سيف الدين حسام
سيف الدين حسام اُردو کے ممتاز ادیب، مترجم اور دست شناس ۔ گھرانے کا تعلق لدھیانہ مشرقی پنجاب سے جو تقسیم کے بعد جہلم آباد ہو گیا۔ 1949ء میں گورڈن کالج راولپنڈی سے ایف ایس سی کیا۔ مالی حالات کی بنا پر مزید تعلیم حاصل نہ کر سکے اور جہلم واپس لوٹ آئے۔ یہاں کچھ عرصہ والد کے کاروبار میں ہاتھ بٹایا۔ چار سال تک کھیوڑہ نمک کی کان میں کام کرتے رہے، شاید اسی لیے ان کا لکھا شیریں کم اور نمکین زیادہ ہے۔ مالی آسودگی نصیب ہوئی تو پڑھائی کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ 1958ء میں دریائے جہلم کے پانیوں میں پاؤں لٹکا کر بی اے آنرز کی تیاری کی اور یونیورسٹی بھر میں اول رہے۔ ایم اے اُردو اور ایم اے انگریزی کے بعد روزگار کی خاطر بغیر کسی استاد کے شارٹ ہینڈ رائٹنگ سیکھی اور پھر سٹینوگرافی میں درجہ کمال کو پہنچے ۔
اس دوران پامسٹری سے دلچسپی پیدا ہوئی جو رفتہ رفتہ جنون کی حد تک بڑھ گئی۔ پانچ برس تک قومی ڈائجسٹ لاہور میں دست شناسی کے حوالے سے مضامین لکھتے رہے جو قارئین میں بے حد مقبول ہوئے ۔ بعد ازاں یہ مضامین ”ہتھیلی کی زبان“ کے نام سے کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے۔ جہلم سے غبار کے نام سے ایک مختصر ادبی رسالے کا اجرا بھی کیا جو اپنے اختصار کے باوجود سیاسی ، صحافتی اور ادبی اہمیت کا حامل تھا۔ ” غبار کے اداریے میں عموماً سیاسی یا اخلاقی مسائل کو موضوع تحریر بنایا کرتے ۔ اُردو تراجم کے حوالے سے بھی قابلِ قدر کام کیا اور انگریزی ناولز ” جین آئر“ اور و درنگ ہائیٹس“ کے معیاری ترجمے کیے ۔ ” جین آئر کے ترجمے میں عرق ریزی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اس ترجمے کے دوران انھیں نظر کی عینک لگوانا پڑ گئی۔ بہت سی کتا میں بچوں کے لیے بھی لکھیں جو چھپ کر داد پاتی رہیں۔ 4 مارچ 1995ء کو دُنیائے فانی سے رخصت ہوئے ۔
فطرت مری مانند نسیم سحری ہے
رفتار ہے میری کبھی آہستہ کبھی تیز
پہناتا ہوں اطلس کی قبا لالہ و گل کو
کرتا ہوں سر خار کو سوزن کی طرح تیز
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |