17 رمضان المبارک ، یومُ الفُرقان ، روزِ فتحِ مبین ، یعنی روزِ بدر

badar

جب حق عددی قلّت کا شکار تھا اور باطل کثیر تھا ، ہاں مگر حق پر قائم لوگوں کی اُمّیدیں قلیل مگر مقاصد جلیل تھے  اُنہیں پیغامِ رسالت مآب صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم پر کامل ایمان تھا اور وہ جانتے تھے کہ

            فَنا فِی اللہ کی تہہ میں بقاء  کا  راز مُضمِر ہے

              جسے  مرنا  نہیں  آتا  اُسے  جینا  نہیں آتا

یہ وہ عظیم لوگ تھے جن پر زندگی کی یہ حقیقت عیاں ہو جاتی  ہے کہ موت و زیست کا مالک ومختار فقط اللہ رَبُّ العِزّٙت ہی کی ذات ہے ۔ وہ موت سے نہیں ڈرتے بلکہ موت اُس سے ڈرتی   ہے ۔ اور ایسے ہی مومنین کے لیے سورۃ الانفال کی دوسری آیت میں ارشادِ ربانی ہوا کہ

اِنَّمَاالْمُوْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَاللهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْھِمْ اٰيٰتُه، زَادَتْھُمْ اِيْمَاناً وَّ عَلیٰ رَبِّھِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ * (سورۃ الانفال آیت 2)

سچے ایمان دار تو بس وہی لوگ ہیں کہ جب اُن کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اُن کے دلوں کو جِلا ملتی ہے اور جب اُن کے سامنے اُس کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو اُن کے ایمان کو مزید بڑھاوا ملتا ہے اور پس یہی لوگ تو اپنے پروردگار پر کامل بھروسہ رکھتے ہیں

17 رمضانُ الکریم 2 ہجری کو بھی کچھ ایسا ہی معرکہءِ عشق وقوع پذیر ہُوا ۔ جہاں 950 صنادیدِ قریش ابو جہل ( عمروبن ہشام ) کی قیادت میں مدینہ منورہ سے 120 کلومیٹر دور مقامِ بدر پر جمع ہُوئے ۔ ان کے ساتھ 100 گھوڑے 700 اونٹ اور اپنے دور کا جدید اسلحہ سب کچھ تھا ۔ دوسری طرف 313 مسلمان اپنے نبیِ رحمت ختمیِ مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت میں مدینہ سے نکلے اور ان کے پاس فقط 2 گھوڑے اور 70 اونٹ اور ناکافی اسلحہ ۔ مگر پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ نبیِ رحمت صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم نے دربارِ الٰہی میں کچھ یوں دعا فرمائی کہ ربّ دوجہاں نے فوراً شرفِ استجابت عطا فرمایا اور سُورَةُ الاَنفال کی آیت 9 میں یوں ارشاد فرمایا کہ

اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْملٰإئِكَةِ مُرْدِفِيْنَ *یہ وہ وقت تھا جب آپؐ اپنے پروردگار سے فریاد کر رہے تھے تو اللہ نے آپؐ کی سُن لی اور جواب دیا کہ میں آپؐ کی لگاتار ہزار فرشتوں کے ذریعے مدد کروں گا

اللہ کریم نے فرشتوں کے ذریعے امداد فرمائی ۔ اُس دور کے اصولِ حرب کے تحت تین صنادیدِ قریش (پہلوان) ۔ عُتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ اور اس کا بیٹا ولید بن شیبہ ۔۔۔۔ میدان میں اترے ۔ سرکارِ رسالتمآب صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مقابلے میں عبیدہ بن الحارث ، حمزہ بن عبدالمطلب ، اور علی بن ابی طالب کو میدان میں اتارا ۔ تینوں کفار واصلِ جہنم ہُوئے ۔ اللہ تعالٰی کی نصرت و تائید سے اس معرکہءِ حق وباطل میں مسلمان فتح مند ہُوئے ۔ اسی معرکے میں ابو جہل واصلِ جہنم ہُوا اور کفار کی طاقت پارہ پارہ ہُوئی  ۔  70 مشرک قتل ہُوئے ، 70 قیدی ہُوئے جبکہ 14 مسلمان شہید ہُوئے اور اس فتح کے بعد سورۃ الانفال کی دسویں آیت میں اس فتح کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ

وَمَا جَعَلَهُ اللهُ اِلَّا بُشْریٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوبُكُمْ ج وَمَاالنَّصْرُ اِلَّا مِنْ عَنْدِاللهِ ط اِنَّ اللهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ *

اوریہ غیبی امداد اللہ نے صرف آپؐ کی خُوشی کی خاطر کی تھی تاکہ تمہارے دل مطمئن ہو جائیں اور یاد رکھو کہ مدد اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہو ہی نہیں سکتی بے شک اللہ غالب اور حکمت والا ہے ۔

اس دن کو اللہ تعالی نے قُرآن مجید میں یَومُ الفُرقان ۔ یعنی حق وباطل کے درمیان فرق کرنے والا دن قرار دیا،

اس ماہ رمضان میں سورۃ الانفال کو ترجمہ کے ساتھ پڑھ لیجیئے موجودہ دور کی بہت سی خرابیوں کی وجوہات اور ہر سوال کا جواب مل جائے گا ۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آج مسلمانوں کےلیئے ایسی نُصرت مِن جانبِ اللہ  کیوں نہیں  آتی ؟ ۔ تو اس کا جواب علامہ اقبال نے کچھ یُوں دیا ہےکہ

فضائے  بدر  پیدا  کر فرشتے  تیری  نُصرت  کو

اُتر سکتے ہیں گردُوں سے قطار اندر قطار اب بھی

  ضرورت فضائے بدر پیدا کرنے کی  ہے قُرآن کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی ہے مگر افسوس کہ یہاں تو قبل از اسلام کے زمانہءِ جاہلیت کی فضا سے بھی بد تر حالات ہو چکے ہیں  ۔

اے خاصہءِ خاصانِ  رُسُلؐ وقتِ دعاہے  ۔

monis raza

سیّد مونس رضا

مونس رضا

ریٹائرڈ او رینٹل ٹیچر گورنمنٹ پائیلیٹ ہائر سیکنڈری اسکول اٹک شہر

Next Post

اٹک میں پنجابی "کیمبل پوری لہجہ" میں نعتیہ مشاعرہ

ہفتہ مئی 1 , 2021
کاروان قلم اٹک کے زیر اہتمام 28 اپریل کو ایک پنجابی محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت معروف شاعر و ادیب احسان الٰہی احسن نے کی
iattock