموکریٹ بل کلنٹن کو رسوا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے. ٹرمپ نے الیکشن سے پہلے ایپسٹین فائلز پبلک کرنے کا عندیہ دیا تھا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ٹرمپ کی اٹارنی جزل اور جسٹس ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پامیلا بونڈی نے انہیں خبردار کیا کہ ان فائلز میں آپ کا نام نامی بھی موجود ہے. پھر ٹرمپ نے کوشش کی کہ فائلز پبلک نہ ہوں. لیکن کانگریس کی دونوں پارٹیوں ریپلکن اور ڈیموکریٹ نے بل پاس کر کے اسے ایپسٹین فائلز پبلک کرنے پر مجبور کر دیا. دعوی کیا جا رہا ہے ایپسٹین فائلز میں دنیا کے مشہور سائنس دان سٹیفن ہاکنگ کا نام بھی شامل ہے۔ سائنس کے طالب علم جانتے ہیں کہ انہیں ایک خاص قسم کی جسمانی بیماری لاحق تھی جس کی وجہ سے ان کا آدھا جسم حرکت کے قابل نہیں تھا لیکن اس سکینڈل میں انہیں بھی گھسیٹا گیا یے۔ ان فائلز کے پبلک ہوتے ہی اہل وطن کے سیاسی مخالفین کے ہاتھوں میں بھی بہانہ آ گیا یے، اب وہ اس سے دنیا کے ہر بڑے غیر مذہبی یا ملحد کو بدنام کرنے میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں. شیخ ابراہیم ذوق نے کہا تھا، "رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو، تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو۔” دوسروں کو خواہ مخواہ بدنام کرنے والے یہ بھول گئے ہیں کہ خود ایپسٹین یہودی تو تھا لیکن اس سے میل ملاقات یا رابطہ کرنے والوں کی بھاری اکثریت میں مذہبی افراد بھی شامل ہیں. ان فائلز میں پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی کوششیں کرنے والے تحریک انصاف کے لیڈر عمران خان صاحب کا نام بھی لیا جا رہا ہے. خان صاحب کی اور اس قبیل کی کچھ خواتین کے ساتھ ان کی کچھ تصاویر بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، ان فائلز میں تحریک انصاف کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی کا نام بھی شامل ہے۔ اس میں سچ کتنا ہے اور جھوٹ کتنا ہے اس سکینڈل کی مزید تفصیلات سامنے آنے پر پتہ چلے گا۔ ایپسٹین فائلز آسمان سے نازل نہیں ہوئی ہیں، یہ امریکہ کے محکمہ انصاف نے پبلک کی ہیں.
حیران کن حد تک ایپسٹین فائلیں چھ ملین سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات ہیں، جن میں تصاویر اور ویڈیوز کا مجموعہ موجود ہے۔ ان میں کون کونسے پردہ نشین شامل ہیں آپ ان کے بارے میں تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ اس سکینڈل کا بانی امریکی سرمایہ کار اور سزا یافتہ طفلی بچوں کا جنسی مجرم جیفری ایپسٹین تھا جس نے عوامی شخصیات پر مشتمل سماجی حلقوں کی مجرمانہ سرگرمیوں کی تفصیل جمع کی، جن میں سیاست دان اور مشہور شخصیات شامل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی 2024ء کی صدارتی انتخابی مہم کے دوران، ایپسٹین فائلوں کو جاری کرنے کا خیال پیش کیا تھا تاہم بعد میں انھوں نے کہا کہ یہ فائلیں ڈیموکریٹک پارٹی (ریاستہائے متحدہ) کے اراکین کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔ 18 نومبر 2025ء کو ریاستہائے متحدہ ایوان نمائندگان نے ایپسٹین فائلز شفافیت ایکٹ کو اکثریتی ووٹ سے منظور کیا، اور ریاستہائے متحدہ سینٹ نے اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ اگلے دن ٹرمپ نے اس بل پر دستخط کیے۔ ریاستہائے متحدہ محکمہ انصاف نے 19 دسمبر 2025ء کی قانونی آخری تاریخ تک ایپسٹین فائلوں کی نسبتاً کم مقدار جاری کی، جس پر دو جماعتی تنقید ہوئی۔ 30 جنوری 2026 کو 30 لاکھ سے زائد صفحات جاری کیے گئے، جن میں 2,000 ویڈیوز اور 180,000 تصاویر شامل تھیں۔ اگرچہ محکمہ انصاف نے تسلیم کیا کہ مجموعی طور پر 60 لاکھ سے زائد صفحات ایسے ہو سکتے ہیں جو ایپسٹین فائلز شفافیت ایکٹ کے تحت جاری کیے جانے کے اہل ہوں۔ تاہم 30 جنوری کی اشاعت آخری ہے اور اس نے اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں۔
ایپسٹین فائلز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، صدر کلنٹن، ان کی اہلیہ ہیلری، صدر جارج بش سینئر، ایلون مسک، بل گیٹس اور درجنوں دیگر اہم شخصیات کے نام سرفہرست ہیں۔ ایک اور بڑا نام برطانوی بادشاہ چارلس کے بھائی اینڈریو کا بھی ہے جن سے شاہی خاندان کے خطاب اور مراعات واپس لے لی گئی ہیں۔ ان کے علاوہ ہاورڈ یونیورسٹی کے صدر لیری سمرز، سلواکیہ کے قومی سلامتی کے مشیر مائرواسلاو لائچاک، برطانوی سفیر لارڈ پیٹر مینڈیل سن اور نیویارک کے مسلم میئر ظہران ممدانی جیسی شخصیات بھی شامل ہیں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |