تعلیم اور معاشی چیلنجز کے بارے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا وعدہ
ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی
خیبر پختونخوا کی تاریخ میں تعلیم ہمیشہ ایک حساس موضوع رہی ہے۔ اس خطے نے بدامنی، معاشی دباؤ اور وسائل کی کمی کے باوجود اپنے نوجوانوں کو آگے بڑھانے کی حتی المقدور کوشش کی ہے۔ پشاور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں ہونے والا حالیہ جاب فیئر اسی تسلسل کا حصہ تھا، جہاں وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل خان آفریدی نے موجودہ حالات اور مستقبل کے لائحۂ عمل پر کھل کر بات کی۔
وزیرِ اعلیٰ کی یہ بات اہم ہے کہ کبھی طلبہ خود کمپنیوں کے دروازے کھٹکھٹاتے تھے اور آج دو ہزار طلبہ مختلف کمپنیوں کے ساتھ رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ یہ تبدیلی صرف ایک تعلیمی ادارے کی کامیابی نہیں، بلکہ پورے صوبے میں بڑھتی ہوئی پیشہ ورانہ بیداری کی علامت ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے انٹرن شپ پالیسی کی تیاری بھی اسی سفر کا اگلا قدم ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس پر سنجیدگی کے ساتھ عمل ہو۔
ایک اور پہلو جو نظرانداز نہیں ہونا چاہیے، وہ اُن طلبہ کا مستقبل ہے جو کسی مجبوری کے باعث تعلیم مکمل نہیں کر پاتے۔ وزیرِ اعلیٰ کا یہ کہنا کہ حکومت انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی، ایک مثبت سوچ ہے۔ خیبر پختونخوا میں بے شمار نوجوان ایسے ہیں جو مالی مشکلات یا سماجی دباؤ کے باعث پڑھائی ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی ان کے لیے مؤثر پروگرام بناتی ہے تو یہ صوبے کے سماجی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے انجینئرنگ میں بڑھتی ہوئی طالبات کی تعداد کا ذکر بھی کیا۔ یہ تبدیلی محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ اس صوبے کے بدلتے ہوئے سماجی رویوں کا ثبوت ہے جہاں بیٹیاں اب عملی میدان میں اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔
تقریب کے دوران وزیرِ اعلیٰ نے این ایف سی ایوارڈ اور قبائلی اضلاع کے حقوق کے حوالے سے جو سوالات اٹھائے، وہ برسوں سے زیرِ بحث ہیں۔ 2018 کے انضمام کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ قبائلی اضلاع کو مکمل آئینی اور مالی حقوق ملیں گے، مگر یہ سفر ابھی ادھورا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کے مطابق صوبے کا حق 19.4 فیصد بنتا ہے مگر اسے صرف 14.6 فیصد مل رہا ہے، جس کے باعث صوبے کو ہر سال 400 ارب روپے تک کا نقصان ہو رہا ہے۔ ان اعداد و شمار کے بارے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا یہ بیان محض مالی مسئلے کے بارے میں ہی نہیں، بلکہ حکومتی ترجیحات کے بارے میں بنیادی سوال بھی ہیں۔
وفاقی حکومت کی طرف سے خیبر پختونخوا کے 1300 ارب روپے این ایف سی کی مد میں اور 2200 ارب روپے نیٹ ہائیڈل منافع کے حوالے سے واجب الادا ہیں۔ اگر یہ رقم صوبے کو بروقت ملتی, تو تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی تھی۔
وزیرِ اعلیٰ کا ہر پیر کو تمام جامعات میں این ایف سی کے حوالے سے سیمینار کرانے کا اعلان ایک سیاسی پیغام بھی ہے اور سماجی بیداری کی کوشش بھی۔ یہ ضروری ہے کہ نوجوان صرف ڈگریاں نہ لیں بلکہ ملکی معاشی ڈھانچے کے بارے میں آگاہی بھی حاصل کریں۔
وزیرِ اعلیٰ نے کرپشن کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی سطح پر 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی۔ یہ الزام اپنی جگہ ایک سنگین سوال کھڑا کرتا ہے کہ آخر اس رقم کا حساب کون دے گا۔ ملک کا پیسہ بیرون ملک جائیدادوں میں لگانے کی بات پہلی بار نہیں کہی جا رہی۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس پر کبھی طویل المدت اور غیر جانبدارانہ کارروائی نہیں ہوتی۔
القادر ٹرسٹ اور عمران خان سے متعلق ان کے تبصرے بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صوبائی حکومت اس مقدمے پر سخت تحفظات رکھتی ہے۔ اگر واقعی سیرت النبی ﷺ کی تعلیم وہاں دی جا رہی تھی، تو پھر سزا کس بنیاد پر دی گئی؟ یہ سوال سیاسی بھی ہے اور اخلاقی بھی۔ لیکن اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ قانون اور انصاف کے پیمانے سب کے لیے ایک جیسے ہوں۔
وزیرِ اعلیٰ کا یہ کہنا کہ وہ اپنے خون کے آخری قطرے تک کرپشن کے خلاف آواز اٹھائیں گے، ایک بلند دعویٰ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ دعویٰ عملی قدم میں بدلتا ہے یا محض ایک سیاسی نعرہ ثابت ہوتا ہے۔
خیبر پختونخوا کے نوجوان اس وقت دو بڑے چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ معاشی عدم استحکام اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم۔ جاب فیئر جیسے اقدامات امید دلاتے ہیں، مگر این ایف سی، قبائلی اضلاع کے حقوق اور کرپشن جیسے مسائل ان امیدوں کو کمزور بھی کرتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان تعلیم اور ہنر کے ساتھ ساتھ معاشی اور سیاسی شعور بھی حاصل کریں۔ ریاست کے نظام میں جہاں کہیں بھی ناانصافی ہو، اس پر مؤثر آواز اٹھانا ہی ایک باشعور معاشرے کی پہچان ہے۔
رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق چترال خیبرپختونخوا سے ہے، اردو، کھوار اور انگریزی میں لکھتے ہیں۔ آپ کا اردو ناول ”کافرستان”، اردو سفرنامہ ”ہندوکش سے ہمالیہ تک”، افسانہ ”تلاش” خودنوشت سوانح عمری ”چترال کہانی”، پھوپھوکان اقبال (بچوں کا اقبال) اور فکر اقبال (کھوار) شمالی پاکستان کے اردو منظر نامے میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں، کھوار ویکیپیڈیا کے بانی اور منتظم ہیں، آپ پاکستانی اخبارارت، رسائل و جرائد میں حالات حاضرہ، ادب، ثقافت، اقبالیات، قانون، جرائم، انسانی حقوق، نقد و تبصرہ اور بچوں کے ادب پر پر تواتر سے لکھ رہے ہیں، آپ کی شاندار خدمات کے اعتراف میں آپ کو بے شمار ملکی و بین الاقوامی اعزازات، طلائی تمغوں اور اسناد سے نوازا جا چکا ہے۔کھوار زبان سمیت پاکستان کی چالیس سے زائد زبانوں کے لیے ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کا کیبورڈ سافٹویئر بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کرکے پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کرنے والے پہلے پاکستانی ہیں۔ آپ کی کھوار زبان میں شاعری کا اردو، انگریزی اور گوجری زبان میں تراجم کیے گئے ہیں ۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |