پلٹھی کا درویش
عتیق الرحمان اعوان
غالباََ سال 2006 کا زمانہ ہو گا موضع پلٹھی کی موجودہ مسجد والی جگہ ہمارا کرکٹ کا گراؤنڈ ہوا کرتا تھا اور اس وقت سب نوجوان کرکٹ کے جنون میں مبتلا ہوتے تھے۔ علاقائی سطح پر ٹونٹی 20 کو رواج دینا بھی اسی گراؤنڈ اور اس کے کھلاڑیوں کے حصہ میں آتا ہے۔ پلٹھی کے نوجوانوں پر مشتمل دو الگ الگ ٹیمیں قائم تھیں ایک پلٹھی ٹائیگرز اور دوسری پلٹھی بادشاہ کے نام سے موسوم تھیں، محسن خان کی کپتانی میں پلٹھی بادشاہ کی ٹیم کھیلا کرتی جس میں ارشد، حبیب، فرخ، نعمان، وشال، نزاکت، عمیر وغیرہ کھیلتے تھے اور آفتاب کی قیادت میں راقم، عمران، نعیم، ابرار، قمر وغیرہ کھیلا کرتے 20 اوورز کے میچ کھیلتے اور خوب شغل میلا لگتا، ہماری ٹیم کمزور ہونے کے باوجود رینکنگ میں ہمیشہ اول رہی۔ زندگی کا وہ دور یاد آتا ہے تو سوچتے ہیں کہ وقت کتنی بڑی بلا ہے جو ہمیں گزار کے کہاں چلا گیا؟ کہاں وہ بے فکری اور کھیل کود کا زمانہ اور کہاں معاشی ناہمواریوں کے ڈسے لوگ جنہیں فکرِ معاش نے بکھیر کے رکھ دیا۔ اس تہمید کا بنیادی مقصد برادرِ صغیر وشال حسین کے شخصی کردار کو آپ کے سامنے لانا ہے جو گزشتہ روز ایک الم ناک ٹریفک حادثے کا شکار ہوئے اور اپنی ایک ٹانگ سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
برادرانِ مکرم وشال حسین عرف شالی اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہے۔ انتہائی متین شخصیت کا مالک، سادہ لوح، کم گو اور درویش منش ہے۔ ہم نے کبھی وشال کو کسی سے اونچی آواز میں بات کرتے نہیں دیکھا۔ غمِ روزگار کے بکھیڑوں نے جہاں ہم سب دوستوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیا وہیں معاملہ یہاں تک جا پہنچا کے سالہا سال ملاقات ہی ممکن نہیں ہوتی۔
وشال حسین بڑا ہونہار کرکٹر رہا، باؤلنگ میں سری لنکن پیسر ملنگا کے سٹائل میں بلا پھینکتا ہے اور بیٹنگ میں دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں سے کھیلتا ہے۔ موصوف محبت اور عزت دینے والا شخص ہے، گزشتہ سال اپریل میں اس کی شادی انجام پائی، کل شام لاہور میں ایک تیز رفتار گاڑی اس کی ٹانگوں کو کچلتی ہوئی گزر گئی۔ یہ خبر جہاں اس کے خاندان پر بجلی بن کر ٹوٹی وہیں اہل محلہ اور برادری کے تمام لوگ بھی انتہائی صدمے کی کیفیت میں ہیں۔ پورے گاؤں میں ایک سوگ کی سی کیفیت ہے، یہ لڑکا کبھی کسی کے ساتھ برے طریقے سے پیش نہیں آیا ہمیشہ عزت کے ساتھ ہر ایک کے ساتھ پیش آتا رہا۔ محلے کا ہر فرد دکھی ہے اور اس کی صحت یابی کے لیے دستِ دعا دراز کیے ہوئے ہے۔
پروردگار برادرم وشال حسین کو جلد صحت یاب کرے اور اس پر اور پورے خاندان پر اپنا فضل و کرم کرے سب کو حوصلے کے ساتھ آزمائش کی یہ گھڑی گزارنے کی توفیق دے۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |