مدد پہنچ رہی ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مطلق العنان جمہوری صدر بن کر ابھرے ہیں۔ دنیا بھر کے سیاسی تجزیہ کار ان کی جارحانہ پالیسیوں کو ڈسکس کر رہے ہیں۔ وہ امریکی مفادات کی خاطر دنیا کے کمزور ملکوں کو قابو میں رکھنے کے لیئے کوئی بھی خطرناک قدم اٹھا سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے منصوبوں اور اقدامات کے بارے کوئی حتمی پیش گوئی کرنا انتہائی مشکل ہے کیونکہ وہ تمام سابق امریکی صدور سے زیادہ "ان پریڈکٹیبل” ہیں۔ وینزویلا پر حملے اور اس کے صدر کے اغواء پر ان کا جارحانہ عالمی انداز سیاست کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ اب وہ ایران پر چڑھائی کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ صدر موصوف پوری دنیا پر اپنی جارحیت کی دھاک بٹھانا چاہتے ہیں۔ اگر وہ اسی تیز رفتاری کے انداز سے چلتے رہے تو دنیا ماضی کی "استعماریت” کو بھول جائے گی۔
آج کی دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز ترقی کی وجہ سے "گلوبل ولج” بن گئی ہے۔ سوشل میڈیا پل پل کی خبر دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچا رہا ہے۔ امریکی صدر کو چھوٹے اور کمزور مگر تیل اور ذرائع سے مالا مال ممالک امریکی کالونی لگتے ہیں۔ گرین لینڈ پر ہاتھ صاف کرنے کے بارے انہوں نے دوبارہ اپنے عزائم سے پردہ اٹھایا ہے۔ گزشتہ دنوں ٹرمپ کے ریمارکس کہ”میں تمھیں خریدنا چاہتا ہوں” پر ڈنمارک کی وزیراعظم اور پارلیمنٹ کے ممبران نے کھل کر قہقہے لگائے۔ صدر ٹرمپ گرین لینڈ کی بولی لگوا کر اسے خریدنا چاہتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس بولی میں چین اور روس شرکت نہ کریں۔عالمی سیاسی تجزیہ کار حیران ہیں کہ وہ دنیا کو کیوں اپنی ذاتی مرضی کے مطابق چلانے پر مصر ہیں؟ امریکہ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں پہلے ایسے صدر ملے ہیں جو اہم سے اہم ترین بات بھی بغیر کسی لگی لپٹی کے کہنے میں کوئی عار نہیں کرتے ہیں۔ وینزویلا کو فتح کرنے کے بعد نیویارک ٹائمز نے صدر ٹرمپ کا پینل انٹرویو کیا تو انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بے لاگ باتیں کیں۔ انہوں نے کسی لگی لپٹی کے بغیر اپنے عزائم کا کھل کر اظہار کیا۔
جب نیویارک ٹائمز نے پوچھا کہ، "کیا امریکہ کی فوجی طاقت کے استعمال پر کوئی حد ہے؟” صدر ٹرمپ نے جواب دیا، "ہاں، ایک چیز ہے، میری اپنی اخلاقیات، میرا اپنا ذہن، بس یہی وہ واحد چیز ہے جو مجھے روک سکتی ہے۔” ایک منتخب جمہوری صدر کے لیئے دیدہ دلیری پر مبنی یہ الفاظ کچھ اور ہی کہانی سنا رہے ہیں۔ اس پر مستزاد وینزویلا کے معاملے میں چین اور روس کی معنی خیز خاموشی دو ہی امکانات کو ظاہر کر رہی ہے کہ یہ دو عالمی طاقتیں امریکہ کو آمر جمہوری صدر بنا کر اسے بے پردہ کرنا چاہتی ہیں یا پھر وہ اتنی بے بس ہیں کہ وہ امریکہ کو بلاشرکت غیرے واحد "عالمی سپر پاور” تسلیم کر چکی ہیں۔ امریکی صدر نے انٹرویو دیتے ہوئے یہ بھی کہا، "مجھے بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں۔ میں کسی بین الاقوامی قانون، ضابطے، توازن یا نگرانی سے خود کو پابند محسوس نہیں کرتا،” ممکن ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ذہن میں یہ بات راسخ ہو گئی ہے کہ سابق امریکی صدور امریکی طاقت کے استعمال میں حد سے زیادہ محتاط رہے ہیں۔
وینزویلا کے بارے میں صدر ٹرمپ کا یہ کہنا تھا کہ "میں توقع کرتا ہوں کہ امریکہ برسوں تک وینزویلا کو چلائے گا اور اس کے وسیع تیل کے ذخائر سے تیل نکالے گا۔” ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق وینزویلا کی عبوری حکومت امریکہ سے بھرپور تعاون کر رہی ہے اور امریکہ کو وہ سب کچھ فراہم کر رہی ہے جس کی امریکہ کو ضرورت ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ، "ہم وینزویلا کو انتہائی منافع بخش انداز میں دوبارہ تعمیر کریں گے۔ ہم تیل استعمال کریں گے اور تیل لیں گے۔ ہم تیل کی قیمتیں کم کر رہے ہیں، اور ہم وینزویلا کو پیسہ دیں گے جس کی انہیں اشد ضرورت ہے۔”
ایران بھی تیل اور ذرائع سے مالا مال ہے۔ اسرائیل ایرانی احتجاجیوں کے حق میں پہلے ہی کھل کر سامنے آ گیا جب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے چند روز پہلے اپنے ہفتہ وار خطاب میں کہا کہ ایرانی احتجاجی اپنا احتجاج جاری رکھیں ہم ان کی مدد کے لیئے تیار ہیں۔ اب ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران میں جاری مظاہروں کے حوالے سے اس سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار کیا جب انہوں نے کہا کہ ایران کے محب وطن لوگ احتجاج جاری رکھیں، مدد پہنچ رہی ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے محب وطن لوگ احتجاج جاری رکھیں، اپنے اداروں پر قبضہ کر لیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام یاد رکھیں، انہیں بہت قیمت چکانی پڑے گی۔ اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ اپنی تمام ملاقاتیں اس وقت تک منسوخ کر دی ہیں جب تک مظاہرین کا قتل عام بند نہیں کیا جاتا۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں لکھا کہ، "مدد پہنچ رہی ہے۔”
جبکہ گرین لینڈ کے بارے میں بھی صدر ٹرمپ کے خیالات نہایت جارح ہیں۔ اسی کی دہائی تک امریکہ کو دنیا کا "پولیس مین” کہا جاتا تھا اب امریکہ اسم بامسمی ثابت ہو رہا ہے اور اس کی وجہ امریکی صدر کا دنیا کو چلانے کا یہی جارہانہ انداز سیاست ہے۔ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے لیکن امریکہ کے موجودہ صدر عالمی معاملات میں آمرانہ پالیسیوں پر عمل پیرا نظر آتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے نزدیک "ملکیت” بہت اہم ہے۔ ٹرمپ کے انداز سے لگ رہا ہے کہ وینزویلا کی طرح گرین لینڈ پر قبضے سے کم وہ کسی بات پر راضی نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ وہ اس کے لیئے نیٹو افواج کو بھی اس میں جھونکنے کا خطرہ مول لے سکتے ہیں۔
وینزویلا میں صدر ٹرمپ کی ہدایت پر جن مہلک الٹراسونک یا مائیکرو ویو ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے آپریشن کیا گیا اب لاطینی امریکہ میں بھی خوف پھیل گیا ہے اور لوگوں کو خدشہ ہے کہ امریکہ کا اگلا ہدف کولمبیا یا میکسیکو وغیرہ ہو سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی پوری کوشش ہے کہ چین کو لاطینی امریکہ سے باہر کیا جائے لیکن زمینی حقائق یہ ہیں وینزویلا، پاناما اور برازیل سمیت پورے براعظم کو دوبارہ واشنگٹن کے خصوصی دائرۂ اختیار میں لانا اتنا آسان نہیں ہے۔ خود امریکہ دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک ہے جس پر پہلے ہی کم و بیش 37 ٹریلئین ڈالر کا قومی قرضہ ہے۔ اس اعتبار سے ڈونلڈ ٹرمپ کھیل کا میز الٹنا چاہتے ہیں اور ایسا عموما وہی کھلاڑی کرتا ہے جو کھیل ہار رہا ہو۔
ڈونلڈ ٹرمپ کو معلوم ہے کہ لاطینی امریکہ، امریکہ کا عقبی دروازہ ہے لیکن وہاں پر چینی کرینیں بندرگاہوں پر کنٹینر لادتی دکھائی دیتی ہیں۔ وہاں چینی بجلی کے گرڈ سٹیشنز، ٹیلی کام کا نظام، سڑکیں اور ریلوے لائنیں حتی کہ روزمرہ زندگی کی چیزیں بھی چینی ساختہ ہیں۔ یہ انفراسٹرکچر معیشت کے لیئے ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے جسے اتنا جلدی وہاں سے غائب نہیں کیا جا سکتا یے۔ لاطینی امریکہ میں انفراسٹرکچر کو مسمار کرنے کا سیدھا سا مطلب وہاں کی کئی کمزور معیشتوں کو منہدم کرنے سے ہو گا۔ امریکہ پر پہلے سے موجود قومی قرضہ الگ ہے اور تقریباً 5 ٹریلین ڈالر کا نیا حکومتی قرض جاری کرنے کی امریکہ کو الگ سے ضرورت ہے۔ اوپر سے عالمی منڈی میں تجارت آہستہ آہستہ ڈالر کے استعمال سے نکلتی جا رہی ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ نے اب برکس ممالک کو بھی کھلی دھمکی دے ڈالی ہے۔
اس پس منظر میں اگر امریکہ کو اپنے ہی ٹریژری بانڈز خریدنے کے لئے نوٹ چھاپنا پڑے، تو ڈونلڈ ٹرمپ کے لیئے افراطِ زر کو قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اوپر سے گرین لینڈ کے علاوہ ایران کے "باغیوں” کو کھلے لفظوں میں امریکی صدر کہہ رہے ہیں کہ، "مدد پہنچ رہی ہے۔” آزاد اور خود مختار ممالک میں ایسی مداخلت کر کے امریکی صدر رسک پر رسک لے رہے ہیں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |