خبط عظمت
تحریر: ذیشان بٹ
سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، آج کوئی لفظ، کوئی جملہ یا کوئی فقرہ وائرل ہو جائے تو پھر عوام اسے دن رات چبا کر اس کا مزہ لیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں یہی کچھ ہوا جب ملک کے معروف صحافی اور جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک کے میزبان حامد میر نے اپنی گفتگو میں ایک نیا مصالحہ چھڑک دیا: خبط عظمت۔ بات چھوٹی تھی مگر مزہ دار اتنا تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا کی چٹنی میں مری میر صاحب کے یہ تیکھے الفاظ ڈبو کر ہر کوئی اپنی پسند کا نوالہ بنانے لگا۔
حامد میر نے خبط عظمت کا عنوان سیدھا سیدھا اس شخص پر لگا دیا جو پاکستان کی سیاست کا بلاشبہ سب سے بھاری بھرکم نام ہے: میاں محمد نواز شریف۔ میر صاحب کی رائے میں نواز شریف اس وہم کا شکار ہیں کہ وہ جو کہہ دیں وہی حرف آخر ہے، اور جو فیصلہ کر دیں وہی ریاست کا مقدر۔ اور میر صاحب جیسے تجربہ کار صحافی جب کسی پر کوئی لیبل لگا دیں تو پھر اسے سوشل میڈیا اسی طرح اٹھا لیتا ہے جیسے گرما گرم سموسے کے ساتھ چٹنی اٹھائی جاتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی صرف نواز شریف ہی اس مرض میں مبتلا ہیں؟
نہیں جناب، ہرگز نہیں۔ یہ بیماری تو پورے معاشرے میں وبا کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔
سیاست دان؟ ان کا تو پیشہ ہی اس خبط پر چلتا ہے۔
بیوروکریسی؟ وہاں تو کرسی کا غرور پکا، تیل لگا کر ہر روز تازہ کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر، وکیل، تاجر، استاد، مولوی… کون ہے جو اس تکبر کی چٹکی نمک اپنے دامن میں لیے پھرتا نہیں؟
اصل بات یہ ہے کہ ہم بطور قوم کسی نہ کسی درجے میں خبط عظمت کے شکار ہیں۔
ہم میں سے ہر شخص کو کوئی نہ کوئی وہم ضرور ہانکتا رہتا ہے کہ جو میں ہوں وہ کوئی نہیں، اور جو میں کر سکتا ہوں وہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔ اللہ کی نعمتوں کو اپنی محنت سمجھ کر ہم یوں اکڑتے پھرتے ہیں جیسے دنیا ہمارے نخرے اٹھانے کے لیے بنی ہو۔
اسی بات پر ایک پرانا واقعہ یاد آتا ہے۔
تین افراد تھے: ایک اندھا، ایک گنجا اور ایک کوڑی۔ تینوں نے اللہ سے دعا کی، اللہ نے صحت بھی دی، مال بھی دیا، عزت بھی دی۔ پھر جب ان کا امتحان لیا گیا تو دو صاحبوں نے تو اللہ کی نعمت پر اپنا حق جتایا، فقیر کو جھٹک دیا۔ مگر جو پہلے اندھا تھا اس نے عاجزی سے کہا کہ یہ سب تو میرے رب کا دیا ہوا ہے، لے لو جتنا لینا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے سب کچھ رکھا اور باقی دونوں سے نعمتیں چھین لی گئیں۔
یہ ہے وہ اصول جو شاید ہم بھول چکے ہیں۔
نعمت مل جائے تو وہ ہمارا کمال نہیں، اللہ کا فضل ہے۔
ورنہ دنیا میں ہزاروں لوگ دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں، حالانکہ وہ ہم سے زیادہ ذہین، قابل اور محنتی ہیں۔
کرکٹ کی مثال لے لیں۔
بابر اعظم کی فین فالوئنگ سے بڑھ کر کون سی مثال ہو سکتی ہے؟ ڈھائی سال تک سینچری نہیں بنی، لیکن عوام کی محبت ایک لمحے کو کم نہیں ہوئی۔ کیوں؟
کیونکہ بابر اعظم ایک عاجز انسان ہے۔
اکڑ نہیں، تکبر نہیں، شہرت کا بخار نہیں۔
اللہ نے اس کو عظمت بھی دی اور عاجزی بھی، اور یہی فارمولہ ہے جو کسی کو بھی بلندی دیتا ہے۔
معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے سیاست دان خبط عظمت میں مبتلا ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب اس بیماری میں کہیں نہ کہیں مبتلا ہیں۔
ہم دوسروں پر انگلی اٹھاتے ہیں مگر بھول جاتے ہیں کہ انگلیاں تین ہماری اپنی طرف ہوتی ہیں۔
اور اگر پھر بھی سمجھ نہ آئے تو انگوٹھا جو اوپر کی طرف کھڑا ہوتا ہے وہ یاد دلاتا ہے کہ اوپر کوئی اور بھی ہے، حقیقی مالک، حقیقی خالق۔
ہماری اس چھوٹی سی زمین پر، جو پوری کائنات کے مقابلے میں ریت کا ایک ذرہ ہے، ہم اپنی قوم، ذات، رنگ اور نسل کے غرور میں پھولے نہیں سماتے۔ کبھی کبھی انسان سوچتا ہے کہ اتنی لمبی اکڑ کا کیا فائدہ؟ جن چار فٹ کے کمرے میں آخر جانا ہے وہاں تو کوئی پروٹوکول نہیں چلتا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اصلاح صرف سیاست دانوں کی نہ ہو، اصلاح ہم سب کی ہو۔
اساتذہ، علمائے کرام، پڑھے لکھے لوگ، اہل علم اور بااثر طبقات… سب اپنے اپنے حلقے میں عاجزی اور شکر کا درس دیں۔
ہم اپنی اگلی نسل کو یہ نہ بتائیں کہ تم سب سے بہتر ہو؛
بلکہ یہ سکھائیں کہ تم اللہ کی عطا سے بہتر ہو، اپنی محنت سے نہیں۔
خبط عظمت کا علاج بڑے ہسپتالوں میں نہیں ملتا۔
یہ دل کے اندر سے نکلنا ہوتا ہے، ضمیر کی صفائی سے بدلتا ہے، عاجزی کے پودے سے اگتا ہے۔
اگر یہ سمجھ آگیا کہ جو کچھ ہے اللہ کا فضل ہے تو پھر نہ ہم سیاست کو گالی دیں گے، نہ سیاست دان کو، نہ میڈیا کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔
ہم پھر اپنی باری پر خود بھی انسان بننے کی کوشش کریں گے۔
یہی اصل اصلاح ہے۔ یہی اصل تجزیہ۔ یہی اصل علاج۔
Title Image by Gerd Altmann from Pixabay

محمد ذیشان بٹ جو کہ ایک ماہر تعلیم ، کالم نگار اور موٹیویشنل سپیکر ہیں ان کا تعلق راولپنڈی سے ہے ۔ تدریسی اور انتظامی زمہ داریاں ڈویژنل پبلک اسکول اور کالج میں ادا کرتے ہیں ۔ اس کے علاؤہ مختلف اخبارات کے لیے لکھتے ہیں نجی ٹی وی چینل کے پروگراموں میں بھی شامل ہوتے ہیں
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |